بھنبھیری کے پروں سے خطرناک بیکٹیریا ہلاک، تحقیق

بھنبھیری کے پروں سے خطرناک بیکٹیریا ہلاک، تحقیق

  

کوئنز لینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ بھنبھیری (ڈریگن فلائی) اپنے پروں کی مدد سے کسی بھی جرثومے کو ہلاک کر سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے اسے کسی قسم کی اینٹی بایوٹک کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔کوینزلینڈ یونیورسٹی آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی سربراہی میں آسٹریلیا اور نائجیریا کے سائنسدانوں نے طاقتور الیکٹرون مائیکرو اسکوپ کے ذریعے بھنبھیری کے مختلف پروں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان پر موجود نینو ستونوں کی اونچائی آپس میں تقریباً برابر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنبھیری کے پروں پر نینومیٹر پیمانے والی ایسی نہایت مختصر اور نوک دار ساختیں ہوتی ہیں جو کسی جرثومے کو اس کی جھلی پھاڑ کر ہلاک کرسکتی ہیں۔ ’’نینو ستون‘‘ اور ’’کانٹوں کا بستر‘‘ کہلانے والی یہ ساختیں دیکھنے کے لیے انتہائی طاقتور خردبین کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ ان ہی کی بدولت بھنبھیری کے پر خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔

Back to

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -