فلم’’ آزاد ‘‘کا پریمئر کاسٹ اور دیگر معروف شخصیات کی شرکت

فلم’’ آزاد ‘‘کا پریمئر کاسٹ اور دیگر معروف شخصیات کی شرکت

  

ایک عرصے سے پاکستانی سنیما کے ریوائیول کے نام پر ہمیں جو فلمیں دیکھنے کو مل رہی ہیں،اس کے بعد شدت سے ماضی کے اُن ڈائریکٹرز کی یاد ستانے لگی ہے جنہوں نے جیسی تیسی بھی سہی مگر تفریحی فلمیں بناکر سنے گوورز کو کم سے کم انٹر ٹین تو کیا۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہم نے ٹی وی ڈرامے اور اشتہاری فلمیں بنانے والے ڈائریکٹرز کی ایسی بے شمار فلمیں دیکھی ہیں جن میں کہانی تو کجا،ایکٹنگ،سنیما ٹوگرافی، ڈائیلاگز، میوزک جیسے شعبوں میں بھی کوئی کمال دکھائی نہ دیا۔ سکرین پلے کسی بھی فلم کی جان ہوتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ نئے فلم میکرز اس کی اہمیت تک سے واقف نہیں۔لیکن زیر نمائش فلم’’ آزاد ‘‘ قدرے بہتر فلم ہے جس کو بے پناہ عوامی پذیرائی مل رہی ہے ۔ اس فلم کا رنگا رنگ پریمئر گزشتہ دنوں لاہور کے سُپر سنیما میں منعقد ہوا جس میں فلم کی کاسٹ کے علاوہ معروف شخصیات نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔فلم کے پریمئر میں شرکت کرنے والوں میں سلمان شاہد،ریحان شیخ اور دیگر شامل تھے ۔فلم’’ آزاد ‘‘میں کامیڈی ، ڈرامہ ، رومانس اور ایک نئے طرز کی کہانی شامل ہے جو شائقین کو اپنے ساتھ ایک دلکش اور خوبصورت سفر پر لے جائے گی۔اس فلم کی ڈسٹریبوشن ایوریڈی گروپ آف کمپنیز نے کی ہے۔ ریحان شیخ ،صنم سعید ، سلمان شاہداور سبرین ہسبانی سمیت بہت سے ادا کاروں نے اس فلم میں کام کیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریحان شیخ نے کہا کہ ہماری فلم انڈسٹری کی جتنی عمر ہے اسے بھارت نہیں تو کم ازکم ایران، ترکی، بنگلہ دیش، سری لنکا کے برابر ہی ہونا چاہئے تھا مگر افسوس ہم نے فلمی مارکیٹ جو پہلے ہی محدود تھی وہ بھی تیزی سے بھارت کے حوالے کردی۔ بھارت نے ہمارے ملک میں موجود غداروں اور مفاد پرستوں کو جس کامیابی سے استعمال کیااس کی مثال نہیں ملتی۔ جدید ٹیکنالوجی کی ایجادات ہمیں اکثرحیران کردیتی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اگرآج دنیا بھرکی اکانومی پرراج کررہے ہیں تو اس میں سب سے اہم کرداربلاشبہ جدید ٹیکنالوجی کا ہی ہے۔ خاص طورپرفنون لطیفہ کے تمام شعبوں کی بات کی جائے توپھرجہاں لوگوں کوانٹرٹین کرنے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والوں کوآج عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ہالی ووڈ اس حوالے سے سرفہرست مانا جاتا ہے۔ جس اندازسے اس فلم انڈسٹری سے وابستہ تکنیک کاروں نے اپنی صلاحیتوں کواستعمال کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہے۔ آج اگرپوری دنیا میں بالی ووڈسٹارزکی فلمیں دیکھی اورپسند کی جاتی ہیں تواس کا کریڈٹ بڑی حد تک جدید ٹیکنالوجی کوہی جاتا ہے ، جس سے استفادہ کرتے ہوئے آج بالی ووڈ والے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کمانے لگے ہیں۔ فلم ’’آزاد‘‘ میں وہ سب کچھ ہے جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری بمعہ حکومت حب الوطنی اور ایسی کسی سرگرمیوں سے قطعی لاتعلق رہتی ہے نتیجہ بھارتی غلط ہندو ثقافت کا زہرہماری نوجوان نسل اور بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے میں مصروف ہیں۔ ہماری قوم یوم آزادی پر بھی بھارتی فلموں کی نمائش سے لطف اندوز ہوکر بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ جو ایک افسوسناک المیہ ہے۔ قیام پاکستان کے کچھ ہی عرصے کے بعد پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش کے حوالے سے اس دور کے حب الوطن چند فلمی شخصیات نے جو کام کیا تھا اسے ہندوستان نے چند برسوں میں خاک میں ملادیا۔ ہماری فلم مارکیٹ جہاں چند برس قبل پہلے تحفے میں مفت بھارتی فلمیں آئیں پھر تھوڑے معاوضے دیکر بھارتی فلموں کی نمائش کا آغاز ہوا۔ اب ناجائز طریقوں سے ہر ماہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ بھارت منتقل ہورہا ہے ۔ اس وقت پاکستان فلم انڈسٹری ایک بار پھر ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ’’آزاد‘‘منفرد موضوع پر بنائی جانے والی فلم ہے ہم اس فلم کو جدید تقاضوں کے مطابق بنا رہے ہیں ۔ فلم کی کہانی چند کرداروں کے گرد گھومتی ہے ہماری فلم میں مقصدیت اور پیغام دونوں ہیں۔ ریحان شیخ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کراچی میں مسلسل اعلیٰ اور معیاری فلموں نے حالات بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے دوسری جانب چند برسوں کے دوران سینکڑوں بھارتی فلموں نے ماسوائے کروڑوں روپے مالی خسارے کے کچھ نہ دیا۔ سینما گھروں کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے ہم نے کروڑوں روپے ضائع کرکے نام نہاد بھارتی بڑے فنکاروں کی فلمیں امپورٹ کرکے عارضی طور پر اپنی فلموں، فنکاروں کو تباہی اور اندھیروں میں چھپا دیا، مگر اب ہمیں خود دوبارہ اپنے فنکاروں اور فلموں کیلئے اپنے جذبے بیدار کرنے ہو ں گے۔ ڈائریکٹرز، کیمرہ مینوں، موسیقاروں کو عزت دیں ان پر سرمایہ کاری کریں تو امید ہے کہ ہم پھر دوبارہ پاکستان فلم انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔ہمارے نزدیک آج بھی یہ بات ایک حقیقت ہے کہ فلم ہندوستان کی ہو یا پاکستان کی وہ نئے دور کے تقاضوں، مسائل اور معاشرے کی عکاسی کرے گی تو ضرور کامیاب ہوگی۔ ماضی میں ہمارے جن فلمسازوں نے کامیاب فلموں سے کروڑوں روپے کمائے۔ جن سینما مالکان کی جائیدادوں میں اضافہ ہوا۔ جن فنکاروں نے بے پناہ نام شہرت اور دولت سمیٹ لی۔ وہ اب دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت کریں۔ اپنے دھیان اور سرمائے کا رخ دوبارہ اپنی فلمی صنعت کی طرف موڑیں۔ ہمیں امید ہے کہ اگر ہمارے موجودہ فلمی لوگ صدقے دل سے دوبارہ کام کرنے میں سنجیدہ ہوگئے تو ضرور ہم محض بھارتی فضول فلموں کی امپورٹ اور مالی نقصان سے چھٹکارہ پالیں گے۔ اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کی بقاء اپنی ہی بنائی ہوئی فلموں میں ہے۔ اپنے ہی فنکاروں، موسیقاروں اور ہنر مندوں میں ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں اپنے اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی سوشل، معاشرتی مسائل، ایکشن، کامیڈی اور دیگر موضوعات پر یادگار اور کامیاب فلمیں بنا کر بھارت سمیت دیگر ممالک کی فلموں سے بہتر کام کیا ہے تو یہ کام اب کیوں نہیں ہوسکتا؟ فلم انڈسٹری میں موجود لوگوں کو چاہیے کہ وہ نامور ہیروز کے ہمراہ اب نئے چہروں کی ضرورت پر بھی زور دیں اور نئے لوگوں کو بھی بہتر مواقع فراہم کریں۔ میوزک کے شعبے پر توجہ دیں۔میوزک کے حوالے سے ریکارڈنگ کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح ہم اپنی ہی بنائی فلموں سے حالات بہتر بنا سکتے ہیں اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اچھی فلم بنانے والوں کی مل کر حوصلہ افزائی کریں۔ اگر فلم انڈسٹری کو دوبارہ عروج پر لانا ہے تو ہم ایک دوسرے کے کام کو سراہا نا شروع کریں۔ فلم کی نمائش پر مل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں۔ فلم میں شامل فنکار دوبارہ سینماؤں میں آکر اپنی فلموں کی پرموشن اور پبلسٹی کے حوالے سے وقت نکالیں۔ اس طرح ہم دوبارہ بہت جلد اپنی فلموں کو دوبارہ مقبولیت دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہمیں فلموں کو بتدریج فنی حوالوں سے بھی بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے؟ اس طرح ہم بھارتی فلموں کے بجائے دوبارہ اپنی ہی بنائی فلموں سے فلم انڈسٹری کو دوبارہ ترقی دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -