’’سر پھرا ہوں،مجھے مار دیجئے ‘‘

’’سر پھرا ہوں،مجھے مار دیجئے ‘‘

  

لاہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے)سانحہ لاہور میں شہید ہونے والے ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن ریٹائرڈ سید احمد مبین بہادر انسان اور قابل ترین افسر تھے جن کی شہادت پر ساری قوم سوگوار ہے۔ڈی آئی جی احمد مبین نے پنجاب اور بلوچستان میں دہشت گرد ی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا اور مختلف آپریشنز میں کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔بہادر افسر نے اپنی شہادت سے چند دنوں قبل اپنے فیس بک اکاونٹ پر ایک نظم شیئر کی جس کا عنوان ’’سر پھرا ہوں،مجھے مار دیجئے‘‘تھا۔شہید افسر احمد مبین کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم مستونگ کیڈٹ کالج سے حاصل کی،ان کے والد پیشے سے ڈاکٹر تھے۔

کافر ہوں، سر پھراہوں، مجھے مار دیجیے

میں سوچنے لگا ہوں ، مجھے مار دیجیے

ہے احترامِ حضرتِ انسان میرا دین

بے دین ھو گیا ہوں، مجھے مار دیجیے

میں پوچھنے لگاہوں سبب اپنے قتل کا

میں حد سے بڑھ گیا ہوں، مجھے مار دیجیے

کرتا ہوں اہل جبہ ودستار سے سوال

گستاخ ھو گیا ہوں، مجھے مار دیجیے

خوشبو سے میرا ربط ہے جگنو سے میرا کام

کتنا بھٹک گیا ہوں، مجھے مار دیجیے

معلوم ہے مجھے کہ بڑا جرم ہے یہ کام

میں خواب دیکھتا ہوں، مجھے مار دیجیے

زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش

میں خوب جانتا ہوں، مجھے مار دیجیے

بے دین ہوں مگر ہیں زمانے میں جتنے دین

میں سب کو مانتا ہوں، مجھے مار دیجیے

پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ہو کا شور

میں آخری صدا ہوں، مجھے مار دیجیے

میں ٹھیک سوچتا ہوں، کوئی حدمیرے لیے؟

میں صاف دیکھتا ہوں، مجھے مار دیجیے

یہ ظلم ہے کہ ظلم کو کہتا ہوں صاف ظلم

کیا ظلم کر رھا ہوں، مجھے مار دیجیے

میں عشق امن ہوں ،میں علم ہوں، میں خواب

اک دردِ لا دو ہوں ، مجھے مار دیجیے

زندہ رہا تو کرتا رہوں گا ہمیشہ پیار

میں صاف کہہ رہاہوں، مجھے مار دیجیے

جو زخم بانٹتے ہیں انہیں زیست پہ ہے حق

میں پھول بانٹتا ہوں، مجھے مار دیجیے

ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد

باغی بہت بڑا ہوں، مجھے مار دیجیے

بارود کا نہیں مرا مسلک درود ہے

میں خیر مانگتا ہوں، مجھے مار دیجیے‘‘

سرپھر اہوں

مزید :

صفحہ اول -