جرمنی میں ترک حکومت کیلئے جاسوسی کرنیوالے4آئمہ کرام کے گھروں پر چھاپے،مکمل تلاشی

جرمنی میں ترک حکومت کیلئے جاسوسی کرنیوالے4آئمہ کرام کے گھروں پر چھاپے،مکمل ...
جرمنی میں ترک حکومت کیلئے جاسوسی کرنیوالے4آئمہ کرام کے گھروں پر چھاپے،مکمل تلاشی

  

برلن(ڈیلی پاکستان آن لائن)جرمنی کی پولیس نے چار مختلف مساجد کے اماموں کے اپارٹمنٹس پر چھاپے مار کر تلاشی لی ہے،ان 4 آئمہ پر گولن تحریک کیلئے کام کرنے والے افراد کی جاسوسی کرنے کا الزام ہے۔

نیوز ایجنسی ”اے ایف پی “ کے مطابق جرمنی کے وفاقی دفتر استغاثہ اور وزیر انصاف نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے چار مختلف مساجد کے اماموں کے اپارٹمنٹس پر چھاپے مار کر تلاشی لی ہے، ان آئمہ پر شبہ ہے کہ وہ انقرہ حکومت کے لیے جاسوس کرتے تھے کہ ترک تارکین وطن میں کون کون امریکا میں مقیم مبلغ فتح اللہ گولن کا حامی ہونے کے ساتھ ساتھ عملی مدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔

گاڑیاں بنانے والی جرمن کمپنی کا پاکستان آنے ، دوگاڑیاں متعارف کرانے کا فیصلہ ، شاندار خوشخبری آگئی

جرمن پولیس کے یہ چھاپے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا اور رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے وفاقی صوبوں میں مارے گئے، تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ حکومت کے حامی آئمہ پر چھاپوں سے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک جرمنی اور ترکی کے درمیان انتہا پسندوں کے علاوہ مہاجرین کے معاملے پرمزید تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔

جرمنی کے دفتر استغاثہ کے مطابق جن آئمہ کے اپارٹمنٹس کی تلاشی لی گئی ہے، ان کو انقرہ حکومت کے مذہبی ادارے دیانت نے گزشتہ برس بیس ستمبر کو ایک خط کے ذریعے ہدایت کی تھی کہ وہ ان افراد پر نظر رکھیں جو گولن کی مذہبی و سماجی تحریک خمت کے حامی ہیں یا ہمدردی رکھتے ہیں۔ جرمنی میں ترک تارکین وطن کی مساجد کے لیے اماموں کی تنظیم دیتب (Ditib) کہلاتی ہے۔

جرمنی میں چار مساجد کے اماموں پر ترک حکومت کی جاسوسی کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے ،جرمن وزیر انصاف ہائیکو ماس کے مطابق مشتبہ چاروں امام دیتیب کے رکن ہیں۔ جرمنی کی ترک مساجد کے لیے دیتیب ہی کسی امام کا انتخاب کر کے اسے ترکی میں تعینات کرتی ہے۔ جرمنی میں ترکی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی تعداد تیس لاکھ بتائی جاتی ہے۔ ماس نے اس کا اعتراف کیا کہ جرمنی میں فعال آئمہ کی تنظیم دیتیب پر ترک حکومت کا اثر بہت زیادہ ہے۔

واضح رہے اردگان حکومت کے خلا ف فوجی بغاوت کے ناکام ہونے کے بعد اب تک فتح اللہ گولن کے41ہزار پیروکاروں کو گرفتار جبکہ 1لاکھ کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -