سینیٹ الیکشن کیلئے بھیڑ بکریوں کی طرح منڈی لگی ہوئی ، کروڑوں کی بولیاں لگ رہی ہیں : ارکان قومی اسمبلی

سینیٹ الیکشن کیلئے بھیڑ بکریوں کی طرح منڈی لگی ہوئی ، کروڑوں کی بولیاں لگ رہی ...

  

اسلا م آبا د( نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے کہا ہے سینٹ انتخابات میں بھیڑ بکریوں کی طرح منڈی لگی ہوئی ہے،کروڑوں روپے کی بولیاں لگ رہی ہیں ایسے لوگ ملک کے عوام کی کیا خدمت کریں گے،اس قسم کے لوگوں کی حوصہ شکنی کے لئے قانون سازی ہونی چاہئے،2018 کے انتخابات میں فاٹا کے عوام کو صوبائی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق دیا جائے، سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے کراچی کو بدنام کیا جاتا ہے اس کے مسائل حل نہیں کئے جارہے ہیں، فلم انڈسٹری میں پشتونوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ایوان میں قرارداد پیش کی جائے اور پیغام دیا جائے کہ تخریب کاروں کا کوئی مذہب یا قوم نہیں ہوتی یہ شیطان ہیں۔ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی میں صاحبزادہ طار ق اللہ ، رشید گوڈیل ، جمشید دستی ، عیسیٰ نو ری ، شہریار آفریدی اور مولانا محمد خان شیرانی سمیت دیگر ارکان نے نکتہ اعتراض پر کیا۔علاوہ ازیں وزیر مملکت چوہدری جعفر اقبال نے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کر تے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان صاحب کو چالیس کروڑ کی پیشکش قابل مذمت ہے عمران خان کو جرات کرکے اس کو سامنے لانا چاہئے اور اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ‘مسلم لیگ (ن) کا کارکن بکتا نہیں ہے لودھراں کے ووٹروں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں،انہوں نے سارے ابہام اور مفروضے غلط ثابت کئے سیاست دانوں کو چور کہنے کے بیانیہ کو مسترد کیا اور موروثی سیاست کو بھی مسترد کیا۔دریں اثنا قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ نے اسلام آباد میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور نگہداشت کیلئے بل (علاقہ دارالحکومت اسلام آباد تحفظ اطفال بل 2018)پیش کیا۔ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے رائے شماری کے بعد بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔قومی اسمبلی کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں 17ہزار 862 بچے زیادتی کا شکار ہوئے جن میں 10ہزار 620 لڑکیاں جبکہ 7ہزار242 لڑکے شامل ہیں‘ پولیس کے پاس کل 13 ہزار 267 مقدمات درج ہوئے‘ بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے لیکن عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ پولیس کی ناقص تحقیقات ہیں‘ گزشتہ پانچ سالوں میں نیب میں متروکہ وقف بورڈ کے افسران کے خلاف چھ کیسز رجسٹرڈ ہوئے‘ جی آئی ڈی سی کی اب تک کی کولیکشن 266 بلین کی ہے ملک کے تمام گرڈ سٹیشنوں کی اپ گریڈیشن کا کام 31مارچ 2018 تک مکمل کرلیا جائے گا‘ بلوچستان میں کیسکو کا 156 بلین سے زیادہ کا ڈیفالٹ ہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی میں وزیر انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ ‘ وزیر توانائی عابد شیر علی‘ وزیر مواصلات جنید انوار اور پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی شہزادی عمر زادی ٹوانہ نے وقفہ سوالات کے دوران ارکان کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔

مزید :

صفحہ اول -