یونیورسٹی اساتذہ کو نظر انداز کرکے باہر سے وائس چانسلر لگانا اساتذہ کا استحصال ہوگا

یونیورسٹی اساتذہ کو نظر انداز کرکے باہر سے وائس چانسلر لگانا اساتذہ کا ...

  

رپورٹ(میاں اشفاق انجم) ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں بالعموم اور پنجاب کی یونیورسٹیوں میں بالخصوص عرصہ سے یونیورسٹی اساتذہ کو نظر انداز کرکے اور ان کی سنیارٹی کو پس پشت ڈالتے ہوئے یونیورسٹی کے باہر سے ریٹائرڈ جنرلز، بیوروکریٹ، ماہر تعلیم کو وائس چانسلر لگانے کی روایت جاری ہے یہ سب کچھ جمہوری حکومتوں میں ہی نہیں ہوا بلکہ مارشل لاء دور میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے سنجیدہ حلقوں نے باہر سے من مرضی کے افراد کو مسلط کرنے کے فیصلے کو ہمیشہ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا بعض اوقات تو اسے سیاسی طور پر بھی استعمال کیا گیا باہر سے اگر کسی استاد کو لگایا گیا اس کے خلاف تعلیمی اداروں میں بہت کم احتجاج دیکھنے کو ملا مگر جب کسی ریٹائرڈ فوجی یا ماہر تعلیم کو یونیورسٹی میں لگایا گیا اس کے اثرات مثبت آئے ہوں یا نہ آئے ہوں طالبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ اس یونیورسٹی کے اساتذہ اور سٹاف نے دل سے کبھی قبول نہیں کیا اساتذہ کی تنظیموں، یونیورسٹیز ممبران سینٹ اور سینڈیکیٹ نے باقاعدہ تحریری احتجاج نوٹ کرایا تو بعض حکومتوں نے تسلیم کیا کالج ہویا یونیورسٹی سربراہی کے لئے پہلی ذمہ داری کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی ہے کیونکہ اساتذہ اپنے تعلیمی ادارے کے ماحول، کارکردگی اور اہداف سے زیادہ بہتر اگاہ ہوتے ہیں باہر سے آنے والا استاد ہو یا جنرل اسے یونیورسٹی اور کالج کے ماحول کو سمجھنے کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے ایک پرنسپل یا وائس چانسلر جسے چار سال کے لئے لگایا گیا ہو دوسال کا یونیورسٹی کے اندرونی ماحول کو سمجھنے میں لگ جاتا ہے اساتذہ کی سیاست اور طلبہ کی سرگرمیوں میں آگاہی میں لگ جاتا ہے باہر سے آئے ہوئے وائس چانسلر کو اساتذہ قبول نہیں کرتے تو اساتذہ کی وجہ سے طلبہ طالبات بھی قبول نہیں کر پائے جس کی وجہ سے وائس چانسلر اور اساتذہ اور طلبہ کے درمیان تناؤ کی کیفیت رہتی ہے ان تمام مسائل کا حل ہائر ایجوکیشن اتھارٹی نے نکالا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے تقرر کا کرائی ٹیریا ترتیب دیا جس کے لئے پہلی شرط استاد ہونا ضروری ہوگا سنیارٹی ضروری ہوگی استاد کا پی ایچ ڈی ہونا لازمی ہوگا تمام شرائط کی منظوری سے اساتذہ بڑے خوش تھے اب یونیورسٹی میں اساتذہ کی عزت وقار بحال ہوگا باہر سے من پسند افراد کو بطور وائس چانسلر مسلط کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی یونیورسٹی اساتذہ دل لگا کر محنت کریں گے ان کی مسلسل محنت کو تجربے کی نظر سے دیکھا جائے گا جو استاد سینئر ہوگا پرووائس چانسلر سے وائس چانسلر کی حیثیت سے ترقی پاسکے گا وائس چانسلر کے لئے اس کرائی ٹیریا کی یونیورسٹی سینٹ اور سینڈیکیٹ نے بھی منظوری دے رکھی ہے اور ہائر ایجوکیشن اتھارٹی نے بھی اپنی مہر ثبت کررکھی ہے وائس چانسلر کے چناؤ کے لئے بنائے گئے اس کرائی ٹیریا سے وہ لابی خوش نہیں تھی جو سفارش اور نذرانے اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے اداروں میں مسلط ہوتے رہتے تھے اور اداروں میں مخصوص سیاسی جماعتوں کے مفادات کے حصول کے ساتھ ساتھ ذاتی مفادات بھی اٹھاتے تھے ان کو سخت کرائی ٹیریا بالعموم اور پی ایچ ڈی کی لازمی شرط کسی صورت گوارہ نہیں تھی اس لئے وہ عرصہ سے سازشوں میں مصروف تھے گزشتہ چند ہفتوں سے یہ لابی سرگرم تھی اور ان کے سیاسی پنڈت کام دکھا رہے تھے نئے سال کے آغاز پر یہ لابی کامیاب ہوتی اس وقت نظر آئی جب حکومت کی جانب سے اچانک تجویز سامنے آئی کہ یونیورسٹی وائس چانسلر کے چناؤ کے لئے پی ایچ ڈی کی لازمی شرط ختم کی جارہی ہے وائس چانسلر کے لئے پی ایچ ڈی کی ڈگری لازمی نہیں ہوگی حکومتی تجویز منظر عام پر آتے ہی ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں بالعموم اور پنجاب کی یونیورسٹیوں میں غم غصے کی لہر دوڑ گئی فروری کے شروع ہوتے ہی پی ایچ ڈی کی لازمی شرط ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا تو یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ان کی تنظیموں سمیت یونیورسٹی سینٹ اور سینڈیکیٹ نے اس تجویز کو مستر دکردیا اور باقاعدہ احتجاج کا اعلان کردیا ہے اب ملک بھر کے اساتذہ اور یونیورسٹی سینٹ اورسینڈ یکیٹ ممبران حکومتی فیصلے کے سامنے کھڑا ہونے کے لئے لئے تیار ہیں اجلاس بلائے گئے ہیں دھرنے اور احتجاجی مظاہروں کے شیڈول طے کئے جارہے ہیں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ظفر معین کے استعفی کے بعد یونیورسٹی کے اندر سے مقرر کئے گئے وائس چانسلر ڈاکٹر زکریا کے انتخاب سے اس لحاظ سے خوش تھے یونیورسٹی کے سینئر استاد کو ذمہ داری دی گئی خبر ہے یونیورسٹی کے اساتذہ پر تو حکومت کی نظر پڑی ہے پی ایچ ڈی کی شرط ختم کرنے سے لگتا ہے کہ یہ اساتذہ کی خوشی ادھوری ثابت ہوگی ڈاکٹر زکریا وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کی جگہ بھی نان پی ایچ ڈی وائس چانسلر لگنے والوں کی فہرست منظر عام پر آرہی ہے یوں محسوس ہوتا ہے یونیورسٹی اساتذہ کو ان کے حقیقی حق سے محروم رکھنے میں مصروف لابی کامیاب ہوجائے گی اور پنجاب یونیورسٹی سے نان پی ایچ ڈی وائس چانسلر لگانے کا آغاز ہوجائے گا۔

پنجاب یونیورسٹی سینٹ اور سینڈیکیٹ سمیت اساتذہ نے بھی پی ایچ ڈی ڈگری کے بغیر وائس چانسلر قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنا چاہئے آخر میں اساتذہ کو نظر انداز کرکے باہر سے وائس چانسلر کیوں لگانا چاہتی ہے اگر حکومت سے فوری نوٹس نہ لیا جذباتی فیصلہ کرلیا تو یونیورسٹی میں اساتذہ اور وائس چانسلر آمنے سامنے ہوں گے طلبہ طالبات یقیناً اپنے اساتذہ کے ساتھ ہوں گے یونیورسٹی سے سیاسی مداخلت کی خواہش ہر پاکستانی کی ہے یونیورسٹی سے اساتذہ کو ذمہ داری دینے سے سیاسی مداخلت کا تاثر بھی ختم ہوسکتا ہے۔ تعلیمی ادارے امن کا گوارہ بننے کا خواب بھی پورا ہوجائے گا اساتذہ کو ان کا حقیقی حق بھی ملے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -