جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر!!! نوجوان نسل کی فکری تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے

جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر!!! نوجوان نسل کی فکری تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے

  

،تعلیم کے ساتھ معقول طرزِفکرکاحامل ہوناضروری ہے

نوجوان طبقے کو نظر انداز کر کے ملک ترقی نہیں کر سکتا ہے

زلیخا اویس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زمانے کے انداز بدلے گئے

نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر

حکیم الاُمت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے ان اشعار میں نوجوانوں اور معاشرے دونوں کے لئے ایک انقلابی فکر کا پیغام ہے۔آپ ؒ نے معاشرے کو مثبت رخ سوچنے کی فکر دی ہے ، نوجوانوں کو انقلابی پیغام کی طرف ابھارا ہے اور ایک آزاد اور خود مختار قوم بننے کی ترغیب دی ہے۔

جس قوم کے نوجوان بیدار و باشعور ہوں اس قوم کا مستقبل محفوظ ہوتا جبکہ اسکے برعکس جس قوم کے نوجوان غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہوں وہ قوم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ نوجوانوں کا فعال کردار ہی قومی ترقی کا ضامن ہے اور نوجوان نسل ہی صیح معنوں میں کسی قوم کی افرادی قوت ہے۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے نوجوانوں کو قوم کا مستقبل قرار دیا ، انہیں کام ، کام اور کام ، ایمان اتحاد اور تنظیم کے سنہری اصول عطا کئے۔ علامہ اقبال نہ صرف اپنی شاعری میں جا بجا برائے راست نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہیں بلکہ اقبال کی شاعری کا ایک قابل ذکر حصہ نوجوانوں کے لیے مختص ہے۔ اقبال کو نوجوانوں سے خاصی امیدیں وابسطہ تھیں اور وہ نوجوانوں میں عقابی روح بیدار کرنا چاہتے تھے۔

یہ بہت ضروری ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لئے اس معاشرے کی نئی نسل کی اصلاح کی جائے ۔ نوجوان نسل کی تربیت سے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب ہونگے اور انہی نوجوانوں میں سے بہت سے ایسے نوجوان بھی ابھر کر سامنے آئیں گے جو مستقبل میں اس معاشرے اور ملک کی رہبری کی ذمہ داری سنبھالیں گے ۔ نوجوان وہ طاقت ہیں جو کسی بھی قوم کے عروج کا باعث بنتی ہے۔

طاقتور ممالک کمزور ممالک کو بالعموم اور مسلم ممالک کو بالخصوص ظلم وستم کا نشانہ بنانے کے لئے اپنے سامراجی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں لہٰذابدلتے عالمی حالات میں ایک باوقار قوم کی حیثیت سے شناخت کے لیے نوجوانوں میں غورو فکر اور وحدت فکر کی اشد ضرورت ہے۔ یہ بہت بڑی تقسیم ہے کہ عصری تقاضے اور مذہب الگ الگ ہیں اس غلط سوچ نے نوجوانوں کے فکر کو منتشر کر دیا ہے، ہمارادعویٰ اسلامی ملک کا ہے لیکن ہمارے کردار اور امور اسلامی فکر سے عاری ہیں.اس لئے مستحکم سیاسی و سماجی اور یکساں اقتصادی و معاشی نظام کے لیے دین اسلام کا جامع فکر نوجوانوں میں منتقل کرنا ضروری ہے، جس سے نوجوانوں کو اپنے معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے شعور میسر آئے لہٰذا نئی نسل کاتعلیم کے ساتھ معقول طرزِفکرکاحامل ہوناضروری ہے۔ بلاشبہ علم معاشرے میں انسان کی شناخت اور تشخص کی بہتری کاہی سبب نہیں ہے،بلکہ اس سے بڑھ کرعلم کے ذریعے انسان کی فکری تربیت اور ذہنی پرورش ہوتی ہے جس کے نتائج وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں بھی دیکھتاہے اور اپنے شب و روز کے اعمال و افعال میں بھی۔عام طورپرعلم چاہے وہ دینی ہو یا آج کل کی اصطلاح میں عصری اور دنیوی ،اس کے بارے میں عام تصوریہ ہے کہ انسان چند نصابی کتابوں کو پڑھ لے اور پھر عملی دنیامیں مصروف ہو جائے ، حالا نکہ حقیقی تعلیم محض چند مضامین کی تدریس تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تربیت اس کا ناگزیر حصہ ہے۔ایسی تعلیم،جوبہترین تربیت کے ساتھ حاصل کی جائے، نہ صرف انسان کے دل کی آنکھیں کھول دیتی ہے،بلکہ انسانی شخصیت میں حقیقی نکھار بھی پیدا کرتی ہے۔فرد،خاندان،قوم اور ملک کی کامیابی کے لئے یہی تعلیم حقیقت میں نفع بخش ہے۔یہ انسان کے خیالات اور طبیعت کے سلجھاؤ،اس کے ارادوں،اس کے اندرمدلل اور موثر انداز گفتگو اور اس کے طرزِ فکر میں وسعت و گہرائی اور مثبت تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعہ انسانی شخصیت کی ہمہ جہتی نشوونما ہوتی ہے اوراس نشوونماکااہم پہلو ہے انسان کے سوچنے سمجھنے،غوروفکرکرنے،رائے قائم کرنے اور فیصلہ کرنے میں اعتدال پسندی، فیصلہ کرنے سے پہلے مسئلہ کے جملہ مثبت اور منفی پہلوؤں کاگہرائی کے ساتھ مطالعہ،فریق ثانی کی بات سننے کا حوصلہ،سوچنے کے اسی طریقے کو معروضی،معقول یا سائنٹفک طرزِ فکر کہاجاتاہے اور سائنٹفک طرز فکر کی نشوو نماصرف سائنسی کتب یا سائنسی مضامین کے مطالعے سے حاصل نہیں ہوتی ہے،بلکہ یہ طرز فکر پیدا ہوتا ہے صحیح انداز کی تعلیم و تدریس اور تربیت سے،اچھی انسانی صحبت سے،مختلف علوم کی کتابوں کے غیر جانب دارانہ مطالعے سے۔اس طرزفکرمیں غیر جانبداری،اعتدال پسندی،اپنے نقطہء نظرکو دوسروں پرزبردستی تھوپنے سے گریز، جسمانی،مالی اور افرادی طاقت پر غرور،اس کے اظہار اورغلط استعمال سے اجتناب،دوسروں کی بات کو سننے اور سمجھنے کی ہمت و عادت،سوجھ بوجھ، دور اندیشی،عملی بصیرت اور عواقب و نتائج کا ادراک شامل ہیں۔اس میں کوتاہ اندیشی،گھبراہٹ،ہٹ دھرمی،تنگ نظری،ذراسی بات پر برافروختہ ہوکر کوئی قدم اٹھانا،واقعات کو توڑمروڑ کر کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش جیسی منفی صفات کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان محض اپنے نقطہء نظر اوراپنی رائے پر اڑانہ رہے،صرف اپنی ہی بات نہ کہے بلکہ دوسروں کی بات بھی سنے،اس کے اچھے اور مثبت پہلوؤں کو پہچانے تب کسی نتیجہ پر پہنچ کر کوئی قدم اٹھائے۔اس طرزِ فکر کے پروان چڑھنے میں درسی مضامین کے ساتھ غیر درسی پروگراموں اور کھیلوں کابھی دخل ہے۔انسان کی شخصیت میں سائنٹفک طرزفکرکا ارتقاء انسانی شخصیت کے مجموعی ارتقاء ہی کاایک حصہ ہے،جہاں ایک طرف اس کا گہراتعلق تعلیم وتربیت سے ہے وہیں دوسری طرف بہترسماجی ماحول،گھر اور پڑوس،گھریلواور خاندانی روایات،حلقہء احباب وغیرہ سے بھی ہے جن سے اس کارات دن سابقہ پڑتا ہے۔ یہی چیزیں انسان کی سوچ میں مثبت اور غیر جانبدارانہ انداز پیدا کرتی ہیں۔انہیں سے فرد میں اعتدال پسندی،استدلال میں معقولیت،افہام و تفہیم کا جذبہ،افراد اور واقعات میں مثبت پہلو تلاش کرنے کی عادت،صحت مند تنقید کا مزاج،اختلافی مسائل میں دوسروں کی بات سننے اور دوسروں کے نقطہء نظر کوسمجھنے کی عادت،احساس ذمہ داری،موثر اور باوقارانداز گفتگو،اپنی بات کو دلیل کے ساتھ ثابت کرنے کی عادتیں پیداہوتی ہیں۔یہی تعلیم کا اعلیٰ ترین مقصد ہے اور اسی میں قوموں کی ترقی کا رازپوشیدہ ہے،جس ملک اور معاشرے میں ایسے افراد بکثرت ہوں گے،وہ معاشرہ زیادہ پرسکون،امن پسند،کم سے کم اختلاف کے ساتھ جیواور جینے دوکے اصولوں پر عمل کرنے والا معاشرہ ہوگا،وہاں بھی اختلافات ہوں گے اس لئے کہ اختلاف رائے انسانی زندگی میں ناگزیر ہے،لیکن ان اختلافات کو وہ اپنے اعلیٰ اور مثبت طرز فکر کی وجہ سے تخریب کا باعث نہیں بننے دیں گے۔بلکہ ان میں سے بھی تعمیر کا پہلو نکال لیں گے۔اس طرح کے طرز فکر کوپیدا کرنے میں اہم ترین کردار سمجھدار ماں باپ،پھر تربیت یافتہ استاذ،پھرپورے معاشرے اور قومی وسائل کا ہوتاہے۔اب ہمیں یہ دیکھناچاہئے کہ ہم اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر کس قدر توجہ دے رہے ہیں اوران کے سوچنے سمجھنے کی کس قسم کی صلاحیت کوپروان چڑھا رہے ہیں۔اگر ہم عوامی شعور اور ملکی ترقی کے درمیان موجود ربط پر ایک عمیق نگاہ ڈالیں تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہو جائے گی کہ نوجوان طبقے کا با شعور ہونا ملکی ترقی میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ بات چاہے سماجی تبدیلی کی ہو یا کسی بڑے انقلاب کی نوجوان طبقے کے کردار کر نظر انداز کرنا صریح نا انصافی ہے۔تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کی جائے تو ہم اس حقیقت سے آشنا ہوں گے کہ ترقی کے لئے سماجی اکائیوں کے درمیان توازن پایا جانا بہت ضروری ہے۔نسل نو ہماری سماجی اکائیوں میں سے ایک ہیں۔ ہمیں جدید علوم تو پڑھائے جا رہے ہیں لیکن ہم ان کی سماجی افادیت سے کلی طور پر بے بہرہ ہیں۔ پڑھانے والے اس لئے پڑھاتے ہیں کہ انہیں تنخواہ ملتی ہے اور پڑھنے والے اس لئے پڑھتے ہیں کہ نوکری کے حصول کے لئے ڈگری ضروری ہے۔ آج ہمارے اساتذہ اور شاگرد اپنی زندگی کا اصل مقصد بھلا بیٹھے ہیں انہیں اپنے مفادات عزیز ہیں۔ آج تعلیم برائے شعور کے بجائے تعلیم برائے نوکری جیسے جذبات پنپ رہے ہیں۔ ایسے میں صحت مند معاشرے کا تصور فقط ایک سراب ہے۔

موجودہ صورت حال کا اگر انصاف پسندی کے ساتھ جائزہ لیاجائے تو یہ دیکھ کر افسوس ہی ہوتاہے کہ اگرچہ نئی نسل بتدریج تعلیم کے میدان میں آگے آرہی ہے اور نوجوانوں میں تعلیم کا گراف پہلے کے مقابلے میں بڑھ رہاہے،مگر اس تعلیم کا جونتیجہ خود اس نسل پر اوراس کے واسطے سے معاشرے اور ملک پرمرتب ہونا چاہئے تھا وہ سامنے نہیں آرہا۔ہمارے نوجوانوں میں عام طورپرسوچنے اور سمجھنے کا وہ ا نداز نہیں پایاجاتا جسے معقولیت پر مبنی ، مثبت یا سائنٹفک کہاجاسکتا ہو،اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی بعض ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں جن کی ان سے توقع نہیں کی جاتی۔ جب ان کی طرف سے ایسے اعمال کاصدور ہوتاہے تولوگوں کوحیرت ہوتی ہے کہ ایسا تعلیم یافتہ اور قابل فاضل شخص ایسی حرکت کیسے کرسکتاہے۔وہ اس لئے کہ عموماً لوگوں کا ذہن یہ بنایاہوا ہے کہ جو شخص تعلیم یافتہ ہوگا اس کی سوچ بہت بلند ہوگی اوروہ کسی بھی عمل کے انجام پر بھر پور نظر رکھتے ہوئے اسے انجام دے گا،لیکن چونکہ آج کے تعلیمی مراکز،اسی طرح خود والدین اور خاندان کے ذمے داران و سرپرستان اپنے بچوں کی تربیت پر ویسی توجہ نہیں دیتے جیسی دینی چاہئے،اس لئے بعض نوجوان بڑی سے بڑی ڈگری حاصل کرلینے اور اعلیٰ سے اعلیٰ سرکاری یا غیر سرکاری منصب پر پہنچ جانے کے باوجود ذہنی اور فکری اعتبار سے نہایت کورے اورنابالغ ہوتے ہیں۔

آپ سوشل میڈیااور انٹرنیٹ پر موجود سماجی رابطہ کی دیگر سائٹس پر جاکردیکھئے تواندازہ ہوگا کہ کیسے کیسے پڑھے لکھے اور اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی سیاسی بھیڑیوں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کا 63% فیصدحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے،ایسے میں اگر ہم اپنے نوجوانوں اور ملک و قوم کی تقدیر کو سنبھالنے والی نئی پیڑھی کی درست ذہنی و فکری تربیت پر دھیان نہیں دیتے تو پھر ہمیں آنے والے دنوں میں موجودہ حالات سے بھی زیادہ برے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ اگر ہم پاکستان کو واقعی ایک عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں تو نوجوانوں کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا ۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -