ملتان میٹرو پراجیکٹ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں بری طرح ناکام

ملتان میٹرو پراجیکٹ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں بری طرح ناکام

  

ملتان (ملک اعظم سے ) پنجاب میٹرو بس اتھارٹی کی جانب سے ملتان میں اربوں روپے کی مالیت سے بنایا جانیوالا میٹرو بس پروجیکٹ عوامی پذیرائی حاصل کر نے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے ۔ اس پروجیکٹ کے افتتاح کو 20 روز گزر چکے ہیں ‘ ان دنوں کے دوران کسی روز بھی یہ سروس طے شدہ ٹارگٹ کا 40 فیصد بھی حاصل نہ کر سکی ‘ ساڑھے اٹھارہ کلو میٹر طویل ٹریک پر رکشہ سروس اور ویگنیں بند کر نے کی کوشش بھی اس پروجیکٹ کی کامیابی میں مدد نہ دے سکی ۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے طلباء نے بھی میٹرو بس سروس کو اہمیت نہ دی ‘ جبکہ اپنی شٹل سروس کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے میٹرو بس پروجیکٹ ملتان کیلئے جن اعداد و شمار کا سہارا لیا گیا ان کا پول کھل گیا ہے ‘ اس پروجیکٹ کیلئے محکمہ ایکسائز کے ڈیٹا کو ترجیح دی گئی جو کہ زمینی حقائق سے یکسر مختلف ہے ‘ محکمہ ایکسائز ملتان کے پاس صرف ملتان ہی کی گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں ہیں بلکہ پورا جنوبی پنجاب اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو ترجیح دیتا ہے ۔ میٹرو بس پروجیکٹ کی ابتدائی منصوبہ بندی کے دوران مذکورہ نقطہ کو مکمل نظر انداز کیا گیا ‘ پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کیلئے ساڑھے اٹھارہ کلو میٹر طویل ٹریک پر 21 اسٹیشنز بنائے گئے ان میں سے 14 اسٹیشنز ساڑھے بارہ کلو میٹر طویل فلائی اوور پر ہیں جبکہ 7 میٹرو اسٹیشنز زمین پر ہیں ‘ ہر اسٹیشن کا درمیانی فاصلہ 850سے 900 میٹر ہے ۔ بی زیڈ یو میٹرو اسٹیشن پر روزانہ سفر کرنیوالوں کی اوسط تعداد 2184 بیکن ہاؤس سکول سے 1479 ابن قاسم پر سے 518 نادرن بائی پاس سے 1497 الطاف مارکیٹ سے 1363 نشمن کالونی سے 4805 چونگی نمبر 6 سے 5090 ‘ تحصیل چوک سے 3606 چونگی نمبر 9 سے 13293 قاسم فورٹ سے 4141 ‘ دولت گیٹ سے 9364 عام خاص باغ سے 7479 ‘ منظور آباد سے 2400 ممتاز آباد 5081 بی سی جی چوک سے 12368 جنرل بس اسٹینڈ سے 1354 جناح پارک 3823 ‘ شاہ رکن عالم سے 2434 اور چوک کمہاراں سے 6666 مسافروں کے سفر کا اندازہ کیا گیا اور 93 ہزار 749 اوسطاً ٹارگٹ فکس کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے جس طرح ملتان میٹرو بس پروجیکٹ کیلئے فرضی اعداد و شمار کا سہارا لیا گیا اسی طرح ملتان میں روزانہ سفر کرنیوالوں کا ڈیٹا تیار کر تے ہوئے زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا ۔ ساڑھے اٹھارہ کلو میٹر طویل اس روٹ پر سفر کرنیوالے شہری اب بھی زیادہ تر ذاتی سواری کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ابتدائی ایام میں سابق کمشنر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کے احکامات پر یونیورسٹی کی شٹل سروس بند کی ‘ لیکن طلباء کے احتجاج پر یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور جزوی طور پر اپنی سروس بحال کرنا پڑی ۔ معلوم ہوا ہے سٹی ٹریفک پولیس کے وارڈنز کو بھی بی زیڈ یو سے چوک کمہاراں تک طویل ٹریک پر ویگن سروس اور آٹو رکشہ مالکان کیخلاف خصوصی ٹاسک سونپا گیا جبکہ سیکرٹری آر ٹی اے بھی ویگن سروس کیخلاف پوری طرح حرکت میں ہیں ‘ مذکورہ محکموں کے آفسران کی کوشش ہے کہ سٹی سروس اور آٹو رکشہ مالکان کو اس حد تک زچ کر دیا جائے کہ وہ اس روٹ پر سرے سے داخل ہی نہ ہوں تاکہ شہری مجبوراً میٹرو بس سروس سے سفر کریں ۔ معلوم ہوا ہے 21 میٹرو اسٹیشنز میں سے کسی بھی اسٹیشنز سے مقررہ ٹارگٹ ہنوز ذی دور است کے مترادف بنا ہوا ہے ۔ پنجاب میٹرو بس اتھارٹی نے اب اس سروس کو کامیاب بنانے کیلئے فیڈر بسیں چلانے کی جلدی میں ہے تاکہ میٹرو بس سروس کا روزانہ کی بنیاد پر تیار کی جانیوالا ٹارگٹ حاصل کیا جا سکے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -