کراچی میں رینجرز کا آپریشن ہو سکتا ہیتو پنجاب میں کیوں نہیں : عمران خان

کراچی میں رینجرز کا آپریشن ہو سکتا ہیتو پنجاب میں کیوں نہیں : عمران خان

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاکہ ساری قوم شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے ، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوتا تو ملک میں دہشتگردی کے واقعات رونمانہ ہوتے، جسٹس فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر عمل ہونا چاہئے تھا ابھی بھی اس پر غور کرنا چاہئے، عمران خان نے لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں سانحہ مال روڈ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ شہیدوں کے اہلخانہ کے لئے بہت مشکل وقت ہے اور ہم شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، عمران خان نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوتا تو دہشتگردی نہ ہوتی اور اگر کراچی میں رینجرز آپریشن ہوسکتا ہے تو پنجاب میں کیوں نہیں۔اس موقع پر تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین ، عبدالعلیم خان، بریگیڈیر(ر) اعجازشاہ ، شعیب صدیقی، ڈاکٹر شاہد صدیق خان، میاں اسلم اقبال ، جمشید اقبال چیمہ، ڈاکٹر سہیل ظفر چیمہ ،نذیر چوہان ، مہرواجد عظیم ، آجاسم شریف سمیت دیگر رہنماء بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پنجاب میں مسئلہ ہے تو جودہشتگرد دندناتے پھر رہے ہیں ان کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا ، (ن) لیگ کس کو بچانے کی کوشش کررہی ہے ، نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں نے دستخط کئے تھے اور اسے فوری طور پر نافذ کریں، عمران خان نے کہاکہ پولیس کو غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہوناچاہئے، رینجرز اور پولیس پر نہ چھوڑا جائے کہ دہشتگردی ختم کریں گے ، پولیس کا محکمہ ٹھیک ہونے میں حکمران سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ، (ن) لیگ پولیس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں ہم نے کوئی جادو نہیں کیا صرف پولیس کو غیر سیاسی اور غیر جانبدار کیا اور اب خیبرپختونخوا کی پولیس پاکستا ن کی مثالی پولیس ہے ،ہم پنجاب اور سندھ میں پولیس سیاسی اثر سے پاک کرنے کا بل لائیں گے، پنجاب اور سندھ میں پولیس بگڑرہی ہے ، انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ اور حمزہ شہباز رائیونڈ میں بیٹھ کر ایس ایچ اوز کی تعیناتی کرتے ہیں (ن) لیگ کی بدنیتی یہ ہے کہ پولیس کو استعمال کرتے ہیں اورمخالفوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے جھوٹی ایف آئی آر درج کرواتے ہیں، پولیس کو ٹھیک کئے بغیردہشتگردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا، پولیس گراس روٹ تک کام کرتی ہے پولیس بہتر ہوگی تو دہشتگردی بھی ختم ہوگی، خبیرپختونخوا اسمبلی سے منظور کیا گیا ہے پولیس ایکٹ سندھ اور پنجاب اسمبلی میں بھی پیش کریں گے،حکمران بدنیت ہیں یہ پولیس ٹھیک نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ فاٹا اصلاحات دوسرا بڑا ایشو ہے ، فاٹا اور کے پی کے کا انضمام وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ آپریشن ضرب عضب کا فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں تو فاٹا اصلاحات پر فوری عملدرآمد کریں، اگر فاٹا کے عوام کو نوکریاں نہ دی گئیں تو دہشتگردی کے واقعات دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ ہے،فاٹا کو فوری طورپر کے پی کے میں ضم کرنا چاہئے ، سارا فاٹا اجڑا ہوا ہے ،فاٹامیں خیبرپختونخوا کے قوانین آہستہ آہستہ نافذ کرنا ہوں گے۔نوازشریف کو پانامہ سے اپنی جان چھڑانے کے علاوہ گورننس کی کوئی فکر نہیں، نوازشریف کو پانامہ سے جان بچانے کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا ہے، نوازشریف نے یوسف رضا گیلانی کو استعفے ٰ دینے کا مشور ہ دیا تھا، الطاف حسین نے بھی نیشنل ایکشن پلان پر ایم کیو ایم سے سائن کروائے ،لاہور میں پی ایس ایل کو رکوانے کے لئے یہ سازش بھی ہو سکتی ہے ،ہمارے کھلاڑی تو نہیں لیکن غیر ملکی کھلاڑی ضرور خوفزدہ ہوں گے۔بعدازا ں عمران خان نے گنگا رام ہسپتال میں خود کش دھماکے میں زخمیوں کی عیادت کی اور چیئرمین دیگررہنماؤں کے ہمراہ شہید ڈی آئی جی سید احمد مبین کی رہائشگاہ پر تعزیت کے لئے پہنچے ، چیئرمین عمران خان نے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کیا اور شہید کے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی۔

عمران خان

مزید :

کراچی صفحہ اول -