پاکستان نے عالمی واچ لسٹ میں نام ڈالے جانے کی بنیاد ہی ختم کر دی : مفتاح اسماعیل

پاکستان نے عالمی واچ لسٹ میں نام ڈالے جانے کی بنیاد ہی ختم کر دی : مفتاح ...

  

واشنگٹن،اسلام آباد(این این آئی،صباح نیوز) امریکہ نے ناجائز مالیات کیخلاف عالمی سطح کے معیار کا تعین کرنیوالی تنظیم ایف اے ٹی سے مطالبہ کیا ہے پاکستان کو عالمی دہشت گرد مالیاتی واچ لسٹ میں شامل کیا جائے جس کی نگرانی منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والا ایک گروپ کر ے گا۔برطانوی خبرساں ادارے کے مطابق ایف اے ٹی ایف رْکن ممالک کا ایک اجلاس آئندہ ہفتے پیرس میں منعقد ہونیوالا ہے جس دوران تنظیم پاکستان کیخلاف تحریک کی منظوری دے سکتی ہے۔ایف اے ٹی ایف پیرس میں قائم ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو ناجائز ما لیا ت کیخلاف عالمی سطح کے معیار کا تعین کرتا ہے۔پاکستان 2012 ء سے 2015 ء تک ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ پر رہا ہے۔اس حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے نے کہا ہے ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان کوششیں کرتا رہا ہے کہ ان ملکوں کی فہرست میں شامل کیے جانے سے بچ جائے، جن کیلئے کہا جاتا ہے کہ وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی رو سے دہشتگرد مالیاتی ضابطوں پر عملدرآمد پر پورے نہیں اترتے۔ اہل کاروں کو اِس بات کا ڈر لاحق ہے کہ اِس اقدام کے نتیجے میں معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے،وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کیلئے اسی طرح کے بیا نا ت دے رہا ہے، ہمیں سب سے زیادہ اپنے مفادات کو سمجھنا ہو گا۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کئی آپریشن جن میں آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن رد الفساد جاری ہے، ان آپریشن سے ملک میں دہشت گردوں کی جڑیں کاٹ دی گئی ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اب تک 120 ا ر ب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے امریکا کے الزامات بے بنیاد ہیں ان میں حقیقت نہیں جبکہ امریکا پاکستان پر پریشر بڑھانے کیلئے اس طرح کے بیانات دے رہا ہے۔ ہمیں ایسے نازک موقع پر اپنے مفادات کو سمجھنا ہوگا۔وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ پاکستان ایک کھلی کتاب کی طرح ہے ،ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں مالی طور پر بے پناہ نقصان اٹھایا اور بہت ساری جانیں بھی قربان کیں،امریکہ بھارتی لابنگ اور دباؤ میں آ کر پاکستان کو ڈومور کی پوزیشن پر لیجانا چاہتا ہے ،ملک بھر میں جو چھوٹے موٹے ایکشن ہیں وہ کسی ثبوت پر نہیں بلکہ شک کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’نقطہ نظر ‘‘ میں سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا محمد افضل کا کہنا تھا پاکستان کانام گرے لسٹ میں نہیں ہوا ، پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس کا فیصلہ ہمارے خلاف آئے گا ،اس کا ایک طریقہ کار ہے جس پر سارے ممالک کو اس پر عمل کرنا ہے ،ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر ہم نے پورا جواب بنا کے دے دیا ہے اور ہم اس سلسلہ میں میٹنگ کے لئے بھی جا رہے ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف لابنگ ہو رہی ہے، برطانیہ ،فرانس ،جرمنی اور دیگر ممالک کو کہ پاکستان کے اوپر کوئی اضافی سکروٹنی کی جائے جو اس ضابطے کے خلاف ہے ،ہم اس پر پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں اور ساری حکومت اس کام پر لگی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان کا نام گرے لسٹ میں آ گیا تو دنیا بھر میں پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گااور ہندوستان کا بیانیہ کامیابی حاصل کرے گا کہ پاکستان دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے میں سنجیدہ نہیں یا پاکستان میں اس حوالے سے سافٹ کارنر پایا جاتا ہے اور پھر انڈیا بھی ہمیں مزید بلیک میل کرے گا ،دوسرا جب اس قسم کی چیز آجاتی ہے تو پھر اگلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں گرے سے بلیک میں لے جائیں اور پھر پابندیا ں لگ جائیں ،اس کے بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بھی محتاط ہو جاتے ہیں اور وہ محسوس کریں گے کہ اگر پاکستان میں سرمایہ کاری کی تو ان کی انویسٹ منٹ کو پرابلم ہو سکتی ہے۔اسی طرح ہم اپنے منصوبوں کے لئے لانگ ٹرم قرضے حاصل کرنا چاہتے ہیں ،ڈیمز کے لئے اور دیگر منصوبوں پر کام کرنا چاہتے ہیں،اگر ہم پر پابندیاں لگ گئیں تو بینک یہ سمجھیں گے کہ ہم پھر اس پوزیشن میں نہ رہیں کہ ان کے قرضے واپس کر سکیں تو پھر وہ نہ صرف ہمارے قرضے مہنگے کر دیں گے بلکہ ہمیں قرضے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس دہشتگردی کے خلاف قربانیوں سے آگاہ ہے، لسٹ میں نام آنے پر پاکستان کو بہت نقصان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ کیلئے بین الاقوامی قوانین پر عمل پیرا ہیں، ترقی یافتہ ممالک نے مشورہ دیا تو قانون سازی کریں گے۔ وزیر مملکت کہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشتگردی میں کمی ہو رہی ہے، پاکستان تحریک کی مخالفت کے لئے بھرپور دفاع کرے گا۔ رانا افضل کہتے ہیں کہ پوری دنیا نے دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہا، پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کی تجویز سیاسی نوعیت کی ہے۔

واچ لسٹ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے امریکہ جس بنیاد پر پاکستان کا نام دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنیوالی عالمی واچ لسٹ میں شامل کروانا چاہتا ہے ہم وہ بنیاد ختم کر چکے ہیں۔جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کیساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں 37 ممالک ہوتے ہیں اور ہم 25 سے 30 ممالک سے رابطے میں ہیں، متعدد ممالک نے ہمارے اقدامات کو سراہا ہے، ہم اپنا مؤقف دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں اور گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران تو ہم نے بہت اچھے اقدامات اٹھائے ہیں، ہمارے اقدامات کے بعد کوئی تکنیکی وجہ نہیں جس کی وجہ سے پاکستان کا نام واچ لسٹ میں شامل کیا جائے، مختلف ممالک کی جانب سے بھی ہمیں مثبت جواب مل رہا ہے لیکن افسوس ایف اے ٹی ایف جیسی بین الاقوامی تنظیم ایک ملک کی سازش کی وجہ سے اس قسم کی بات کر رہی ہے۔ پاکستان کے قوانین میں بھی سقم تھا لیکن جہاں تک قوانین میں تکنیکی چیزوں کا تعلق ہے تو ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن جب ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ پورا معاملہ بھارت سے متاثر ہو کر اٹھایا جا رہا ہے تو یہ افسوسناک ہے۔ہم نے اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق اپنے فرائض پورے کر دیے ہیں اور اب اب عالمی برادری اس معاملے کو دیکھنا ہے، تمام تر صورتحال کے باوجود ہندوستان جو چاہ رہا ہے وہ شرارت ہے۔قبل ازیں مفتاح اسماعیل کا برطانوی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کہنا تھا امریکہ اور برطانیہ نے چند ہفتے قبل ایک تحریک پیش کی تھی اور بعدازاں فرانس اور جرمنی کو سرپرستی میں شریک بننے پر قائل کیا تھا ۔ ہم اب امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کیساتھ مل کر نامزدگی واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں توقع ہے اگر امریکہ نامزدگی واپس نہیں بھی لیتا، تو ہم اس بات میں کا میاب ہوجائیں گے کہ ہمیں واچ لسٹ میں شامل نہ کیا جائے۔

مفتاح اسماعیل

مزید :

صفحہ اول -