اخوان المسلمون کو دہشت گرد نہیں سمجھتا ،داعش کی سرکوبی کے لئے ٹرمپ سے بھی بات کی ہے:رجب طیب اردغان

اخوان المسلمون کو دہشت گرد نہیں سمجھتا ،داعش کی سرکوبی کے لئے ٹرمپ سے بھی بات ...
اخوان المسلمون کو دہشت گرد نہیں سمجھتا ،داعش کی سرکوبی کے لئے ٹرمپ سے بھی بات کی ہے:رجب طیب اردغان

  

دوہا(ڈیلی پاکستان آن لائن)ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا ہے میں مصر کی جمہوریت پسند اسلامی تنظیم ’’اخوان المسلمون ‘‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیتا،اخوان ایک نظریاتی جماعت ہے،اگراخوان المسلمون اسلحہ اٹھائے تو دہشت گرد قرار دوں گا ،داعش کی سرکوبی کے لئے ٹرمپ سے بھی بات کی ہے،ترک صدر کی امیر قطر سے ملاقات میں فلسطین ،شام اور یمن سمیت خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت ۔

 عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ترکی کے صدر رجب طیب اردغان  نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے تمام خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے تعاون کی اشد ضرورت ہے, ترکی خلیجی ممالک کے تعاون کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ وہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار نہیں دیتے کیونکہ اخوان ایک نظریاتی جماعت ہے، تاہم اگر اخوان المسلمون اسلحہ اٹھائے گی تو اس کے ساتھ ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نمٹا جائے گا۔

شام کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ الرقہ شہر داعش کا گڑھ ہے، داعش کے خلاف عالمی اتحاد ہونے کی بدولت ہمیں اپنے اہداف کو حاصل کرنا ہے، داعش کی سرکوبی کے لیے انہوں نے امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات کی ہے۔ اگر ہم الرقہ کو داعش سے پاک کرلیں تو شام کے عرب باشندوں کو واپس ان کے گھروں میں بھیجنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم خطے میں استحکام کے حوالے سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں ۔

اس سے پہلے قطر کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان   اور  امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی  کے درمیان  وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے ،امیر قطر کے ہمراہ شیخ عبداللہ بن حمد الثانی سمیت قطر کے وزرا اور اہم عہدے دار بھی ان مذاکرات میں شریک ہوئے ۔مذاکرات میں دونوں ملکوں کے برادرانہ اور دو طرفہ  تعلقات ،علاقائی سلامتی اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔مذاکرات میں فلسطین ،شام اور یمن سمیت عالمی امور پر بھی مشاورت ہوئی اور دونوں ملکووں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تعلقات کو مزید موثر اور بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔اس سے قبل ترکی کے صدر اور انکے ہمراہ آئے ہوئے وفد کو پر تکلف استقبالیہ دیا  گیا جس میں دونوں ملکوں کی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔

مزید :

عرب دنیا -