ضمنی انتخاب: فتح کیوں اور کیسے؟

ضمنی انتخاب: فتح کیوں اور کیسے؟
 ضمنی انتخاب: فتح کیوں اور کیسے؟

  

لودھراں این اے 154 کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے مسلسل بات ہو رہی ہے اور نتیجے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی معلومات کے مطابق نتیجہ اخذ کرکے رائے دے رہا ہے۔

یہ امر بھی فطری ہے کہ اب تک کسی نے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سے آگے بڑھ کر بات نہیں کی۔ یہ درست کہ ہر دو کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا اور فتح مسلم لیگ(ن) کے حصے میں آئی، تاہم چونکا دینے والا ایک اور نتیجہ بھی ہے جس کے مطابق اس ملک کی ایک اور بڑی پارٹی کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہو گئی ہے۔

یہ پیپلزپارٹی کے باقاعدہ امیدوار مرزا علی بیگ ہیں جن کو صرف تین ہزار سات سو کے قریب ووٹ ملے ہیں ان سے بہتر ایک بار پھر تحریک لبیک تیسرے نمبر پر آئی۔ یوں پیپلزپارٹی جو 2018ء کے انتخابات میں قومی سطح پر جیتنے کی دعویدار ہے۔

لاہور کے حلقہ این اے 120 والی کارکردگی کو بھی بہتر نہ بنا سکی حالانکہ جنوبی پنجاب میں اس کے بڑے بڑے ستون ہیں اور یہ لودھراں تو جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور سینئر وائس چیئرمین، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دائرہ اثر میں ہے۔

جہاں تک تحریک لبیک کا تعلق ہے تو حلقہ 120 این اے کے ضمنی انتخاب میں اس کا امیدوار قریباً اتنے ہی ووٹ لے گیا تھا اور اس بار بھی گیارہ ہزار سے زائد لوگوں کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے اس معرکے کی بات بعد میں کرتے ہیں اور پیپلزپارٹی کے بارے میں پہلے اظہار کر لیتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی آج بھی ملک کی ایک بڑی پارٹی ہے لیکن اسمبلیوں میں نمائندگی کے اعتبار سے سندھ تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔

پارٹی نے بلاول بھٹو کو آگے بڑھا کر عوامی رجحان کو پکارا لیکن اب تک تو یہی اندازہ ہوا کہ اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا اور صورت حال جوں کی توں ہے کہ سندھ میں تاحال اپنے حلقہ اثر میں موجود ہے اور اس سے باہر بھی اثرات مرتب کر رہی ہے لیکن پنجاب میں اکھڑے پاؤں ابھی تک واپس نہیں جم پائے۔

اس کا اندازہ حلقہ این اے 120کے بعد این اے 154کے نتائج سے بھی ہوتا ہے۔ حلقہ 120شہری اور زندہ دلان لاہور سے متعلق ہے جبکہ لودھراں والا حلقہ 154، دیہی معاشرت کا ہے جو حضرات 1969ء اور 70والے ہیں۔ ان کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بیک وقت شہری اور دیہی عوام کو متاثر کیا تھا اور ہر حصے سے نشستیں حاصل کی تھیں۔

ان کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کے ادوار میں بھی اتنی بری حالت نہیں تھی وہ بھی دیہی اور شہری حلقوں میں یکساں مقبول تھیں، لیکن موجودہ پیپلزپارٹی ہر دو حلقوں میں یکساں کارکردگی کی حامل پائی گئی جو چنداں خوشگوار نہیں۔

پیپلزپارٹی والوں کو خود ہی اس پر غور کرنا ہوگا کہ خالی خولی بیانات اور تقریروں سے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ پیپلزپارٹی (موجودہ) نے 2007ء دسمبر میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو پالیسی اختیار کی وہ قطعاً پارٹی کے بنیادی نظریئے سے میل نہیں کھاتی تھی اور بہت فرق آ گیا تھا، حتیٰ کہ 2008ء سے 2013ء کے دور اقتدار میں کوئی بڑی کارکردگی دکھا سکی اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کے سامنے بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کر پائی، بلکہ مفاہمت کے نام پر گالیاں کھا کر بے مزہ نہ ہوا والا قصہ چلتا رہا، محترم یوسف رضا گیلانی سے لے کر راجہ پرویز اشرف تک بھی کوئی معرکہ سرانجام نہ دے سکے۔

اب کہا جاتا ہے کہ تب جوڈیشل ایکٹوازم اور غیر مرئی قوتوں نے ہاتھ پاؤں باندھے رکھے۔ بھائی آپ حضرات سیاسی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو آپ کی نظر مستقبل پر بھی ہونا چاہیے تھی۔

اگر آپ حضرات حکومت سے باہر والے عرصہ کی ’’کسر‘‘ پوری کرنے والا کھیل نہ کھیلتے تو یہ نوبت نہ آتی۔ بہرحال دونوں حلقوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج پر غور کریں اور پھر جماعتی لائحہ عمل اور حکمت عملی تیار کریں، ورنہ مستقبل بھی ایسا ہی ہوگا۔

جہاں تک تحریک لبیک کا تعلق ہے تو یہ نیا عنصر ہے جو سیاست میں داخل ہوا ہے، یہ جماعت یا تنظیم خالص فرقے کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے اور اسے پہلے ہی ہلے میں اتنی پذیرائی مل گئی ہے۔

یہ درست کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ ظاہر ہے کہ ایسی جماعتوں کو عوامی نمائندگی کے حوالے سے عوام میں پذیرائی نہیں ملی، تاہم حالیہ نتائج سے چونکنا چاہیے کہ یہ بات بڑھے گی تو یہ جماعت اور کچھ ہو نہ ہو، انتخابی نتائج اور عمل پر ضرور اثر انداز ہوگی۔

اس کے دوسرے اثرات بھی ہیں ان پر فی الحال بات نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ مجاز حضرات کو تجزیہ ضرور کر لینا چاہیے۔

اب بات کرتے ہیں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے معرکے کی تو گزارش یہ ہے کہ لودھراں کے ضمنی انتخاب میں نظریاتی سے زیادہ گروہی اثرات اور مفادات کی فتح ہوئی ہے۔ دیہی معاشرت کے اس حلقے میں دھڑے بندی، برادری ازم اور جماعتی سربراہوں کی شہرت نے مل جل کر کام کیا اور اگر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے پورا پورا تجزیہ کرکے اپنی حکمت عملیوں میں تضادات کو دور نہ کیا اور ایک عوامی حکمت عملی اختیار کرکے عوام کی توجہ حاصل نہ کی تو 2018ء کے جنرل الیکشن بھی ایسے ہی نتائج دیں گے، اس کا اندازہ لودھراں والے نتائج سے ہو جاتا ہے۔

ایسا محسوس ہوا کہ جہانگیر ترین اور عمران خان زیادہ خود اعتمادی میں رہے اور انہوں نے تمام انتخابی پہلوؤں پر توجہ نہیں دی، جبکہ صدیق کانجو(مرحوم) کے صاحبزادے عبدالرحمن کانجو نے خالصتاً دیہی سیاست کی اور اس علاقے کے مختلف دھڑوں کو اکٹھا کرکے ایک ایسے امیدوار کو سامنے لائے جو نیک نام اور شرافت کی شہرت کا حامل ہے اور روحانیت میں بھی عمل دخل رکھتا ہے۔

یوں جہانگیر ترین کے زعم کے مقابل محنت اور جوڑ توڑ نے بھی کام کیا اور اس پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر سابق وزیراعظم کی محاذ آرائی بھی کام آئی کہ عام پنجابی رجحان کے مطابق ان کو بہادر جانا گیا اور پنجاب والے بہادر کی قدر کرتے ہیں، یوں یہاں ایک مشترکہ کاوش ہوئی اور محنت نے پھل دیا جبکہ عمران خان اور جہانگیر ترین نے شہرت سے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی چنانچہ دم پھولنا تھا اور ایسا ہی ہو گیا۔ عمران خان کو بھی غصہ تھوک کر غور کرنا اور بہتر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -