بھارت کا مہنگا ترین دفاعی منصوبہ پھر ناکام

بھارت کا مہنگا ترین دفاعی منصوبہ پھر ناکام
بھارت کا مہنگا ترین دفاعی منصوبہ پھر ناکام

  

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی بحریہ نے مقامی طور پر بنائے گئے لڑاکا طیارے ”ایل سی اے تیجاز“ کو مسترد کرتے ہوئے غیر ملکی لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کر لیا اور اس طرح بھارتی تاریخ کے طویل ترین اور سب سے مہنگے دفاعی تحقیقی منصوبے کو ایک بار پھر بد ترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس وقت بھارتی بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے 57 نئے لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے جنہیں ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے کم فاصلے کی ضرورت ہو۔ اگرچہ یہ تقاضے پورے کرنے کے لیے”ایل سی اے تیجاز“ میں کئی تبدیلیاں کی گئیں، لیکن پھر بھی وہ اب تک اس قابل نہیں ہو سکا ہے کہ کسی طیارہ بردار بحری جہاز سے اڑان بھر سکے۔

امریکہ اور چین کے خود کش دھماکے کی مذمت، مکمل تعاون کی یقین دہانی

خیال رہے کہ بھارت نے 1983ءمیں مقامی ساختہ ہلکے لڑاکا طیارے (ایل سی اے) کا منصوبہ بڑی دھوم دھام سے شروع کیا، ایک ارب امریکی ڈالرسے زائد کا منصوبہ 1995ءتک مکمل ہونا تھا تاہم ان گنت انتظامی اور تکنیکی خامیوں کی بنا پر 33 سال گزرجان کے بعد بھی بھارت کا یہ خواب پورا نہیں ہوا۔ دوسری جانب عالمی دفاعی حلقوں نے ایل سی اے تیجازکو بھارتی فضائیہ کا ”سفید ہاتھی“ قرار دے رکھا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -