پاکستان ایک کھلی کتاب کی طرح ہے،امریکہ بھارتی لابنگ اور دباؤ میں آ کر پاکستان کو ڈومور کی پوزیشن پر لیجانا چاہتا ہے:رانا محمد افضل

پاکستان ایک کھلی کتاب کی طرح ہے،امریکہ بھارتی لابنگ اور دباؤ میں آ کر ...
پاکستان ایک کھلی کتاب کی طرح ہے،امریکہ بھارتی لابنگ اور دباؤ میں آ کر پاکستان کو ڈومور کی پوزیشن پر لیجانا چاہتا ہے:رانا محمد افضل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے خزانہ اور مسلم لیگ نون کے رہنما رانا محمد افضل نے کہا ہے کہ پاکستان ایک کھلی کتاب کی طرح  ہے ،ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں مالی طور پر بے پناہ نقصان اٹھایا  اور بہت ساری جانیں بھی قربان کیں،امریکہ بھارتی لابنگ اور دباؤ میں آ کر پاکستان کو ڈومور کی پوزیشن پر لیجانا چاہتا ہے ،ملک بھر میں جو چھوٹے موٹے ایکشن ہیں وہ کسی ثبوت پر نہیں بلکہ شک کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’نقطعہ نظر ‘‘ میں سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا محمد افضل کا کہنا تھا کہ پاکستان کانام گرے لسٹ میں نہیں ہوا ، پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس کا فیصلہ ہمارے خلاف آئے گا ،اس کا ایک طریقہ کار ہے جس پر سارے ممالک کو اس پر عمل کرنا ہے ،ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر ہم نے پورا جواب بنا کے دے دیا ہے اور ہم اس سلسلہ میں میٹنگ کے لئے بھی جا رہے ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف لابنگ ہو رہی ہے، برطانیہ ،فرانس ،جرمنی اور دیگر ممالک کو کہ پاکستان کے اوپر کوئی اضافی سکروٹنی کی جائے جو اس ضابطے کے خلاف ہے ،ہم اس پر پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں اور ساری حکومت اس کام پر لگی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان کا نام گرے لسٹ میں آ گیا تو دنیا بھر میں پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گااور ہندوستان کا بیانیہ کامیابی حاصل کرے گا کہ پاکستان دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے میں سنجیدہ نہیں یا پاکستان میں اس حوالے سے سافٹ کارنر پایا جاتا ہے اور پھر انڈیا بھی ہمیں مزید بلیک میل کرے گا ،دوسرا جب اس قسم کی چیز آجاتی ہے تو پھر اگلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں گرے سے بلیک میں لے جائیں اور پھر پابندیا ں لگ جائیں ،اس کے بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بھی محتاط ہو جاتے ہیں اور وہ محسوس کریں گے کہ اگر پاکستان میں سرمایہ کاری کی تو ان کی انویسٹ منٹ کو پرابلم ہو سکتی ہے ۔اسی طرح ہم اپنے منصوبوں کے لئے لانگ ٹرم قرضے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،ڈیمز کے لئے اور دیگر منصوبوں پر کام کرنا چاہتے ہیں،اگر ہم پر پابندیاں لگ گئیں تو بینک یہ سمجھیں گے کہ ہم پھر اس پوزیشن میں نہ رہیں کہ ان کے قرضے واپس کر سکیں تو پھر وہ نہ صرف ہمارے قرضے مہنگے کر دیں گے بلکہ ہمیں قرضے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس حد تک اپنے آپ پر یقین ہونا چاہئے کہ ہمارے ہاں کوئی ایسا نرم گوشہ نہیں ہے جو دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کی اجازت دے سکے ،ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے بے پناہ نقصان اٹھایا مالی طور پر بھی اور بہت ساری جانیں بھی قربان کیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک کھلی کتاب کی طرح کی طرح ہے ،ہم تو ہر لیول پر دنیا کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں ،امریکہ بھارت کے دباؤ اور لابنگ کے اندر آ کر پاکستان کو ڈومور کی پوزیشن پر لیجانا چاہتا ہے ،جو چھوٹے موٹے ایکشن ہیں وہ کسی ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ شک کی بنیاد پر کر رہے ہیں ،ہم دنیا کو مزید مطمئن کرنے کے لئے ان کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہے ہیں جن پر ہمیں تھوڑا سا بھی شبہ ہے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی