پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس ایف بی آر کا رقم کی واپسی پر بے بسی ک اظہار

پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس ایف بی آر کا رقم کی واپسی پر بے بسی ک اظہار

  

اسلام آباد(آن لائن) ایف بی آر نے سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاونٹس املاک از خود نوٹس کیس میں رپورٹ جمع کرادی ہے ،رپورٹ میں ایف بی آر نے بیرون ممالک منتقل رقم واپسی پر بے بسی کا ظاہر کر دیاہے اور کہا ہے کہ پانامہ اور دیگر لیکس میں نام آنے والو کی تحقیقات جاری ہیں،پیشہ ورانہ رویہ اور خلوص نیت سے تحقیقات کر رہے ہیں ،ملک کے پیسہ کے ضیائع ہونے کا احساس ہے۔ مختلف وجوہات کی بناپر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔رپورٹ کے مطابق ا یف بی آر کا کہنا ہے کہ رقم کی واپسی اور احتساب کے مطلوبہ نتائج کی راہ میں قانونی قد غنیں حائل ہیں۔بیرون ممالک ساتھ معلومات کی فراہمی کا لیگل فریم ورک موجود نہیں۔ قانون میعاد کو قد غن کو قانون مین ترمیم سے دور کیا جا سکتا ہے۔ لیگل فریم ورک کی رکاوٹ کا دور کرنے کے لیے ٹریٹیز کر رہے ہیں۔ یکم جولائی 2011 سے پہلے کی سرمایہ کاری پر تحقیقات اور کارروائی کی قانون اجازت نہین دیتا۔ نان ریذیڈنٹ سے آمدن کے ذرائع نہیں پوچھ سکتے۔ایف بی آر نے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات اتھاٹیز سے 55 پاکستانیوں کی جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کر لی ہیں ۔متحدہ عرب امارات نے 55 پاکستانیوں کی جئیدادوں سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں ۔29 پاکستانی ایف بی آر میں سالانہ گوشوارے جمع کرا رہے ہیں۔ 31 میں سے صرف 5 نے یو اے ای کی جائیدادوں کو گوشواروں میں ظاہر کیا۔ یو اے ای میں جائیدادیں خریدنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی شروع ہے۔ پانامہ لیکس میں 444 پاکستانیوں کے نام آئے۔ 78 افراد کے ایڈریس نہیں مل سکے۔ 366 پاکستانیو ں کو نوٹسز جاری کیے۔ پانامہ لیکس والے 73 پاکستانی کا موجودہ پتہ یا وجود نہیں۔ پانامہ لیکس میں نام والے 293 افراد میں سے 232 ٹیکس فائلر ہیں۔ ٹیکس فائلر نے آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کو گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا ۔ٹیکس فائلر کی اکثریت نے ہمارے اختیار کو چیلنج کیا ہے۔ پانامہ لیکس کے 61 نان فائلر میں سے 47 سے گوشوارے داخل کرا دیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 72 افراد سے آف شور کمپنیوں سے تعلق، 55 نے لاتعلقی کا اظہات کیا۔ پانامہ لیکس کے 12 افراد دنیا میں نہیں رہے۔ 42 افراد نے نان ریذیڈنٹ کا دعوی کیا ہے۔ 293 افراد میں 242 کے خلاف کاروائی کی۔ چھ کسز میں آڈٹ مکمل کرکے چھ اعشاریہ باسٹھ ارب وصول کیے۔ پنامامہ لیکس سے متعلق 41 کیسز زیر التواء4 ہیں۔ چار افراد کے خلاف کاروائی نان ریذیڈنٹ ہونے پر ختم کی گئی۔ پیراڈائز لیکس کے 38 افراد میں سے 18 ٹیکس فائلر ہیں۔ 20 نان ٹیکس فائلر کو نوٹسز جاری کرکے کاوائی شروع کر چکے ہیں۔ بیس نان فائلر میں سے نو نے ٹیکس ریٹرن فائل کر دیے ہیں۔ چار افراد کو جرمانہ کے نوٹسز، دو افراد کو جرمانہ کا حکم ہو چکا ہے۔

ایف بی آر رپورٹ

مزید :

علاقائی -