نا م ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

نا م ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی)قومی احتساب بیورو (نیب )نے سابق وزیر اعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ، خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تینوں افراد نیب کے ملزمان ہیں اور ان کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات زیر سماعت ہیں، ملزمان کے بیرون ملک فرار ہونے کا خدشہ ہے اس لیے ان ملزمان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، نیب کی طرف سے لکھے گئے خط کے ساتھ تینوں افراد کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تفصیل لگائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کے سربراہی میں قائم کمیٹی نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نیب کے خط کا جائزہ لے گی اور نام ای سی ایل میں ڈالنے ہیں یا نہیں ڈالنے اس متعلق سفارشات تیار کرے گی اور وزارت داخلہ کو بھیجے گی اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے حتمی منظوری وزیر داخلہ دیں گے۔ دوسری طرف وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر فوری عملدرآمد سے صاف انکار کر دیا۔ صرف عدالتی حکم پر ہی نام ای سی ایل میں ڈالے جاتے ہیں، حکام نے جواب دے دیا۔ناروے کے دورے پر گئے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چودھری احسن اقبال نے اس حوالے سے دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ شریف فیملی کے نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ وطن واپسی پر ہو گا اور وہی کریں گے جو آئین اور قانون کے مطابق ہو گا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ آئین کے مطابق، کسی کو آنے جانے سے بلاوجہ نہیں روکا جا سکتا، فیصلہ وزارت داخلہ کے قوانین کے مطابق کیا جائے گا، تمام پیشیوں میں میاں صاحب عدالت جاتے ہیں، اگر ایسا معاملہ ہوتا تو عدالت کو یہ بات کہنی چاہئے تھی، دیکھیں گے کہ معاملہ کسی کو ذاتی طور پر تنگ کرنے کا ہے یا قانونی ہے۔

درخواست

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید 2 ضمنی ریفرنسز دائر کردیے۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز سے متعلق ضمنی ریفرنسز دائر کیے گئے ہیں۔ نیب نے دونوں ضمنی ریفرنسز میں 8،8 نئے گواہ شامل کیے ہیں دونوں ریفرنسز میں نواز شریف سمیت ان کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز بھی ملزم نامزد ہیں۔حسن اور حسین نواز کی آف شور کمپنیوں کی نئی تفصیلات بھی ضمنی ریفرنسز کا حصہ ہیں۔خیال رہے کہ 22 جنوری کو نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے 5 افراد کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز کے سلسلے میں ایک ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق ضمنی ریفرنس میں استغاثہ کے 7 نئے گواہ شامل کیے گئے جن میں سے 2 گواہوں کا تعلق برطانیہ سے ہے۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ضمنی ریفرنس

مزید :

صفحہ اول -