مہاجرین کے بھیس میں دہشت گرد

مہاجرین کے بھیس میں دہشت گرد

  

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے علاقوں سے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کردی ہیں تاہم 27لاکھ افغان مہاجرین اور غیر موثر سرحدی انتظامات کا فائدہ اٹھا کر بچے کھچے دہشت گرد پاکستان میں وارداتیں کرتے ہیں جنہیں آپریشن ردالفساد کے ذریعے نشانہ بنایا جارہا ہے کابل (افغانستان) میں چیف آف ڈیفنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ علاقائی امن و استحکام کا راستہ افغانستان سے گزرتا ہے خطے اکٹھے ترقی کرتے ہیں انفرادی طور پر نہیں، پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور جواب میں پاکستان بھی دوسرے ممالک سے ایسی ہی توقع رکھتا ہے، مشترکہ سوچ اور تحمل کے ساتھ تمام چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جس کے لئے پاکستان اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، کانفرنس کا اختتام خطے میں امن و استحکام کے لئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔

پاکستان اڑتیس برس سے افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے، دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوگا جس نے اتنے طویل عرصے کے لئے کسی ملک کے مہاجرین کا خیال رکھا ہو، اب بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ مزید کتنے سال کے لئے یہ افغان مہاجرین پاکستان کی سرزمین پر موجود رہیں گے، دیکھا یہی گیا ہے کہ جب کبھی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے تعاون سے انہیں واپس بھیجا جاتا ہے تو وہ اپنے ملک کا ایک چکر لگا کر تھوڑے ہی عرصے میں واپس آجاتے ہیں اور یوں واپس بھیجنے کی ساری مشق اکارت جاتی ہے، اتنی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی موجودگی سے پاکستان کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں اگر ان مہاجروں کو ایران کی طرح کیمپوں تک محدود رکھا جاتا تو شاید منفی اثرات کا دائرہ زیادہ وسیع نہ ہوتا لیکن یہ مہاجرین کیمپوں سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گئے، ایک بڑی تعداد نے تو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوا لئے اور پاکستانی شہری بن کر بیرونِ ملک بھی چلے گئے، یہ تعداد ہزاروں میں تھی جب کبھی ان میں سے کوئی کسی غیر قانونی سرگرمی میں پکڑا جاتا تو بدنامی پاکستان کی ہوتی، جن ملکوں نے ایسے پاسپورٹ ہولڈرز کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کیا تحقیق پر وہ افغان مہاجر نکلے، اندرونِ ملک بھی انہوں نے ہر شہر میں مختلف النوع سرگرمیاں اور کاروبار شروع کردئے اور اب تک یہ کام کررہے ہیں۔ بعض منشیات فروشی میں بھی ملوث پائے گئے۔

یہ مہاجرین اگر یہیں تک محدود رہتے تو بھی خرابی زیادہ نہ پھیلتی لیکن جب ان مہاجرین کے پردے میں دہشت گرد بھی آنے لگے تو معاملے نے ایک خوفناک رُخ اختیار کرلیا پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے طویل اور جان لیوا آپریشنوں کے بعد بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کردیا اور ان علاقوں میں زندگی معمول پر آنے لگی تو دہشت گردوں نے افغان مہاجروں میں چھپ کر پناہ ڈھونڈلی۔ اب ایسے دہشت گردوں کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ کسی نہ کسی طرح واردات کردیتے ہیں ایسے میں اگر مہاجر کیمپوں میں کوئی سرچ آپریشن وغیرہ کیا جاتا ہے تو افغان حکومت اس پر شور مچا دیتی ہے پاکستان کے آرمی چیف نے کابل کانفرنس میں اس معاملے کو اُٹھا کر بروقت اقدام کیا ہے اس کانفرنس میں امریکی جرنیل بھی شرکت کررہے ہیں اِس طرح اُن کو اندازہ ہوجائیگا کہ وہ جو پاکستان پر مزید کارروائیوں پر زور ڈالتے رہتے ہیں اور یہ الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ افغان مہاجروں کی موجودگی کی وجہ سے دہشت گرد فائدہ اٹھاتے ہیں، اس سلسلے میں امریکہ اور افغانستان دونوں کو ایسا کردار ادا کرنا چاہئے کہ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاسکیں واپسی کے لئے اقوامِ متحدہ سمیت ڈونر ملکوں کا بہت زیادہ تعاون درکار ہے اگر افغان مہاجرین کا یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے اور وہ اپنے وطن چلے جائیں تو اس میں پاکستان کے اطمینان کے بہت سے پہلو ہوں گے، اول تو مہاجرین کی اُن کے وطن واپسی سے پاکستان کی معیشت پر بوجھ کم ہوگا اور دوسرے کوئی دہشت گرد بھی اُن کے پردے میں نہ چھپ سکے گا اور نہ ہی کوئی دہشت گردی کرسکے گا۔

سرحدی مینجمنٹ کے سلسلے میں اگرچہ پاکستان نے اپنے طور پر بہت سے اقدامات کئے ہیں، باڑ لگانے کا کام بھی تیز رفتاری سے جاری ہے تاہم ابھی اس ضمن میں افغان حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہے اگر ایسا ہو جائے تو یہ دونوں ملکوں کے لئے مفید ہوگا اور سرحدوں سے غیر قانونی آمدورفت بھی بند ہو جائیگی افغانستان کو پاکستان نے ہمیشہ ہی یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، آرمی چیف نے ایک بار پھر کابل کانفرنس میں اس یقین دہانی کا اعادہ کردیا ہے، اس کی روشنی میں آگے بڑھ کر ایسے اقدامات کئے جا سکتے ہیں کہ نہ صرف دونوں ملکوں میں سے کسی کو شکایت پیدا نہ ہو بلکہ پُرامن اور مستحکم افغانستان کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بالکل درست کہا ہے کہ خطے کے امن کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے۔پورے ایشیا کا امن پُرامن افغانستان سے جڑا ہوا ہے اس لئے اس کانفرنس کے ذریعے اگر ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جو بالآخر امن کا باعث ہو ں تو اس کی خوشی پاکستان کو بھی ہوگی کیونکہ افغانستان کے غیر مستحکم حالات سے پاکستان براہ راست متاثر ہوتا ہے۔کابل کانفرنس اس لحاظ سے بھی ایک خوش آئند واقعہ ہے کہ امریکہ کی شرکت کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کی سردمہری کو ختم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ امریکہ کے جو جرنیل امریکی افواج کی کمان کر رہے ہیں ان کے تو براہ راست علم میں ہے کہ افغانستان کے حالات میں بہتری کیوں نہیں ہو رہی اور اس کے لئے کس قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی سیاسی پالیسی کی وجہ سے جو انہوں نے بھارت کی خوشنودی کے لئے اپنائی ہے۔ اس ضمن میں کوئی ایسی لب کشائی نہ کر سکتے ہوں جس سے امریکہ کی پالیسی کی خامیاں سامنے آئیں لیکن اگر امریکی فوج نے بالآخر کابل سے حفاظت کے ساتھ واپس جانا ہے اور ایک مستحکم افغانستان چھوڑ کر جانا ہے تو یہ ضروری ہے کہ فوجی قوت پر سارا انحصار کرنے کی بجائے ڈپلومیسی کو بھی اچھی طرح آزمایا جائے، دنیا کی ساری جنگوں کے بعد مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں، اس لئے اس کھڑکی کو کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -