تہذیبوں کی لڑائی سے پشاور شہر کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ،ڈاکٹر احسان علی

تہذیبوں کی لڑائی سے پشاور شہر کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ،ڈاکٹر احسان علی

  

مردان (بیورورپورٹ )پشاور کی تاریخ 2600 سال پرانی ہے اور پشاور پہلی عیسوی صدی میں گندھاراکا دارالحکومت بنا۔یہ بات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی نے خصوصی طور پر پشاور سے تعلق رکھنے والے کالم نگاروں اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد سے کی۔اس سلسلے میں شعبہ جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔جس کا موضوع تھا ' پشاور کی تاریخ' ۔ اس موقع پر ڈاکٹر ظفر اقبال، ناصرعلی سید، مشتاق شباب، ڈاکٹر نذیر تبسم، خواجہ محمد وسیم ، عزیز اعجاز، ملک جہانزیب ، نسیم چغتائی، اصغر علی شاہ، شیراز اکبر،ایم بشیر عادل، آفتاب احمد، آصف خان ، مرتضیٰ نوراور چیئرمین شعبہ صحافت شیراز پراچہ اور طلبہء و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی نے اس موقع پر کہا کہ تہذیبوں کی لڑائیوں کی وجہ سے پشاور شہر کی خوبصورتی تباہ ہو گئی۔ پشاور کو پھولوں اور باغوں کا شہر کہا جاتا تھا۔اور 2000 سال پہلے یہاں گندھارا میں 2000 بدھ مت کے مدرسے ہواکرتے تھے۔پشاور میوزیم میں 6500 بدھ مت کے مجسمے موجود ہیں۔ جو تعداد کے لحاظ سے دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور پشاور میں گوڑ گٹھری کے کھدائی دنیا میں گہری ترین کھدائی ہے۔شرکا ء نے اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان علی نے اس صوبے کو دس سال کے عر صے میں نو یونیورسٹیاں ، بارہ کیمپسز اور نو مساجد بھی تعمیر کرکے دئے ہیں۔جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -