چودھری نثار بھی کٹی پتنگ بن گئے

چودھری نثار بھی کٹی پتنگ بن گئے
چودھری نثار بھی کٹی پتنگ بن گئے

  

چوہدری نثار علی خان اُلٹی گنگا بہانے کی کوشش کر رہے ہیں، اِس لئے تنہا رہ گئے ہیں، سو بار پاکستانی سیاست میں اِس بات کا نتیجہ نکل چکا ہے کہ اِس میں سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔

خاص طور پر سیاسی جماعتوں کے خاندانی ورثاء کے سامنے جس نے سر اُٹھایا، وہ سڑک پر آ کھڑا ہوا، اِدھر کا رہا اور نہ اُدھر کا، غیرت کا جو بیانیہ چوہدری نثار علی خان نے اختیار کیا ہے، وہ شاید اوّلین بیانیہ ہے کیونکہ اِس سے پہلے کِسی نے ایسی غیرت کا تذکرہ نہیں کیا۔ مثلاً اُن کا یہ کہنا کہ میں اپنے سے چھوٹی عمر کی مریم نواز کو سر یا میڈم کیسے کہہ سکتا ہوں۔

آخر انسان کی غیرت و وقار بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ابھی تو مریم نواز کو پارٹی کی صدارت یا آئندہ کے لئے وزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سونپی نہیں گئی، پھر چوہدری نثار علی خان پیش بندی کے طور پر ایسا کیوں کہہ رہے ہیں، گویا وہ پہلے ہی سے یہ ضمانت مانگ رہے ہیں کہ مریم نواز کو پارٹی کی کمان نہیں سونپی جائے گی، تب جا کر وہ پارٹی میں شامل رہیں گے۔

وہ شاید سمجھ رہے ہیں کہ پارٹی اور نوازشریف کو اُن کی اتنی سخت ضرورت ہے کہ وہ اُن کی خاطر مریم نواز کو بھی پس پشت ڈال دیں گے۔ حالانکہ ابھی دو روز پہلے جب پنجاب ہاؤس میں طلال چوہدری نے یہ کہا کہ نا اہلی کے فیصلے کے بعد جنہوں نے آپ کو جی ٹی روڈ کی بجائے موٹر وے سے جانے کا مشورہ دیا، وہ آپ سے کل مخلص تھے اور نہ آج مخلص ہیں۔

اس پر نوازشریف نے پوچھا کہ کیا اِن میں سے کوئی ایک بھی اِس وقت پنجاب ہاؤس میں موجود ہے۔ گویا اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اُن سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا۔

لیکن دوسری طرف آئے روز پریس کانفرنس کر کے چودھری نثار یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پارٹی کے لئے ناگزیر ہیں، لیکن مریم نواز کی قیادت میں کام نہیں کریں گے۔

چودھری نثار علی خان کو کیا ملک کی تاریخ بھی یاد نہیں۔ اُنہیں معلوم نہیں کہ جب بے نظیر بھٹو 1986ء میں لاہور آئی تھیں تو اُن کی عمر صرف 34 سال تھی۔ وہ غیر شادی شدہ تھیں اور عملی سیاست کا اُنہیں کوئی تجربہ بھی نہیں تھا مگر اِس کے باوجود پیپلزپارٹی کے تقریباً بابے اُن کے گرد اکٹھے ہو گئے، اِس لڑکی کو اُنہوں نے اپنا لیڈر مان لیا کیونکہ اس کے بغیر وہ صفر تھے۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ بے نظیر بھٹو نے انکلز سے نجات حاصل کرنے کا پلان بنایا۔

اِس کی وجہ سے کئی فارغ ہوگئے اور کئی ایک نے بے نظیر بھٹو کی تابعداری کو زندگی کا مشن بنا لیا۔ غلام مصطفیٰ جتوئی، غلام مصطفیٰ کھر، ممتاز علی بھٹو وغیرہ جیسے بڑے لیڈر بھی بے نظیر کی اطاعت سے نکل کر سیاسی لحاظ سے غیر اہم ہو گئے۔

جو بے نظیر بھٹو کو لیڈر مان کر ساتھ کھڑے رہے، انہوں نے وزارتیں بھی پائیں اور پارٹی نے اُنہیں عزت بھی دی، کیا پیپلزپارٹی کے کسی رہنما نے یہ اعلان کیا کہ بے نظیر بھٹو چونکہ ایک جونیئر خاتون ہیں، اِس لئے وہ اُن کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔

کیا کوئی دوسرا پیپلزپارٹی میں ایسا تھا جو بھٹو کی وراثت کو زندہ رکھ سکتا کیا سیاسی جماعتوں میں عہدے عمروں کے حساب سے دیئے جانے چاہئیں کیا چودھری نثار علی خان مریم نواز جیسی مقبولیت رکھتے ہیں کیا پارٹی قیادت کی ذمہ داری ان پر ڈال دی جائے تو وہ نوازشریف کا خلاء پورا کر سکیں گے۔

کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ چودھری نثار علی خان نرگسیت کا شکار ہیں، ایسی نرگسیت جو اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف دیکھنے ہی نہیں دیتی۔ اصل میں یہ نرگسیت بھی اُن میں اس لئے پیدا ہوئی کہ نوازشریف نے اُنہیں حد درجہ اہمیت دے رکھی تھی۔

وہ عملاً پارٹی کے نمبرٹو تھے۔ بلکہ کبھی تو وہ یہ تاثر دیتے تھے کہ نوازشریف بھی اُن سے پوچھ کر چلتے ہیں، ظاہر ہے اب ہنی مون کا یہ دور موجود نہیں، اب تو حالات بھی بدل چکے ہیں اور نوازشریف کا بیانیہ بھی، اب تو میاں صاحب کو ہر وہ بندہ زہر لگتا ہے جو اُنہیں لہجے کو نرم رکھنے کا مشورہ دیتا ہے چہ جائیکہ چوہدری نثار علی خان جیسا شخص کہ جو کھلم کھلا اُنہیں بیانیہ بدلنے کی وارننگ دیتا ہے۔

جس بات کو چوہدری نثار علی خان نے اپنا دکھ بنا لیا ہے، وہ تو اب ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اگر وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اُن کی باتوں سے مجبور ہو کر نوازشریف مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین کہنا چھوڑ دیں گے تو یہ اُن کی احمقانہ خواہش ہے۔

کیا سب دیکھ نہیں رہے کہ مریم نواز اب سائے کی طرح نوازشریف کے ساتھ موجود ہیں، نوازشریف کے جلسوں میں زیادہ گھن گرج اور کٹیلا لہجہ تو مریم نواز کا ہوتا ہے۔

نوازشریف تو بوقتِ ضرورت اپنے بعد بھی اُن سے تقریر کروا لیتے ہیں، اگر مریم نواز نہ ہوں تو نوازشریف کے بیانیے کی اتنے بلند آہنگ میں تائید کون کرے گا۔ شہبازشریف تو ایک دن بھی اس بیانیے کی طرف نہیں آئے۔

سیریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر تو اُنہوں نے کھل کر کہہ دیا کہ وہ عدلیہ کا ہمیشہ سے احترام کرتے ہیں اور حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ وہ یہ بات اپنی پارٹی کو بھی سمجھائیں، غالباً اُن کا اشارہ نوازشریف کی طرف تھا۔ لیکن یہ بیانیہ تو نوازشریف نے اپنے بھائی کے کہنے پر بھی نہیں بدلا، کسی اور کے کہنے پر کیسے بدل سکتے ہیں۔

حیرت ہے کہ چوہدری نثار علی خان اتنے سامنے کی بات کو سمجھ نہیں پا رہے اور معجزے کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور معجزہ بھی ایسا کہ مریم نواز کسی طرح منظر سے غائب ہو جائیں اور اُنہیں نوازشریف کے بعد سب سے اہم مرتبہ حاصل ہو جائے۔ نوازشریف تو اس بات پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں کہ اُنہوں نے جو موقف اختیار کیا تھا، عوام اب اُسے سمجھنے لگے ہیں اور لودھراں کے ضمنی انتخاب کا فیصلہ عوام کے اسی رجحان کو ظاہر کرتا ہے، جس راستے پر چلنے کو میاں صاحب کامیابی کی وجہ قرار دیتے ہیں، اُس راستے کو بھلا کیسے چھوڑ سکتے ہیں اور وہ بھی صرف چوہدری نثار علی خان کو پارٹی میں رکھنے کے لئے۔

کوئی مجھ سے پوچھے تو مجھے چوہدری صاحب کی حالت دیکھ کر ترس آتا ہے۔ ایک بڑا لیڈر جب اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کو سب سے زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے تو تنہا رہ جاتا ہے۔

مجھے کوئی بتائے کہ آج کل چوہدری نثار علی خان کے ساتھ کون ہے، میرا تو خیال ہے کہ شہبازشریف بھی اِن حالات میں چوہدری نثار علی خان کے بیانیے کی حمایت نہیں کریں گے۔

اگر شہبازشریف کو واقعی آئندہ کے وزیراعظم کا اسٹیٹس دینا ہے تو پھر وہ اُس بیانیے کے ساتھ تو ہرگز نہیں ہو سکتا، جو چوہدری نثار نے اختیار کر رکھا ہے۔

اُس بیانیے کے ساتھ تو شاید شہبازشریف پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے بھی جائیں، اُن کی طاقت تو وہی بیانیہ بن سکتا ہے جسے نوازشریف نے اختیار کر رکھا ہے اور جو اُن کی پہچان بن چکا ہے۔

مجھے تو چوہدری نثار اور فاروق ستار ایک ہی کشتی کے سوار نظر آتے ہیں، دونوں اپنی منزل کی تلاش میں ہیں اور دونوں کو کٹی پتنگ سمجھ کر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف لوٹنے کی فکر میں ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے لئے تو بہت مشکل ہے کہ وہ پیپلزپارٹی یا تحریک انصاف میں جائیں کیونکہ مہاجر سیاست کا کمبل اُن کی کبھی جان نہیں چھوڑے گا۔ البتہ چوہدری نثار علی خان کو عمران خان کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ نوازشریف کی عدلیہ مخالف تحریک کے خلاف تحریک انصاف اور چوہدری نثار علی خان کے موقف میں گہری مطابقت ہے۔

ویسے بھی جہانگیر ترین کے بعد تحریک انصاف میں سیکرٹری جنرل کا عہدہ خالی ہوجائیگا کیونکہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد ہوگئی تو ترین کو سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا جائیگا خود عمران خان کو بھی ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی اشد ضرورت ہے جو پارٹی کے تنظیمی معاملات کو بہتر بنا سکے۔ پھر عمران خان کے ساتھ اُن کی گہری دوستی بھی ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کو بہتر بنا سکتی ہے۔ ویسے بھی چوہدری نثار علی خان کو تحریک انصاف میں شامل ہونے کے بعد یہ شکوہ نہیں ہوگا کہ وہ کسی جونیئر کے نیچے کام کر رہے ہیں۔ عمران خان تو عمر میں بھی اُن سے بڑے ہیں اور پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔

لیکن چوہدری نثار علی خان ایسی ہمت کہاں سے لائیں گے کہ مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہہ سکیں۔ اس کے بارے میں تو یہی کہا جاتا ہے، چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔

جاوید ہاشمی اسے چھوڑ کر تحریک انصاف میں چلے گئے تھے۔ پھر اُسے خیرباد کہہ کر لوٹ آئے اور ایک طویل عرصہ مسلم لیگ (ن) میں باعزت واپسی کا انتظار کیا۔

مشاہد حسین سید کو بھی بالآخر مسلم لیگ (ن) ہی میں عافیت محسوس ہوئی، وہ سب لوگ جو مشرف کے اقتدار سنبھالنے پر نوازشریف کو چھوڑ گئے تھے، اقتدار میں آتے ہی گردان کبوتروں کی طرح واپس آ گئے اور نوازشریف نے اُنہیں قبول بھی کر لیا، صرف اس خوبی کی وجہ سے وہ سب نوازشریف کی محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتے اور تابعداری میں بھی کوئی کمی نہیں چھوڑتے، چوہدری نثار علی خان اس حوالے سے مات کھا گئے ہیں، وہ ایک نیا بیانیہ لائے ہیں کہ نوازشریف کے نیچے تو کام کر سکتا ہوں، مریم نواز کو پارٹی قائد نہیں مان سکتا، بھلا یہ بھی کوئی بیانیہ ہے، تابعداری تو تابعداری ہوتی ہے۔ چاہے نوازشریف کی ہو یا مریم نواز کی۔ مقبول سیاست میں بندے کی عمر نہیں مقبولیت دیکھتی جاتی ہے اور مریم نواز اس حوالے سے بہت آگے جا چکی ہیں۔

مزید : رائے /کالم