لودھراں: عوام نے فیصلہ سنا دیا

لودھراں: عوام نے فیصلہ سنا دیا
لودھراں: عوام نے فیصلہ سنا دیا

  



لودھراں کے انتخابی معرکے میں حکمران جماعت کی جیت نے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ اصل احتساب وہ ہوتا ہے جو عوام کرتے ہیں۔

اس حلقے میں اگرچہ پی ٹی آئی کے امیدوار علی ترین کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بڑے مارجن سے جیتیں گے ،لیکن نتائج سامنے آنے پر بڑے بڑے جغادری دنگ رہ گئے۔ بڑے بڑوں کے تجزیے غلط ثابت ہوئے اور مسلم لیگ (ن) بازی جیت گئی۔

اس جیت سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ عوام نے گالیوں اور کردار کشی کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اسی جماعت کو ووٹ دیں گے جو ان کی بہتری اور خوشحالی کے لئے کام کرے گی۔

اس جیت پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے بجا فرمایا کہ یہ کامیابی محنت کا نتیجہ ہے، یہ عوام کی جیت ہوئی ہے، جمہوریت کو استحکام ملا اور عوام کے ووٹوں کی عزت بڑھی ہے۔۔۔دراصل جمہوریت میں عوام ہی مقدم ہوتے ہیں۔

جمہوریت کا مطلب ہی عوامی حکومت ہوتا ہے،کیونکہ انتخابات کے موقع پر ان کے پاس فیصلہ کرنے کی قوت موجود ہوتی ہے۔ وہ یہ فیصلہ عین موقع پر نہیں کرتے ،بلکہ ایک ووٹر سارا سال، بلکہ پورے پانچ برس سیاسی جماعتوں کے رویوں اور ان کے کردار پر گہری نظر رکھتا ہے۔

وہ انتہائی باریک بینی سے یہ جائزہ لیتا ہے کہ کون سا لیڈر کہاں غلطی کر رہا ہے، کہاں عوام کو دھوکہ دے رہا ہے اور کہاں خالی نعروں سے کام چلانے کی کوشش کر رہا ہے؟

کچھ عرصے سے سیاست میں گالیوں کا کلچر بہت زیادہ پروان چڑھا ہے۔ تحریک انصاف کے اسی رویے کی وجہ سے عوام آج اس سے بد دل ہو رہے ہیں۔

اس حلقے میں اس کی جیت یقینی خیال کی جا رہی تھی، کیونکہ تحریک انصاف کے ہارنے والے امیدوار علی ترین کے والد جہانگیر ترین نامی گرامی صنعت کار اور جاگیردار ہیں۔

وہ بے شمار شوگر ملز کے مالک ہیں اور انہی کے جہازوں پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سفر بھی کرتے رہتے ہیں۔اسی بنا پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ توقع کی جا رہی تھی چونکہ ان کی نا اہلی کے بعد ان کے اپنے بیٹے امیدوار ہیں تو وہ ان کو جتوانے کے لئے تجوریوں کے منہ کھول دیں گے اور ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ان کا بیٹا الیکشن میں کامیابی حاصل کرے، تاہم تقریباً تمام تبصرہ نگاروں کے تبصرے غلط ثابت ہوئے اور خود پی ٹی آئی والے بھی حیران اور پریشان تھے کہ ان کے ساتھ ہو کیا گیا ہے؟

دراصل پی ٹی آئی کی عوام میں نہ تو جڑیں ہیں اور نہ ہی وہ عوام کی نبض سے پوری طرح واقف ہے۔ عمران خان نے سیاست میں دھرنے کا جو کلچر متعارف کرایا تھا، آج انہیں اسی فصل کو اپنے ہاتھوں سے کاٹنا پڑ رہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار پیر اقبال شاہ کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ وہ انتہائی سادہ انسان ہیں۔ انہوں نے عوام کے سامنے ان حقائق کو رکھا، جنہیں کوئی بھی آج جھٹلا نہیں سکتا۔ وہ عوام کے سامنے اپنا مقدمہ لے کر گئے اور سرخرو ہوئے۔

انہوں نے عوام کو باور کرایا کہ انہیں گالیوں کی سیاست چاہئے یا وہ اپنے حقوق کا حصول چاہتے ہیں؟عوام نے بھی جب دیکھا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ انتخابات میں عوام سے جو وعدے کئے تھے، وہ ایک ایک کر کے انہیں پورا کرتی جا رہی ہے تو پھر انہوں نے جیت کا تاج مسلم لیگ (ن )کے امیدوار کے سر پر رکھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے دیکھا کہ مسلم لیگ(ن) نے وعدہ کیا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے کام کریں گے۔ پھر سب نے دیکھا کہ کس طرح ایک ایک کر کے پاور سٹیشنز کے افتتاح ہوتے چلے گئے۔

لوڈشیڈنگ میں کمی آتی گئی۔ بجلی کا محکمہ جدت اختیار کرتا گیا۔ بجلی چوری میں واضح کمی آ گئی۔ لوگوں کو بجلی کی میٹرریڈنگ سے جو شکایت تھی، وہ بھی دور ہو گئی۔ اب بجلی کے بلوں پر میٹر کی ریڈنگ لئے جانے کی تصاویر آتی ہیں، جن کو چیلنج یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح اب واٹس ایپ کے اوپر بجلی کے بل کی تفصیلات بھی آنا شروع ہو جائیں گی۔ بجلی کی شکایات یا اس سے متعلقہ تمام معلومات لینے کے لئے کئی موبائل ایپس بھی بن چکی ہیں، جن سے گھر بیٹھے بجلی کا بل دیکھا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی شکایات بھی درج کرائی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح جب حکومت نے اقتدار سنبھالا تو دہشت گردی اپنے عروج پر تھی۔ شمالی وزیرستان سے دہشت گرد نکل کر پورے ملک میں کارروائیاں کر رہے تھے۔ آئے روز دھماکے معمول بن چکا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ گھر سے نکلا ہے تو واپس آ سکے گا یا نہیں۔

سر شام سڑکیں ویران ہو جاتیں اور لوگ گھروں میں محصور ہونے پر مجبور ہو جاتے۔ ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں دھماکہ نہ ہو جائے۔ پھر سول ملٹری تعاون کی مثال بھی دنیا نے دیکھی۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہوا تو سول ملٹری قوتیں یکجان ہوئیں، عوام نے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالا، یوں پورے ملک سے دہشت گردوں اور شر پسندوں کا صفایا ہو گیا۔

اسی طرح کراچی جو کئی عشروں سے لا قانونیت اور بدامنی کا شکار تھا اور جہاں پیپلزپارٹی کئی بار اقتدار میں آ کر بھی امن و امان قائم نہیں کر سکی تھی، وہاں مسلم لیگ (ن) نے صرف تین برس کے قلیل عرصے میں کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنا دیا۔ یہاں دوبارہ امن قائم کر دیا۔

حلقہ 154میں مسلم لیگ (ن )کی کامیابی کی ایک وجہ اور بھی تھی اور وہ یہ کہ یہاں حکومت نے بے پناہ ترقیاتی کام کرائے۔ تعلیمی ادارے بنائے، سکول اور ڈگری کالج تعمیر کئے۔ سڑکوں کو کارپٹ کیا۔

صحت کے مراکز کو جدید اصولوں پر استوار کیا۔ ہسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کو بہتر کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ قائم رکھا۔ عوام کے جو جو مسائل تھے، وہ ایک ایک کر کے حل کئے گئے۔

اس کے برعکس تحریک انصاف کے راہنماؤں کا سارا زور جلسے جلوسوں کی گھن گرج اور حکومت پر الزام تراشی تک ہی محدود رہا۔ ان کا خیال تھا کہ عوام ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جائیں گے اور وہ بآسانی یہ سیٹ جیت جائیں گے۔

مسلم لیگ (ن )کے امیدوار کی کامیابی دراصل جمہوریت کی بھی جیت ہے۔ عوام اپنا فیصلہ کرنے کے لئے پوری طرح آزاد ہیں۔وہ مخالفین کے جھوٹے وعدوں اور فریبی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں۔

انہیں ایسی سیاست نہیں چاہئے جو ان کے مسائل کو مزید گمبھیر کر دے۔ وہ کسی لالچ میں آ کر اپنا ووٹ نہیں ڈالتے، بلکہ ملک کی خوشحالی کے لئے جو جماعت کام کرتی ہے، وہ اس کے حق میں اپنا وزن ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ا

نہیں مسلم لیگ (ن) کی شکل میں ایک ایسی جماعت نظر آتی ہے جو ملک کو کئی عشروں سے درپیش مسائل کے چنگل سے نکالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے،اسی لئے انہوں نے لودھراں میں اپنا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں سنایا ہے اور مخالفین کا ایسا احتساب کیا ہے جو انہیں مدتوں یاد رہے گا۔

مزید : رائے /کالم