امن مشقوں میں غیر ملکی افواج کی شرکت اعتماد کا مظہر ہے: نواز شریف

امن مشقوں میں غیر ملکی افواج کی شرکت اعتماد کا مظہر ہے: نواز شریف

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کثیر القومی بحری مشق امن 2017 منگل کو شمالی بحیرہ عرب میں فلیٹ ریویو اور شاندار سمندری چالوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہیں۔ مشق میں 37ممالک کی بحریہ نے مشترکہ عزم "امن کے لیے متحدکے تحت شرکت کی۔وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ امیرالبحر ایڈمرل محمد ذکاء اللہ نے پاک بحریہ کے جہاز نصر پر آمد کے موقع پر مہمانِ خصوصی کا استقبال کیا۔وزیرِ دفاع، سیکرٹری دفاع، گورنر سندھ، وزیرِ اعلیٰ سندھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف ائیر اسٹاف، سرلنکا کے نیول چیف، وزیرِاعظم کے قومی سیکیورٹی کے ایڈوائزر، سفراء، قونصل جنرلز، سفارتکاروں اور دیگر اعلیٰ سول اور ملٹری حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیرِاعظم کو اس مشق کے انعقاد اور اس کے آپریشنل زاویے کے متعلق بریفنگ دی گئی اور دن بھر میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔مہمانِ خصوصی نے مشق میں حصّہ لینے والے بحری جہازوں، ہوائی جہازوں، ہیلی کاپٹرز اور پاکستان ائیر فورس کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے پیش کیے جانے والے مختلف آپریشنل مرحلوں کا معائنہ کیا۔ ان مرحلوں میں دو جہازوں کے درمیان replenishmentکے ذریعے سامان کا تبادلہ، راکٹ ڈیپتھ چارج کی فائرنگ اورمقررہ ہدف پر سطح سے سطح پر نشانے لگانے کی مشقیں شامل تھیں۔وزیر اعظم نواز شریف کو پاک بحریہ ،پاک فضائیہ کے مختلف جہازوں، ہیلی کاپٹرز اور جاپان کے P3C اورین جہازوں کی جانب سے شاندار فلائی پاسٹ بھی پیش کیا گیا۔مشق کے اختتام پر شریک تمام بحری جہازکالم فارمیشن میں پی این ایس نصر کے سامنے سے گزرے اور مہمانِ خصوصی کو سیلوٹ پیش کیا۔ تمام جہازوں نے روایتی ' امن فارمیشن ' بھی بنائی جس کا مقصد سمندری جرائم اور بحری دہشت گردی کے خلاف شریک ممالک کے اتحاد کا مظاہرہ کرنا تھا۔وزیرِ اعظم نے اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امن مشق کے کامیاب انعقاد پر پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہااور کہا کہ مشترکہ پانیوں میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اس مشق کا انعقاد پاکستان کا دیگر قوموں کے ساتھ مل کر مثبت کام کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی بحری افواج کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت اقوامِ عالم کے پاکستان پر اعتماد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بہترین آپریشنل تیاری کے ساتھ پاکستان نیوی سمندر کی حفاظت اور پاکستان کے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے تیا ر ہے۔اس مشق میں کل 37ممالک نے حصّہ لیا جسے دو مرحلوں میں منعقد کیاگیا۔ ہاربرفیز 11سے 12فروری تک چلا جبکہ سی فیز 13 سے 14 فروری پر محیط تھا۔ ہاربرفیز میں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس، سیمینارز، ٹیبل ٹاکس، ایک دوسرے کے بحری جہازوں پر دوروں کے تبادلے، کال آنز، بین الاقوامی بینڈ ڈِسپلے، میر ٹائم کاؤنٹر ٹیررزم ڈیمو شامل تھے۔ سمندری فیز میں آپریشنل پلان اور ہاربر فیز کے دوران طے پانے والی سرگرمیوں پر عمل درآمد کیاگیا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -