خودکش حملہ آور کے 2سہولت کارفرار،گرفتاری کیلئے چھاپہ مارٹیمیں تشکیل

خودکش حملہ آور کے 2سہولت کارفرار،گرفتاری کیلئے چھاپہ مارٹیمیں تشکیل

  

لاہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے)چیئرنگ کراس دھماکے کی ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور اکیلا نہیں بلکہ تین ساتھیوں سمیت پنجاب اسمبلی کے سامنے پھرتا رہا جو دھماکے سے قبل فرار ہو گئے۔خودکش حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی بیدیاں روڈ میں درج کیا گیا ہے جس میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت دفعات شامل کی گئی ہیں ۔ایف آئی آرنمبر 6/17 میں انکشاف ہوا ہے کہ خود کش حملہ آور تنہا نہیں آیا بلکہ اس کے ساتھ تین ساتھی بھی تھے جو واقعے کے بعد فرار ہوگئے تاہم ان کی تلاش جاری ہے۔ان حملہ آوروں کے فرارہونے کی خبر نے شہریوں کو ایک بار پھر نئے خطرے سے دوچارکر دیا ہے کیونکہ اگر یہ گرفتار نہ ہوئے تو کسی بھی جگہ پر کارروائیاں کر سکتے ہیں۔دوسری طرف خودکش حملہ آوروں کے مبینہ ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے حساس اداروں اور پولیس کی چھاپہ مارٹیموں نے اپناکام شروع کردیا ہے ۔ذرائع کاکہنا ہے کہ لاہور بم دھماکے کے تفتیشی اداروں کو شبہ ہے کہ خود کش حملہ آور کے ساتھی لاہور یا اس سے قریبی شہروں میں موجود ہو سکتے ہیں جس پر حساس اداروں اور پولیس پر مشتمل ٹیموں کو فوری چھاپے مارنے کا حکم دیا گیا ہے اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خودکش حملہ آور کے ساتھی پنجاب کے کسی بڑے شہر میں مزید تخریبی کارروائی کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے پنجاب بھر میں آج ریڈ الرٹ جاری ہے اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -