لاہور بم دھماکہ، پی،ایس،ایل کے حوالے سے نتیجہ، جلد بازی ہے

لاہور بم دھماکہ، پی،ایس،ایل کے حوالے سے نتیجہ، جلد بازی ہے
لاہور بم دھماکہ، پی،ایس،ایل کے حوالے سے نتیجہ، جلد بازی ہے

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

دہشت گردوں کا رخ بلوچستان اور وہ بھی خصوصاً کوئٹہ اور نواح میں تھا، یا پھر خیبر پختونخوا پر نظر تھی، اورکراچی میں کھیل جاری تھا، پنجاب کی حد تک معاملہ پر سکون ساتھا، مزار داتا گنج بخش ؒ اور تھانہ سول لائنز کے بازو میں دھماکوں کے بعد کوئی بڑی واردات نہیں ہوئی تھی، اگرچہ اس حوالے سے بہت کچھ کہا جارہا تھا، خدشات بھی تھے، اور اب تو یہ بھی ظاہر ہوا کہ کچھ روز قبل الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم یہ سانحہ ہوگیا، اس کے لئے جو عذر اور جو بھی وجہ بیان کریں، حقیقت تو اپنی جگہ ہے کہ خود کش بمبار نے اپنی جان کے عوض تیرہ سے زیادہ جانیں لیں اور ستر،اسی افراد زخمی بھی ہوئے ان میں سے کچھ زیا دہ بھی ہیں۔

اس سانحہ کے بعد جس میں دو اعلیٰ پولیس افسر بھی شہید ہوئے ہم من حیث القوم جلد جلد نتائج اخذ کرنا شروع ہوگئے اور فوراً ہی یہ بھی طے کر لیا کہ یہ سب پی، ایس، ایل کا فائنل رکوانے کے لئے ہوا، کسی نے غور نہیں کیا کہ افغانستان میں متعین ایک امریکی کمانڈر نے تازہ ترین الزام نما انکشاف کیا کہ طالبان نے داعش کا بھی ایک ونگ بنا لیا ہے، ہمارے پشاور کے رپورٹر نے اپنی ڈائری میں سوال اٹھایا کہ داعش کی طرف سے حال ہی میں جو دھمکی دی گئی ہے اس سے اس کے وجود کا علم ہو جانا اور مان لینا چاہئے لیکن ہم ہیں کہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔

جہاں تک پی،ایس، ایل کے فائنل تک کا تعلق ہے تو یہ سوچ ہماری اس فکر کی عکاسی ہے جس کے مطابق ’’را‘‘ کا نیٹ ورک کام کررہا ہے اور کلبھوشن یادیو کے بیان سے ثابت بھی ہوتا ہے، لیکن کیا یہ اسی طرح درست ہے ؟ نہیں یہ ایسا نہیں ہے کہ ’’را‘‘ تو اپنا کام مستقل بنیادوں پر کررہی ہے یہ تو کسی اور کا کام ہے اور اس امکان پر غور کیا جاسکتا ہے کہ اس نیٹ ورک سے ’’را‘‘ بھی منسلک ہو کہ بھارت کو پاکستان میں سکون اور چین قبول نہیں، بے شک ہم اب بھی اس سوچ میں مبتلا ہوں کہ بالآخر مذاکرات تو ہوں گے اور پھر تجارت بھی ہو جائے گی جو ان تمام تر مخدوش حالات کے باوجود ایک حد تک جاری ہے۔

ذرا غور کریں تو سانحہ کے فوراً بعد بیانات کا بھی ایک سونامی آگیا، ہر بیان کو اٹھا کر دیکھ لیں اس کی نوعیت میں یکسانیت ہے، کسی بھی دہشت گردی کے ایسے واقع کا رد عمل ملاحظہ فرمائیں تو الفاظ بھی وہی ہوں گے جو پہلے کہے جاچکے۔

بات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تھوڑے سے تدبر کی ضرورت پڑجاتی ہے، ہمیں فوری طور پر پی، ایس ، ایل پر جانے کی ضرورت نہیں، ماضی قریب ترمیں ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ کالعدم لشکر جھنگوی کے مطلوب افراد نے داعش سے رابطے بڑھائے اور داعش کے لئے بھرتی بھی ہو رہی ہے، تربیت کے بارے میں بھی ہمارے دفتر خارجہ نے بیان دیا تھا، یوں یہ عیاں ہے کہ افغانستان میں بہت کچھ ہو رہا ہے ، جس کے اثرات ہم پر مرتب ہوتے ہیں، اور ہم کیا عمل کررہے ہیں، ہم سیاسی منافقت میں الجھے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر پاتے اور جو کام ہونا چاہئیں وہ اسی محاذ آرائی کی وجہ سے ہو نہیں پاتے، ذرا غور کریں تو صاف پتہ چلے گا کہ بلوچستان میں ’’را‘‘ کی مداخلت اور کلبھوشن جیسے سرکاری بھارتی جاسوس کے اعتراضات کے باوجود ہم وہ فائدے حاصل نہیں کرپا ئے جو ہو سکتے تھے، ذرا اس کا جواب بھی سوچیں کہ ایک پارلیمانی گول میز کانفرنس میں قومی سلامتی کمیٹی تک کی تشکیل نو کا فیصلہ ہو گیا تھا، اس کا کیا بنا کیا عمل ہوا؟ آخر کیوں نہیں ہم اہم ترین قومی مسائل پر یکساں موقف اختیار کرسکتے اور قومی سطح پر تعاون کا سلسلہ نہیں ہوتا؟ اس کا جواب کون دے گا۔

یہ جو خود کش حملہ ہوا، کیا یہ اس لئے نہیں کہ دہشت گردوں نے کچلے ہوئے سانپ کی طرح ڈسنے کی کوشش کی اور ہمارے دعوؤں کے جواب میں اپنے وجود کا احساس دلایا کہ ایک ہی روز بلوچستان سے لاہور اور پھر جنوبی وزیرستان تک دھماکے کردیئے، اس سے تو یہی ثابت کیا گیا کہ وہ ہیں، یوں بھی خودکش بمبار کو موقع پر روک لینا بہت ہی مشکل اور خوش قسمتی والا مسئلہ ہے، یہ تو نیٹ ورک کی تلاش ہی سے ممکن ہے جیسا کہ ضرب عضب آپریشن سے کیا گیا، اس امر سے بھی کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ کاؤنٹر ٹیرزم ڈیپارٹمنٹ والے جان ہتھیلی پر لئے بہت سرگرم ہیں ، گلشن اقبال علامہ اقبال ٹاؤن میں دھماکہ کے سہولت کارپکڑے گئے ہمارے سیکیورٹی اداروں کی رپورٹ بھی ہے کہ ہزاروں مشتبہ گرفتا ر کئے اور ان میں سے دہشت گرد بھی برآمد ہوئے، لیکن یہ پریشانی ہے کہ یہاں یہ دہشت گرد اکٹھے ہوتے جا رہے ہیں، کالعدم تنظیموں والے گٹھ جوڑ کر کے تحریک طالبان اور وہاں سے داعش کے ساتھ مل رہے ہیں اور داعش براستہ افغانستان خطے میں قدم جما رہی ہے۔

یہ سب چھپ چکا، سامنے آیا، اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ داعش ہے کیا؟ اس کے سربراہ ابو بکر بغدادی کے بارے میں دو رپورٹیں ہیں ایک یہ کہ بغدادی گوانتاناموبے میں تھا وہاں سے رہا ہو کر لبنان پہنچا اور وہاں آنے کے کچھ عرصہ بعد خلافت کا اعلان کردیا، اس کے ساتھ ہی اسے کالعدم حزب التحریر مل گئی جو پہلے ہی خلافت کے نام پر مہم چلا رہی تھی، پھر یہ بھی قابل غور ہے کہ یہ داعش اور اسلام کے داعی فرقہ واریت میں کیوں مبتلا ہیں، اگر یہ مسلمان اور راسخ العقیدہ ہیں تو انہوں نے مساجد، مقابر اور درسگاہوں کا احترام کیوں نہیں کیا، انہوں نے تو بہت کچھ مسمار کردیا، یہ بھی کہا گیا کہ یہ تنظیم سی، آئی، اے کے زرخیز دماغ کی اختراع ہے جو مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کئے رکھنے کے فرائض انجام دے رہی ہے اور چونکہ دین کے نام پر یہ سب کیا جارہا ہے اس لئے ان کو حمائت بھی مل جاتی ہے ذرا تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ سی، ٹی، ڈی اور ہماری ایجنسیوں کو کتنی مشکلات کا سامنا ہے کہ یہ ہمارے شہروں میں مدارس ہی میں پناہ لیتے ہیں، اور یہاں مدارس مقدس ہیں، ہمارے دینی راہبر دہشت گردی اور دہشت گردوں کو دائرہ اسلام سے خارج جانتے اور فتوے بھی دیتے ہیں لیکن مدارس کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیتے، ہمیں مجموعی قومی پالیسی کی ضرورت ہے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ پھر سے کل جماعتی کانفرنس والا ماحول بنایا جائے، جو فیصلے ہوئے اور ان پر عمل نہیں ہوا ان کو روبہ عمل بھی لایا جائے اور نئی حکمت عملی بھی ترتیب دی جائے، اس میں عوام کی معاونت لازم ہے اور اس کے لئے بھی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے، آپریشن ضرب عضب کی طرف پر ان کے ٹھکانوں کو ختم کریں وہ چاہے ملک سے باہر ہیں یا ملک کے اندر، خدا را! قومی اتفاق رائے کا انتظام کریں، ورنہ ایساسانحہ پھر بھی ممکن ہے۔

مزید :

تجزیہ -