’میں چاہتا ہوں آپ سب لوگ یہ کتاب پڑھو جس میں لکھا ہے بھارت نے یہ کام کامیابی سے کیسے کیا اور سبق سیکھو۔۔۔‘ آرمی چیف نے پاک فوج کے افسروں کو ایسی ہدایت دے دی جو آج تک کسی آرمی چیف نے نہ دی

’میں چاہتا ہوں آپ سب لوگ یہ کتاب پڑھو جس میں لکھا ہے بھارت نے یہ کام کامیابی ...
’میں چاہتا ہوں آپ سب لوگ یہ کتاب پڑھو جس میں لکھا ہے بھارت نے یہ کام کامیابی سے کیسے کیا اور سبق سیکھو۔۔۔‘ آرمی چیف نے پاک فوج کے افسروں کو ایسی ہدایت دے دی جو آج تک کسی آرمی چیف نے نہ دی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پیشہ ورانہ سوچ اور اصول پسندی سے سب واقف ہیں۔ وہ وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور ہمہ جہتی سوچ کے مالک ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں اخبار دی نیشن کے حوالے سے ان کی شخصیت کے اسی پہلو کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں جب انہوں نے سینئر افسران سے خطاب کیا تو ایک امریکی مصنف کی وہ کتاب پڑھنے کی ہدایت کی جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت فوج کو سیاست سے باہر رکھنے میں کس طرح کامیاب ہوا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ فوج کا کوئی کام نہیں ہے کہ وہ حکومت چلانے کی کوشش کرے۔

افغان حکومت جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کرے ، نائب سفیر کی دفتر خارجہ طلبی ، دہشت گردوں ،سہولت کاروں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان کا شدید احتجاج

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف نے یہ خطاب دسمبر کے آخری ہفتے میں راولپنڈی گیریژن کے افسران سے کیا۔ وہ جس کتاب کا حوالہ دے رہے تھے اس کا نام Army and Nation: The Military and Indian Democracy Since Independence ہے۔ کتاب کے مصنف کا نام سٹیون آئی ولکنسن ہے، جو ییل یونیورسٹی میں انڈیا اینڈ ساﺅتھ ایشیا سٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ اس کتاب میں بھارت کے ان سیاسی اور خارجہ و سٹریٹجک فیصلوں کا احاطہ کیا گیا ہے جو جمہوریت کو مضبوط کرنے کا سبب بنے۔

بھارتی ریاست آسام کے بہادر دیہاتیوں نے لکڑیوں کی مدد سے 20فٹ لمبا سانپ پکڑ لیا

رپورٹ میں مزید بتایا گیاہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ دیگر مطالعہ کے علاوہ بھارت کے بارے میں شائع ہونے والی کتب اور میڈیا میں اس کے متعلق شائع ہونے والے مضامین کا بھی بکثرت مطالعہ کرتے ہیں۔ بھارت کے متعلق مطالعے کا ان کا شوق اس وقت سے جاری ہے جب وہ 1992ءمیں ایک نوجوان افسر کے طور پر لائن آف کنٹرول پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

مزید :

قومی -