یو بی ایل کا کراچی میں چھٹے یو بی ایل لٹریری ایوارڈز کا انعقاد

یو بی ایل کا کراچی میں چھٹے یو بی ایل لٹریری ایوارڈز کا انعقاد

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) چھٹے یو بی ایل لٹریری ایوارڈز 2016ء کا انعقاد بروز ہفتہ ،11 فروری2017 ء کو کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں ہوا۔ یہ ایوارڈ آٹھویں کراچی لٹریچر فیسٹول کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ پاکستان کا بہترین بینک برائے 2016 ء ، یو بی ایل یہ ایوارڈز پاکستانی مصنّفوں کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مقصدسے مسلسل چھ برسوں سے منعقد کر رہا ہے۔معروف اردو مصنّف مشتاق احمد یوسفی بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ یوسفی کو مقبول ادبی کاوشوں کے لئے حکومتِ پاکستان کی طرف سے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز ’ستارۂ امتیاز‘ (1999ء) اور ’ہلالِ امتیاز‘ (2002ء) دئیے گئے ہیں۔ وہ یو بی ایل کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں (1974-76ء) اور انہیں بینکاری میں ممتاز خدمات کے لئے ’قائد اعظم میموریل میڈل‘ بھی دیا گیا ہے۔ ایوارڈز کی سات کیٹگریز کے لیے 160 سے زائد نامزدگیاں موصول ہوئیں۔ 2015ء میں پاکستان میں شائع ہونے والی پاکستانی مصنّفوں کی کُتب کو معزّ ز ججز کے پینل نے منتخب کیا جو ڈاکٹر اصغر ندیم سیّد، ڈاکٹر آصف فرّخی، غازی صلاحُ الدّین، ڈاکٹر عارفہ سیّدہ، کشور ناہید، ڈاکٹر انوار احمداور مسعود اشعر جیسی شخصیات پر مشتمل تھا۔ہر کیٹگری میں ایوارڈ جیتنے والوں میں اردو افسانوی ادب : ’دشت میں محبت‘ ، محمد حمید شاہد،اردو غیر افسانوی ادب : ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ ، اختر وِقار عظیم اردو شاعری : ’شجر تسبیح کرتے ہیں‘ ، عبّاس تابش اردو ترجمہ : ’قصّے لاہور کے‘، وحید رضا بھٹی بچوں کا اردو ادب : ’جنگل کہاں گیا‘ ، محمد ادریس صدیقی انگریزی غیر افسانوی ادب : Lahore - 101 Tales of a Fabled City ، عبد المجید شیخ بچوں کا انگریزی ادب : Our Bhittai ، فہمیدہ ریاض کامران اصدر علی کی کتاب ’ سُرخ سلام‘ کو اسپیشل ایکنالجمنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر وجاہت حُسین، صدر اور سی ای او، یو بی ایل نے اپنی تقریر میں کہا: ’’پاکستان مختلف ثقافتوں، زبانوں اور نسلی شناخت کا حسین امتزاج ہے، اور ہمارا ادبی شجرۂ نسب اس کا بہترین ثبوت ہے۔ یو بی ایل گزشتہ 70 برسوں کے دوران پاکستان کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا ہے ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مصنّفوں اور فنکاروں کی معاونت اور حوصلہ افزائی کریں کہ وہ ہماری ادبی دولت کو بڑھانے میں شریک رہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ادب کا سفر طے کرنے میں سست روی نہ آئے اور آئندہ نسلیں ان ادبی خزانوں سے مستفید ہوتی رہیں۔‘‘

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -