گڈ گورننس ؟

گڈ گورننس ؟
 گڈ گورننس ؟

  

موجودہ حکمرانوں کے بعض وزیروں اور غیر سیاسی دانشوروں کو گڈ گورننس کی اصطلاح استعمال کرنے کا بڑا شوق ہے لیکن گڈ گورننس کس جانور کا نام ہے اِسے نہ حکمران جانتے ہیں اور نہ ہی عوام، میرا خیال ہے کہ گڈ گورننس کا اُردو ترجمہ بہترین حکمرانی ہے۔

مَیں قطعی طور پر موجودہ حکمرانوں کے وزیروں، مشیروں کے بیانات یا اظہار خیال پر لکھنا نہیں چاہتا، لیکن مَیں بھی پاکستان کا شہری اور اِس معاشرے کا حصہ ہوں۔

اپنے وجود میں دل رکھتا ہوں، زبان رکھتا ہوں، حکومتی نہیں، اپنا ذاتی دماغ رکھتا ہوں، لیکن اِن معزز لوگوں کے منہ سے گڈ گورننس والی حکومت کی تعریف سُن کر دل جلتا ہے کہ عوام کو احساس تحفظ، انصاف، ملاوٹ سے نجات، تعلیم اور صحت کی سہولتیں وغیرہ مکمل حاصل نہیں۔

ہر روز معاشرے میں جرائم ہو رہے ہیں، لوگ چیخ رہے ہیں، لوٹ مار ہو رہی ہے، چوریاں، ڈکیتیاں بہت ہیں، شہروں میں تو تمام جرائم منظر عام پر آجاتے ہیں، دور دراز علاقوں، پسماندہ اضلاع میں عوام کے ساتھ واقعات لکھوں گا تو جگہ کم پڑ جائے گی پھر بھی حکمرانوں کے قصیدہ خواں گڈ گورننس کی تعریفیں کر رہے ہیں، حکومت نے جرائم پر قابو پانے کا آسان سا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے، جہاں بے پناہ زیادتی ہو یا قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکامی کی مثال بن

جائیں، وہاں وزیراعلیٰ صاحب جہاز پر بیٹھ کر خود پہنچیں اور مظلوم خاندان کو سرکاری خزانے سے پانچ لاکھ عنایت فرمائیں، نوکری دینے کا وعدہ، فوٹو بنوا کر انتظامیہ کے لئے دوچار سخت فقرے بول کر واپس تشریف لے آئیں، چند دنوں میں لوگ واردات کو بھول جاتے ہیں، صرف قصور والے کیس زینب کو تمام لوگوں نے اٹھایا ہے، قصور میں ہونے والے پہلے جرائم کا کچھ ہوا تھا نہیں۔ چونکہ وارداتوں کے بعد نئی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں، لوگ ایک کے بعد دوسری بھول جاتے ہیں، کم عرصے میں کئی کئی وارداتیں توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں اور حکمران بھی دوسرے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں، نہ جانے گڈ گورننس کے یہ تحفے عوام تک کب پہنچیں گے، ایسا لگتا ہے ہماری حکومتیں گڈ گورننس کے بنیادی تقاضے بھی فراموش کر چکی ہیں یا پھر اِن تقاضوں کو پورا کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔

امن و سکون کا براہ راست تعلق جرائم سے ہے جس شہر، ضلع یا صوبے میں ہر روز لاکھوں، کروڑوں کی وارداتیں ہوتی ہیں اور کسی سڑک پر شہری محفوظ نہ ہو، وہاں سکون اور احساس تحفظ صرف حکمرانوں اور بالائی طبقوں کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے تحفظ کا بہترین انتظام کر سکتے ہیں۔ صوبے بھر میں اسٹریٹ کرائم، چوری ،فراڈ، لوٹ مار زوروں پر ہے اور ساتھ ہی گڈ گورننس کے راگ الاپے جا رہے ہیں۔

لاہور تو بہت بڑا شہر ہے مگر صوبے کے دیگر شہروں میں بھی حالات اچھے نہیں ہیں، پولیس کی نفری کم ہے، وی آئی پی ڈیوٹی پر مامور ملازمین عوام کی کیا خدمت کر سکتے ہیں، چھوٹے چھوٹے شہروں میں بنکوں سے رقم نکلوانے والے شہری لوٹ لئے جاتے ہیں، ہر روز خبریں اخباروں کی زینت بنتی ہیں۔

کراچی میں بھی درجن افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جانیں لے لی جاتی ہیں لیکن اِس کے ساتھ ساتھ بنکوں پر حملوں، لوٹ مار اور بنک لاکروں کے ٹوٹنے کی وارداتیں اِس طرح بڑھ چکی ہیں کہ قانون نام کی کوئی شے یہاں موجود نہیں۔

اِس سے بڑی حیرت کیا ہوگی کہ اس لاقانونیت کے عروج کے دور میں قوم کو اربوں ڈالرز کی غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے کے وعدوں سے بہلایا جا رہا ہے، کیا اِس ملک میں کوئی غیر ملکی سرمایہ کار آئے گا جہاں اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو ہر وقت جان کا خطرہ ہو، وارداتوں کا خطرہ لاحق ہو، قدم قدم پر رشوت، کرپشن، سرخ فیتے اور ناانصافی کا سامنا ہو، جان ہتھیلی پر رکھ کر وہی آگے آئیں گے جن کے بازوؤں میں اپنی حفاظت کی طاقت ہو۔

بلاشبہ چین ہمارا بہترین دوست ملک ہے، چین کی پاکستان سے محبت غیر معمولی اور مثالی ہے اور چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن اُن کے ذہنوں میں خدشات موجود ہیں۔ پنجاب حکومت کے کچھ محکموں میں لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کرنے کے لئے سولر انرجی سسٹم پر کروڑوں روپے صرف کر دیئے گئے۔

اب پتہ چل رہا ہے کہ سولر پینل گھٹیا کوالٹی کے ہیں۔ چند ماہ میں اِس کی مرمت پر کروڑوں روپے خرچ ہو جائیں گے، تیز رفتاری میں منصوبہ بندی اور غور و فکر ضروری ہوتا ہے، اِس کا ایک نمونہ لاہور شہر میں ایک سگنل فری منصوبہ بنایا گیا جو عوام کے لئے تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے ۔

گڈ گورننس کی خوف ناک مثال یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں جعلی دواؤں، ملاوٹ، گندگی اور ناقص پانی کی سپلائی پر قابو نہیں پا سکیں، حالانکہ اِس مقصد کے لئے محکمے موجود ہیں، مراعات اور تنخواہیں بھی دی جا رہی

ہیں لیکن حکمران اپنی حکمرانی کی داد وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ اِس سے بڑا ظلم عوام پر کیا ہوگا جو سپریم کورٹ نے ایکشن لیا ہے کہ منرل واٹر کے نام پر بکنے والا پانی ناقص اور بیماریاں پھیلانے والا ثابت ہوا ہے۔

ان میں بیماریوں کے جراثیم پائے گئے، تمام بڑی بڑی منڈیوں میں مارکیٹوں میں کھانے پینے والی چیزیں ناقص اور مہنگی فروخت ہو رہی ہیں اور حکمران گڈ گورننس کے نعرے لگا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -