نوشتۂِ دیوار

نوشتۂِ دیوار

مقتدرہ اور حکمراں جماعت میں شدید تناؤ کے باوجود سیاسی عمل کا بہاو رکا نہیں،ہماری سیاست نے سمندر کی مانند اوپر سے پرشور ہونے کے باوجود سطح کے نیچے زندگی کو قدرے پرسکون رکھا،اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریکیں محدود دائروں میں محو خرام رہیں اور میڈیا میں جاری کشمکش صرف رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کی حکمت عملی بن گئی،چنانچہ تمام تر خدشات کے باوجود وقت مقررہ پر سینٹ الیکشن کے انعقاد نے سیاسی افق سے کسی حد تک اندیشوں کے دھندلکوں کو صاف کر دیا ،تاہم میڈیا کی عجائب پسندی کے باعث رائے عامہ پر بے یقینی کے سائے بدستور منڈلاتے رہیں گے،شاید اسی نقاب ابہام کے پیچھے قومی سیاست میں کئی نئے رجحانات جگہ پا لیں،یہ تو واضح ہو گیا کہ موجودہ بندوبست کی بقا مقتدرہ اور عدلیہ سمیت سب کی ضرورت تھی،اس وقت ملکی نظام میں کارفرما تمام سیاسی قوتیں کسی نہ کسی صورت اقتدار کے سر چشموں سے بہرور ہو رہی ہیں،جو گروہ اقتدار کے اصلی مراکز پر تصرف رکھتے ہیں انہوں نے بھی پس چلمن بیٹھ کے کانفلکٹ مینجمنٹ کا فن سیکھ لیا، لیکن بہرحال! نوشتہ دیوار یہی ہے کہ اقتدار کے، حقیقی مالک، یعنی عوام کے منتخب نمائندے زیادہ دیر تک اپنی حقیر حیثیت پر قناعت نہیں کر پائیں گے، یہ شاید اسی احساس کا شاخسانہ تھا کہ نواز لیگ مرکز اور پنجاب میں برسر اقتدار ہونے کے باوجود عوام کے حق حاکمیت کے حصول کی خاطر طاقت کے مراکز سے ایسی غیر معمولی جنگ میں الجھ گئی جس کی ہماری تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی،امید ہے اس کشمکش کا انجام بخیر ہو گا، لیکن سینیسٹ الیکشن کے بعد جب ایوان بالا میں پارٹی پوزیشن بدلے گی تو قومی سیاست میں کئی دور رس تبدیلیاں رونما ہو پائیں گی،اگر جمود پرور قوتوں نے سینٹ میں تبدیلی کے امکانات کو روکنے کی کوشش کی تو یہ اقدام سیاسی جدلیات کو زیادہ بھڑکا دے گا،اسی پیش دستی نے سینٹ انتخابات میں بلوچستان کے سیاسی بندوبست کو تہہ و بالا کر کے جے یو آئی(ف)کی سیاسی قوت کو مضمحل کیا تو بلوچستان میں علاقائی قوم پرستی کے رجحانات کو توانائی ملے گی اور سندھ میں سینٹ الیکشن کو کنٹرول کرنے کی جسارت نے ایم کیو ایم کے تنظیمی ڈھانچہ کو توڑ ڈالا جس کا سیاسی فائدہ الطاف حسین کو ملے گا۔

اگر22 اگست دوہزار سولہ کو الطاف حسین سے لاتعلقی کے بعد ایم کیو ایم کو متبادل قیادت مل جاتی تو لوگ الطاف حسین کو جلد بھول جاتے، لیکن ایم کیو ایم کی بتدریج تحلیل اور مہاجر قیادت کی بے ثباتی نے الطاف حسین کی اہمیت کو دوچند کر دیا،اس وقت رابطہ کمیٹی کی باہمی کھنچا تانی ایم کیو ایم کو کمزور کرکے مہاجروں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہی ہے چنانچہ مہاجر اپنی قوت و شکوہ کی علامت ایم کیو ایم کو بکھرتا دیکھ کے سارے گلے شکوے بھول کر ایکبار پھر اسی الطاف حسین کی طرف دیکھنے لگیں گے جس نے سندھ میں طاقت کے توازن کو مہاجروں کے حق میں پھیر دیا تھا۔خیبر پختون خوا میں بھی سینٹ انتخابات کی پیشقدمی کچھ سیاسی تبدیلیوں کا ناقوس بجائے گی، جس سے پیپلزپارٹی،جے یو آئی اور اے این پی متاثر ہوں گی ،لیکن افغانستان سے ملحقہ مغربی بارڈر پر بڑھتی ہوئی کشیدگی آنے والے دنوں میں خیبر پختون خوا میں امن و امان کی صورت حال کو دگرگوں کر سکتی ہے،انتہائی باخبر ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ باجوڑ سے لیکر اورکزئی ایجنسی تک بارڈر کے اس پار داعش کی قوت بڑھ گئی،پچھلے دس ماہ کے دوران داعش جنگجووں کی تعداد آٹھ سو سے بڑھ کر 22 ہزار تک جا پہنچی،جنہیں بے نام ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کمک پہنچائی جا رہی ہے۔

باخبر ذرائع خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ داعش کا ہدف چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان بن سکتے ہیں،جہاں پہلے سے موجود مسلکی تنازعہ کو بھڑکا کے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں،سیکیورٹی ادارے ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ لہر کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایٹمی پاکستان کے خلاف براہ راست بیرونی جارحیت کے امکانات کم سہی ،لیکن اندر سے تارپیڈو کر کے مملکت کو متزلزل کرنے کی کوشش بعید از امکان نہیں،ہمارے دشمن سوسائٹی میں انتہا پسندی کے رجحانات کو پروان چڑھا کر معاشرے کے مختلف طبقات کو باہم دست و گریباں کر کے ریاست کو کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں،گزشتہ دس سالوں میں خیبر پختون خوا میں توہین مذہب کے پندرہ سولہ واقعات رونما ہوئے جن میں مردان کے مشال خان کیس اور چترال کے توہین مذہب واقعہ نے سماجی تقسیم کو بڑھایا،دشمن طاقتیں ایسے نسلی، لسانی اور مذہبی تضادات کو ہوا دینے کی کوشش کریں گی جو معاشرتی تصادم بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں،ذرائع کہتے ہیں کہ ہماری سوسائٹی کے کچھ عناصر لبنان کی مسلح تنظیموں سے تربیت حاصل کرتے ہیں اور بعض گروہوں کے شام کے مزاحمت کاروں سے رابطے ہیں،جو ریاست کی اتھارٹی پر بھروسہ کرنے کی بجائے مصنوعی خطرات کے تدارک کی خاطر خود کو مسلح و منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان حالات میں کوئی بھی حادثہ ہمیں کبھی نہ تھمنے والی خانہ جنگی کی راہ پہ دھکیل سکتا ہے،ایسے میں اگر قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا گیا تو یہ صوبہ پولیس کے لئے جہنم بن جائے گا،پولیس داعش کے تربیت یافتہ جنگجووں کا مقابلہ کر سکے گی نہ اس کے لئے صدیوں سے آزاد قبائلی سماج کو قانون کی گرفت میں لانا ممکن ہو گا، جس سے پولیس فورس کا روایتی ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا،جب تک مغربی بارڈر پر حالات ٹھیک نہیں ہوتے قبائلی پٹی پولیٹیکل سسٹم اور فوج کے زیر انتظام رہے تو بہتر ہو گا۔آئی جی ایف سی میجر جنرل عابد لطیف نے عمائدین شہر سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے جمعہ کو کالعدم سپاہ صحابہ کے تیمور بلوچ اور امام بارگاہ کے متولی مطیع اللہ کو قتل کرنے والا ایک ہی گروہ تھا جو یہاں شیعہ سنی فسادات کی آگ بھڑکانا چاہتا تھا، انہوں نے کہا، ڈیرہ اسماعیل خان پنجاب، بلوچستان، خیبر پختون خوا اور فاٹا کے سنگم پر واقع ہونے کے ناطے تزویری اہمیت کا حامل شہر ہے،جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ گوادرسے جڑا سی پیک کے مواصلاتی نظام کا محور ہونے کے باعث دشمن طاقتوں کا ممکنہ ہدف بن سکتا ہے۔

مملکت کے دشمن، پنجاب، بلوچستان خیبر پختون خوا اور فاٹا سمیت پورے ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اسی شہر کے امن کو خراب کرنے میں سرگرداں ہیں ،لیکن ہم مل کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔بلاشبہ دنیا کی کوئی فورس عوام کی سچی حمایت کے بغیر فتح یاب نہیں سکتی،سیکورٹی فورسز کی قوت شہریوں کی وفاداری میں مضمر ہوتی ہے،معاشرہ اگر دفاعی اداروں کے ساتھ ہم آہنگ ہو تو تشدد کے داخلی رجحانات پر قابو پانا آسان ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں مذہبی بنیادوں پر سوسائٹی کی ذہنی تقسیم کے علاوہ اختیارات پر تصرف کی جنگ بھی ہمارے داخلی نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے، ریاست کے بنیادی ستون ایک ایسی کشمکش کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں جو ملک کے انتظامی ڈھانچہ کے انہدام پہ منتج ہو گی،سیاسی نظام میں پایا جانے والا عدم توازن کسی ایسی سیاسی تحریک کو مواد فراہم کر دے گا جو قومی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دے گی۔

سیاست کا تعلق فطرت انسانی سے ہے اسلئے قدرتی طورپر ہمیں ملک میں ایسے نظام کی ضرورت تھی، جس سے معاشرے میں استحکام پیدا ہو،اصول و قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف اصول زندگی بنیں، لیکن اس کے برعکس گزشتہ 70 سالوں میں اختیارات کا مرکز مقتدرہ اور عدالتی فعالیت کے مابین منقسم رہا،ایوان اقتدار میں منتخب سیاستدانوں کی حیثیت نمائشی تھی،اس گٹھ جوڑ کے خلاف پہلی مزاحمت شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو نے کی، لیکن قومی تاریخ کے ایک دردناک موڑ پرحصول اقتدارکے بعد مسٹر بھٹو نے اپنی ذات میں ارتکاز قوت کے خبط میں مبتلا ہو کے نظام سیاست میں دیرپا تبدیلیوں کا سنہری موقعہ گنوا دیا،اگر مسٹر بھٹو جمہوری کلچرکے فروغ کے ذریعے اختیارات کی تقسیم کے فارمولے کو متوازن بنا کے عنان حکومت صحیح معنوں میں عوام کے ہاتھ دینے کا میکانزم تشکیل دیتے تو سیاسی اداروں کو مضبوط بنانے کے علاوہ طاقت کا سرچشمہ بھی عوام ہی رہتے ،لیکن افسوس کہ قول و فعل کے تضادات میں پھنسے مسٹر بھٹو نے اپنی ذات کو طاقت کا محور بنانے کے جنون میں ایک طرف پارٹی کے وفادار کارکنوں کو نظر انداز کر کے موقعہ پرست وڈیروں پر تکیہ کر لیا اور دوسری جانب عوام کو با اختیار بنانے کی بجائے قوت کے مراکز کے ساتھ سمجھوتوں کی راہ اپنا کر اپنی اصولی ونظریاتی اساس کھو دی۔

اب دوسری بار نوازشریف اسی جدلیات میں سرکھپاتے نظر آتے ہیں جو تقسیم اختیارات میں عدم توازن کو دورکر کے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس نے منتخب سیاست دانوں کو دیوار سے لگا رکھا ہے،یہ جنگ ہمارے فرسودہ نظام کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے اگر اسے فطری طریقوں سے مینیج نہ کیا گیا تو یہ معاشرے کو ریاست کے خلاف صف آرا کر دے گی۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...