فاٹا کے اقلیتی اپنے گھر واپس کیسے جائیں ؟

فاٹا کے اقلیتی اپنے گھر واپس کیسے جائیں ؟
فاٹا کے اقلیتی اپنے گھر واپس کیسے جائیں ؟

  



قبائلی علاقوں سے بے گھر 28600خاندان اپنے گھر واپس جانے کے لئے حکومت کے اعلانات پر عملی اقدام کے منتظر ہیں، لیکن واپسی کا عمل مرحلہ وار اور علاقوں کے موجودہ صورتحال پر منحصر ہوتا ہے کہ وہاں پر امن اور زندگی کی دوسری ضروریات کی دستیابی کس سطح پر ہے۔ بے گھر خاندان اس امیدکے ساتھ ہیں کہ وہ جلد اپنے علاقوں میں واپس جاکر ایک دن اپنے معمول کی زندگی شروع کردیں گے، لیکن ایک خاص تعدادمیں ایسے خاندان بھی ہیں جن کی زندگی گمنام ہوتی جا رہی ہے،اور وہ ہیں قبائیلی علاقوں کے بے گھر اقلیتی خاندان۔۔

پاکستان کونسل آف ورلڈریلجن کے سربرہ اور پاکستان میں اقلیتی برداری کے حقوق کے لئے سرگرم کارکن سردار چر نجیت سنگھ اقلیتی برادری کے اپنے علاقوں کوواپسی میں حائل روکاٹوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ فاٹا سے بے گھر اقلیتی خاندان کے مشکلات اس دن سے شروع ہوئیں جب وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے۔چرنجیت نے کہاکہ ان لوگوں کی رجسٹریشن کے لئے کوئی خاص انتظامات نہیں کئے گئے لیکن بہت سے مجبور لوگوں نے مشکل سے اپنا نام درج کرایا اور معمولی امددی پیکچ پر گزار اکرتے رہے۔

چرنجیت سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اپنی مددآپ کے تحت پشاور، حسن ابدل اور نانکانا صاحب میں آباد کیااور ان کے معاشی ضروریات کے لئے ان کی مدد کیمونٹی سطح پر کی گئی۔

فاٹا سے بے گھر اقلیتی خاندانوں کے تعداد کے بارے خود کیمونٹی کے لوگوں کو بھی صحیح تعداد معلوم نہیں، البتہ خیبر، کرم اور اورکزئی ایجنسی سے بڑی تعدا د میں سکھ، ہندوں اور مسیحی برداری کے لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ماریہ کماری جوکہ اقلیتی برادری کے حقوق کے لئے ایجنسی کی سطح پر کام کررہی ہے،اپنے علاقے کے بے گھر لوگوں کے مشکلات کے بارے کہتی ہے کہ کرم ایجنسی میں فرقہ ورانہ فسادات کی وجہ سے 2009 میں ان کے خاندان سمیت بتیس گھرانوں نے نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں میں آباد ہوگئے۔اور کافی مشکلات کے بعد ان خاندانوں کی رجسٹریشن ہوئی اور دوسرے لوگوں کی طرح انہیں بھی مراعاتی پیکچ ملتا رہا۔

ماریہ نے بتایا کہ 2012 میں اعلان مری معاہدے کے تحت واپسی کے لئے رجسٹریشن شروع کیاگیا اور 2013 میں لوگوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے لیکن صرف سول کالونی میں رہائش پذیرمسیحی برادری کے بے گھر خاندان واپس جا چکے ہیں۔

ماریہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ تمام اقلیتی خاندان اپنے علاقوں کو واپس جاناچاہتے ہیں لیکن حکومتی اداروں کی طرف سے کوئی مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان خاند انوں کی واپسی ممکن نہیں ہیں۔جبکہ کرم ایجنسی میں ان لوگوں کے مکانات تباہ، کاروباراور نوکریاں ختم ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پہلے اقلیتی برادری کے لوگ دوردراز علاقوں میں اکثریتی آبادی میں رہائش پذیر تھیں لیکن اب وہاں پر زندگی گزارنا ممکن نہیں، اگرایک کالونی بنائی جائے اور سارے بے گھر خاندانوں کو جس کی تعداد انتہائی کم ہیں کو وہاں پر آباد کیا جائے توان لوگوں کے مشکلات میں کافی حد کمی آسکتی ہے۔ ان کے بقول دوسرے علاقوں کے یہ لوگ انتہائی مجبوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ماریہ نے کہا کہ نقد رقم دینے کے لئے جو کارڈ دیا جاتا ہے اس میں بہت سے اقلیتی خاندانوں کو کارڈزجاری نہیں کئے گئے ہیں اور امدادی پیکج بھی بندکردئے گئے ہیں جوکافی کوششوں کے باوجود بھی جاری نہیں کئے گئے۔

قبائیلی علاقوں سے بے گھرہونے والے لوگوں کے لئے کام کرنے والا ادارہ (فاٹا ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی(ایف۔ ڈی۔ ایم۔ اے سے جب بے گھر اقلیتی خاندانوں کے بارے میں معلومات جانے کی کوشش کی گئی تو ادارے کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے ادارے کے ساتھ اس حوالے سے کوئی خاص معلومات نہیں،البتہ صرف شمالی وزیرستان کے بیتس مسیحی خاندانوں کی رجسٹریشن ہوئی تھی، جن کو اپنے گھروں یعنی سول کالونی میرانشاہ واپس بھیج دیے گئے ہیں۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے اقلیتی خاندانوں کی اعداد وشمار ادارے کے ساتھ موجود نہیں جس کی بنیادی وجہ ان لوگوں کی رجسٹریشن اور واپسی کے لئے کوئی خاص انتظام کانہ ہونا ہے۔

خیبرایجنسی کے سکھ ملک اور یوتھ اسمبلی میں اقلیتی امور کے وزیر گور پال سنگھ نے بتا یا کہ اس کے پاس بھی یہ معلومات نہیں کہ باڑہ سے بدامنی کی وجہ سے کتنے سکھ خاندان بے گھر ہوئے ہیں۔ البتہ سکھ برادری کے 3200ووٹ رجسٹرڈ ہیں جس سے یہ اندازہ لگانامشکل نہیں کہ کتنے بڑی تعداد میں یہ لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔گورپال نے مذیدکہا کہ جب تک کوئی خاص پالیسی مرتب نہیں ہوتی تب تک ا ن لوگوں کی واپسی ممکن نہیں کیونکہ انتہائی مشکل حالات میں ان لوگوں نے اپنے علاقوں سے دور زندگی شروع کی ہے۔

قبائیلی علاقوں میں صدیوں سے اقلیتی برادری کے لوگ آباد ہیں۔فاٹا کے اقلیتی رہنماں کے مطابق فاٹا میں پچاس ہزار تک اقلیتی لوگ آباد تھے جن میں سکھ، ہندو اور مسیحی برادری کے لوگ شامل ہیں، جن کی زیادہ آبادی خیبر، کرم اور اورکزئی ایجنسی میں ہے۔

(اسلام گل آفریدی، سینئر صحافی اور میڈیا ٹرینر ہیں اور مختلف اداروں کے ساتھ بطورِ رپورٹر اور نیوز ایڈیٹر کام کرچکے ہیں اور اجکل ایک انٹرنیشنل ادارے کیساتھ منسلک ہیں۔فاٹا میں ایک میڈیا گروپ کے ایڈوائزر بھی ہیں۔ ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے islam.gul.afridi@gmail.com )

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ