بلڈ پریشر کیسے کنٹرول کیا جائے؟

بلڈ پریشر کیسے کنٹرول کیا جائے؟

  

 عدم اطمینان، بے چینی، بے قراری کے اس دور میں فشار الدم ایک تکلیف دہ اور خوفناک مرض کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک عام انسان خواہ مرد ہو یا عورت اسے ایک دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اس کا بلڈپریشر بڑھ نہ جائے، کسی آدمی کو فالج ہوتا ہے تو تشخیص یہ ہوتی ہے کہ مریض کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ گیا تھا، برین ہیمرج و شریان کے پھٹنے سے ناک کے ذریعہ اتنا خون آنا کہ موت واقع ہو جائے،اس حملہ سے جو لوگ موت سے بچ جاتے ہیں ان کے مرض کا سدباب یہی بلڈپریشر بتایا جاتا ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اچھا بھلا صحت مند انسان جوں ہی کھانا کھاتا ہے تو فوراً ہی دوا بھی استعمال کرتا ہے، پوچھنے پر بتایا جاتا ہے کہ بلڈ پریشر کی دوا صبح و شام استعمال کی جا رہی ہے۔

اسباب: اس مرض کے لئے یہ تعین کرنا کہ اس کا فلاں خواک یا فلاں سبب ہے، ممکن نہیں، مختلف مریضوں میں مختلف حالات میں اس مرض کا سبب مختلف ہوتا ہے، تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ انسان کی خوراک، اس کے معاشی سماجی حالات، گھریلو زندگی کے معاملات اس مرض میں معاون ہوتے ہیں۔ غصہ، جس پر قابو پانے کے لئے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں جو دشمن کو پچھاڑ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے عالم میں خود کو قابو رکھے! کَاظِمینَ الغیظ کا درس قرآن پاک میں دیا گیا۔ حالات اور ماحول کتنا ہی ناسازگار کیوں نہ ہو، انسان صبر، تحمل، بردباری کی صفات کو اپنائے تو اس مرض کے حملہ سے بچ جاتا ہے۔ دوسروں کو معاف کر دینا اور خود کو دوسروں سے ادنیٰ تصور کرنا ہمارے مزاج کو نارضی رکھنے میں مددگار ہے۔

ایسے افراد جو اپنے کھانے پینے سونے جاگنے اور عبادت کے اوقات میں توازن پیدا کر لیتے ہیں وہ اس مرض سے محفوظ رہتے ہیں۔ موجودہ دور جس کو خوش خوراکی کا دور سمجھا جاتا ہے، اس میں مرغن، چٹ پٹے اور مسالہ دار غذاؤں کا رواج عام ہے، موجودہ دور کا انسان مصروف ہے، گھر کا سادہ کھانا میسر نہیں، ہوٹلوں کے کھانے، برگر اور پیزہ (PIZZA) جو حفظ صحت کے اصولوں کے بغیر تیار کئے جاتے ہیں، اس مرض کو بڑھانے میں بنیادی حیثیت اور سبب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اعتدال سے خوراک انسان کے لئے مفید ہے لیکن کسی بھی غذا کا بے جا استعمال اور سیر نہ کرنا خصوصاً پیدل نہ چلنا، بھنے ہوئے مرغ، روسٹ، بازاری کباب، تلی ہوئی مچھلی، تیز مرچ، شادی بیاہ کے کھانوں میں غدا کو لطف اندوز بنانے کے لئے جاوتری، لونگ اور گرم مسالہ کا استعمال، کھانے کے ساتھ سلاد یا دہی کے استعمال سے اجتناب بھی اس مرض کو پیدا کرتا ہے۔

قبض کو اُم الامراض کہا جاتا ہے، میدہ کے نان، ڈبل روٹی، رس، بیکری، باقر خوانی اور ایسی اغذیہ کا استعمال اس کا سبب ہے۔ اگر صحت مند انسان کو اجابت یا خراغت ہو تو ایک حد تک ایسے امراض سے محفوظ رہتا ہے۔

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یا کسی لیبارٹری سے کیمیاوی طور پر اس مرض کا سبب نہ بھی گردانا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی میں معاشی تنگدستی، گھریلو ناچاقی، بے روزگاری، بچوں کی تعلیم کے کمرتوڑ اخراجات، مہنگائی اور ناخالص اغذیہ بھی اس مرض کو جنم دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ ہماری قومی بدقسمتی ہے کہ ’’اشرافیہ‘‘ یا اپر سوسائٹی Upper Society میں مے نوشی رواج پا رہی ہے، عملاً شراب کے رسیا لوگ بھی اس خطرناک مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں شریانوں میں شجیات (FATS) کولیسٹرول کے بڑھنے سے خون کی گردش میں رکاوٹ بھی اس کا باعث ہے۔

علامات: اکثر اوقات مریض کھانے کے بعد سر میں بوجھ، آنکھوں سے حرارت کا نکلنا، کندھوں پر بوجھ، بعض اوقات ہاتھ پاؤں اور چہرے پر جلن محسوس کرتا ہے۔ عام طور پر لوگ اسے ’’گرمی‘‘ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ابتدا میں اگر توجہ دی جائے تو مرض جلد ختم ہو جاتا ہے، ہمارے ہاں صحت کے بارے غفلت اور لاپرواہی عام وطیرہ ہے، یہ بھی المیہ ہے کہ متمدن اور فلاحی ریاستوں میں تیس سال کے بعد ہر شہری کا مکمل میڈیکل چیک اپ مقررہ مدت کے بعد ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول کا بڑھنا اور دیگر امراض کا شائبہ ہوتے ہی مریض کو احتیاط اور اگر ضروری ہو تو دوا سے صحت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ’’مفت علاج‘‘ کے بلند بانگ دعوؤں کے برعکس سینکڑوں ہیلتھ سنٹر ہونے کے بعد ایسی کوئی سہولت میسر نہیں اور عام آدمی بھی ایسی کسی ضرورت کو محسوس نہیں کرتا۔

بلڈ پریشر یا فشار الدم کی اقسام:۔ عام حالات میں بلڈ پریشر کی دو ہی اقسام کو آسانی سے بیان کر سکتے ہیں۔

اولاً۔۔۔ بلڈ پریشر میں زیادتی High Blood Pressure

ثانیاً ۔۔۔ بلڈ پریشر میں کمی Low Blood Pressure

بلڈپریشر کا بڑھنا خطرناک اور فوری توجہ چاہتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کا کم رہنا خطرناک تو نہیں تکلیف دہ ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی علامات کا ذکر ہو چکا ہے تو بلڈ پریشر (Low Blood ressure) میں مریض صبح اٹھنے کو بوجھ محسوس کرتا ہے، جسم میں شدید تھکاوٹ، نقاہت، کندھوں میں درد، پنڈلیوں میں درد، بغیر کوئی مشقت کے کام کرنے کے آرام و سکون کی تلاش، سردیوں میں شدید سردی محسوس ہونا، گرمی میں ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا ہونا، سردرد، دونوں حالتوں میں ممکن ہے۔ جب بلڈ پریشر بڑھا ہوگا، سردرد میں سر پھٹتا محسوس ہوتا ہے، اگر کم پریشر ہو تو سر میں ٹھنڈک اور بوجھ اور نیند کا غلبہ ہوگا۔

علاج: عارضی طور پر جو کہ کسی ہیجان غصہ، نفرت یا غذا کے غلط استعمال کی وجہ سے مرض کی کیفیت ہو اور مریض کو قے آ جائے تو وقتی طور پر یہ مرض ختم ہو جاتا ہے، مریض کو جب عارضی طور پر مرض کی کیفیت ہو تو وقتی دوا کا سہارا جرم نہیں لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی معالج دوا تجویز کرتا ہے تو یہ دوا اتنی دیر کھانی چاہئے جب تک کہ معالج کہے! لیکن عوام میں یہ رویہ پایا جاتا ہے کہ ایک مریض کو دوا سے فائدہ ہوتا ہے تو دوسرا آدمی مشورہ کے بغیر وہ دوا نمونہ کے طور پر لے کر میڈیکل سٹور سے خریدتا ہے اور دوا کو بغیر ضرورت استعمال کرتا ہے جو خطرناک رحجان ہے۔ بلڈپریشر کے لئے عام مستعمل ادویہ پیشاب آور ہیں جن کا تسلسل سے استعمال گردوں کو متاثر کرتا ہے۔

اگر مریض کو عارضی مرض ہو اور موسم گرما میں تربوز میسر آئے تو تربوز یا اس کے پانی کا استعمال کرنے سے فوری افاقہ ہوتا ہے۔ چاٹی کی لسی یا کچی لسی کا استعمال بھی تیز بلڈپریشر کو کم کرتا ہے۔ تازہ پانی میں لیموں کا رس نچوڑ کر استعمال کرنا بھی مفید ہے۔ مستقل مرض کی صورت میں اصولی علاج کے بغیر مرض سے نجات ممکن نہیں۔ مریض کو اگر قبض ہے تو اس کو دور کرنا ضروری ہے۔ مریض کو مستقل طور پر ایسی غذائیں جن سے خون میں حدت بڑھتی ہے مثلاً انڈہ، گوشت، مچھلی، پائے، پراٹھہ، شادی کے پرتکلف کھانے سے بچنا ضروری ہے۔ سادہ غذا کدو، ٹینڈے، شلجم، گاجر یا سادہ شوربہ جس میں نمک نہ ہو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

(1) اسرول (چھوٹی چندن)100گرام، کشنیتر خشک 100گرام، صندل سفید 50گرام، الائچی سبز25گرام، کالی مرچ10گرام، سفوف بنا کر عرق گاؤزبان کے ساتھ چٹکی بھرکر استعمال کریں۔

(2)صندل سفید100گرام، الائچی سبز50گرام، سنبل الطیب50گرام، سفوف تیار کریں۔صبح و شام بعد غذا تقریباً ایک گرام استعمال کریں۔

(3)دروگج عقربی، دھنیاخشک، لیموں کا چھلکا، پودینہ خشک، الائچی سبز، برابر وزن کے سفوف تیار کریں، بعد از غذا تازہ پانی سے استعمال کریں۔

(4) اگر کولیسٹرول زیادہ ہو تو حسب ذیل چٹنی کھانے کے ساتھ استعمال کریں۔

ہوالشافی: ادراک تازہ200گرام، عقدم،دس عدد، ذرشک شیریں150گرام، تازہ دھنیا50گرام، تازہ پودینہ50گرام، انار دانہ دو چمچ ، یا تازہ انار کے دانے سے چٹنی تیار کر لیں ،کھانے کے ساتھ کھائیں۔

بازار میں تیار شدہ ادویہ دوالشفاء4 (ہمدرد) شفائی گولیاں (قرشی)، قرض نشاپن (اشرف لیبارٹرز) حسب ہدایت استعمال کریں۔

لوبلڈ پریشر(جن مریضوں کا بلڈ پریشر کم رہتا ہے۔ وہ نمک والی چائے، نمک ملاکر لیموں کا پانی، انڈہ، مچھلی، ایسے کھانے جن میں بادام پستہ شامل ہو استعمال کریں۔

دنیا کی آبادی کا 12سے 20فیصد طبقہ اس مرض میں مبتلا ہے۔ سیر کو معمول بنا کر اور سادہ غذا کے استعمال سے ہم اس مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اللہ کا ذکر پریشانیوں کو کم کرتا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -