طے شدہ پالیسی کے بغیر مساجد، مدارس کے سروے کو روکا جائے‘ اتحاد تنظیمات مدارس

طے شدہ پالیسی کے بغیر مساجد، مدارس کے سروے کو روکا جائے‘ اتحاد تنظیمات مدارس

  

ملتان (سٹی رپورٹر)اتحاد تنظیمات المدارس پاکستان کے قائدین مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، مولانا مفتی منیب الرحمٰن، مولانا ریاض حسین نجفی، مولانا عبدالمالک، پروفیسر ساجد(بقیہ نمبر15صفحہ12پر )

میر، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، صاحبزادہ محمد عبدالمصطفی ہزاروی، مولانا قاضی نیاز حسین نقوی، مولانا یاسین ظفر اور ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ میں کسی طے شدہ پالیسی کے بغیر مدارس و مساجد کے سروے کو روکا جائے۔ اس سے مدارس و مساجد میں بے چینی پیدا ہو گی جو صوبے اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل ناصر جنجوعہ کے توسط سے ہمارے ساتھ مکالمہ کر رہی ہے اور بہت سے معاملات طے پا چکے ہیں صرف قانون سازی کے حوالے سے پیش رفت کا انتظار ہے لیکن اچان صوبہ سندھ کے لئے کبھی پولیس اسٹیشن، کبھی رینجرز اور کبھی ایجنسیوں کے نمائندے ظاہر کر کے کچھ حضرات مدارس و مساجد میں آ رہے ہیں اور پرفارمے بھرنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ اس سلسلے کو روکا جائے۔ سب سے پہلے پالیسی اور طریقہ کار طے کیا جائے اور یہ مدارس کے کوائف صوبائی اور وفاقی سطح پر کون سی وزارت سے متعلق ہوں گے یہ سب امور ابھی طے ہونے ہیں اور پھر اس کے لئے قانون سازی ہونی ہے۔ مدارس و مساجد کے حوالے سے ملک میں الحمدا? امن و سکون ہے مذہبی فضاء بھی پرسکون ہے، مدارس و مساجد سیاسی تنازعات میں کوئی فریق نہیں ہیں تو اس طرح کی اچانک سرگرمی کا سبب کیا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہمیں اعتماد میں لیا جائے جو بھی چیز ملک کے مفاد میں ہو گی ہم اس میں ہر ممکن تعاون کریں گے اور پانچوں تنظیمات سے ملحق مدارس بھی تعاون کریں گے، ہیجان پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -