سب سے بڑی خبر، سعودی عرب اور ایران کی صلح کروانے کیلئے 2 بڑے عرب ملک میدان میں آگئے، ایرانی صدرکو اپنے ملک بلالیا تاکہ۔۔۔

سب سے بڑی خبر، سعودی عرب اور ایران کی صلح کروانے کیلئے 2 بڑے عرب ملک میدان میں ...
سب سے بڑی خبر، سعودی عرب اور ایران کی صلح کروانے کیلئے 2 بڑے عرب ملک میدان میں آگئے، ایرانی صدرکو اپنے ملک بلالیا تاکہ۔۔۔

  

کویت سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کو عالم اسلام کے بڑے مسائل میں سے ایک کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ امت مسلمہ کو اتحاد کو ان دونوں ممالک کے درمیاں تلخی نے بہت نقصان پہنچایا ہے، مگر اب اس تنازعے کے خاتمے کے لئے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

عریبین بزنس کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر عمان اور کویت کا انتہائی اہم دورہ کر رہے ہیں، جس کے لئے ان ممالک کے سربراہان نے انہیں خصوصی دعوت دی تھی ۔ 2013ءمیں برسراقتدارآنے کے بعد ایرانی صدر کا خلیجی ریاستوں کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ ایرانی صدر کے نائب چیف آف سٹاف حامد ابوطالبی کا اس دورے کے بارے میں کہنا تھا ”جناب صدر کی جانب سے عمان اور کویت کے رہنماﺅں کا دعوت نامہ قبول کرنا اسلامی بھائی چارے اور علاقائی تعلقات کی بحالی کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔“

’ کسی بھی غیر ملکی کو نیا اقامہ ملے گا نہ ہی اس میں تجدید کی جائے گی جب تک وہ پہلے ۔۔۔‘ سعودی حکومت نے واضح اعلان کر دیا، ملک میں مقیم غیر ملکیوں یا جانے کا ارادہ رکھنے والوں کیلئے انتہائی ضروری معلومات

واضح رہے کہ ایران میں پرتشدد احتجاج کے دوران سعودی سفارتخانے کو آگ لگائے جانے کے بعد جنوری 2016ءمیں سعودی عرب اور بحرین نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردئیے تھے، جبکہ کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر اپنے سفیروں کو واپس بلالیا تھا۔ عمان کی جانب سے معاملات کو سدھارنے کی کوششیں جاری تھیں اور کویت کے وزیر خارجہ نے بھی جنوری میں ایران کا دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے ایرانی صدر کو ”مذاکرات کی بنیاد“ کے بارے میں اہم پیغام پہنچایا۔

ایرانی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ کویت ان 10 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ ایرانی صدر عمان کے حکمران سلطان قابوس سے ملاقات کے بعد کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی دعوت پر کویت پہنچیں گے۔ اس دورے کے دوران نہ صرف باہمی تعلقات پر بات کی جائے گی بلکہ علاقائی معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔

مزید :

عرب دنیا -