اے پی سی اجلاس ، بہارہ کہو ہاؤسنگ سکیم کرپشن کی تحقیقات 9سال سے نا مکمل ، چہئر مین نیب طلب

اے پی سی اجلاس ، بہارہ کہو ہاؤسنگ سکیم کرپشن کی تحقیقات 9سال سے نا مکمل ، چہئر ...

  

اسلام آباد(آن لائن)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ( پی اے سی )نے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے بہارہ کہو ہاؤسنگ سکیم میں مبینہ طور پر کی گئی اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات گزشتہ 9سال سے مکمل نہ کرنے پر چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو27فروری کو طلب کرلیا ۔پی اے سی کے ممبران نے چیئرمین نیب سے مطالبہ کیا کہ وہ نیب کے اندر کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی کریں، انکی موجودگی میں نیب قومی دولت لوٹنے والوں کیخلاف اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔پی اے سی نے نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کی نئی عمارت کی تعمیر میں مبینہ کروڑوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات کا کیس بھی نیب کو بھیج دیا۔پی اے سی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں محمود اچکزئی،نوید قمر ،شفقت محمود،عارف علوی،شیری رحمان،سردار عاشق گوپانگ،میاں منان،شاہدہ اختر علی،ڈاکٹر عذرا اور نذیر سلطان نے شرکت کی ۔ ا جلا س میں وزارت ہاؤسنگ کے مالی سال2015-16ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا،سیکرٹری ہاؤسنگ بابر بھروانہ نے حکومت کے موقف سے اجلاس کو آگاہ کیا۔آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا بہارہ کہو ہاؤسنگ میں فی کنال9لاکھ میں خریدی اور زمین کی کل لاگت 2.8ارب روپے تھی،1.8ارب روپے ادائیگی بھی کر دی گئی،جس کا نوٹس پی اے سی نے لیا اور سب کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے نیب کو کر یمنل انوسٹی گیشن کی ہدایت کی ،نیب نے 8ماہ کے بعد صرف دو صفحات پر مشتمل رپورٹ دی جس پر کسی کے دستخط نہیں ہیں ، ر پو رٹ میں زمین اصل لاگت سے زیادہ خریدنے کا اقرار ہے،50ہزار کنال والی زمین ساڑھے9لاکھ روپے فی کنال میں خریدی گئی ہے ۔ شفقت محمود نے کہا نیب نے 9ماہ ایک سادہ رپورٹ تیار کرنے پر لگائے ہیں جو نیب کی ناقص کارکردگی کا ثبوت ہے،نیب حکام نے کہا شو ا ہد اکٹھے کرلئے ہیں زمین ذیادہ قیمت پر خریدی گئی۔اعظم سواتی نے کہا قمرالزمان چوہدری کی باقیات ابھی تک نیب میں موجود ہیں جو کرپشن کرنے میں مصروف ہے،نیب کے تحقیقاتی افسر داڑھی رکھ کر جھوٹ بول کر قوم کا نقصان کر رہے ہیں،نیب نے ابھی تک کسی کو پکڑا بھی نہیں جبکہ نیب نے خود لکھا ہے زمین زیادہ قیمت پر خریدی گئی ۔ڈاکٹر علوی نے کہا نیب مجرموں کے مرنے کا انتظار کر رہی ہے۔میاں منان نے کہا کاکڑ دور میں زمین خریدی،22 کروڑ کی زمین کے بھی 1ارب80کروڑ لئے گئے،ہمیں نیب کا افسر لگا دیں ایک دن میں فیصلہ کرلیں گے ۔شیری رحمان نے کہا اس سکینڈل کے ملزمان کا نیب کے کرپٹ افسران سے تانا بانا مل رہا ہے تاہم دوسرے مقدمات کو اس سکینڈل سے منسلک نہیں کرنا چاہئے۔جس پرپی اے سی نے نیب کو 15دن میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا گرین پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک عبدالحفیظ اب دھمکیاں دے رہے ہیں،گزشتہ روز انہوں نے میرے دفتر آکر کہا 12 کروڑ روپے فراہم کریں تب حکومت کو راستہ دیں گے۔انہوں نے کہا دو ارب روپے سے زائد کی رقوم عبدالحفیظ عباسی وصول کرچکا ہے وعدہ کے مطابق راستہ فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ بہارہ کہو ہاؤسنگ سکیم الاٹ نہ ہونے سے ہزاروں الاٹی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور ہم نو سال سے لوگوں کو دلاسے دے دے کر تھگ گئے ہیں۔شفقت محمود نے کہا ہمارے سامنے کرپٹ افراد قومی خزانہ لوٹ رہے ہیں اور ہم اتنے بے بس ہیں کہ ان کیخلاف کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔جس پرپبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بہارہ کہو ہاؤسنگ سکیم میں کر پشن سکینڈل کی تحقیقات بھی مکمل کرکے 27فروری کو رپورٹ طلب کر لی ۔پی اے سی نے نوازشریف کے داماد کیپٹن (ر)صفدر کے حلقہ این اے21مانسہرہ میں تین ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی بھی چیئرمین نیب کو ہدایت کی ۔اعظم سواتی نے اجلاس میں انکشاف کیا کہ سی ڈی اے حکام نے مسجد کی تعمیر میں سکریپ کا سریا استعمال کیا تھا معاملہ میڈیا میں آنے پر یہ سریا اب پارلیمنٹ کی تعمیرات میں استعمال ہوا ہے جس کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیاگیا ہے اور قائمہ کمیٹی بھی اس سکینڈل کی تحقیقات کرنے میں مصر و ف ہے۔چیئرمین پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی محکمانہ کمیٹی میں جو آڈٹ اعتراضات نمٹائے جاتے ہیں،اسکی بھی خود تحقیقات کریں تاکہ کرپٹ افسران اور آڈٹ حکام کے مابین ملی بھگت کرکے کرپشن کرنے کے امکان کا خاتمہ ہوسکے۔کمیٹی نے کنٹرولر جنرل کے کردار پر بھی شکوک ظاہر کئے اور ان کی کارکردگی جانچنے پر زور دیا۔چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا افسران سیاستدانوں کے غلط اقد ا مات ماننے سے انکار کردیں جبکہ وزارت خزانہ کو ہدایت کی15 مئی کے بعد فنڈز ہرگز ریلیز نہ کریں اگرریلیز کئے گئے تو ذمہ دار متعلقہ افسران ہوں گے ۔عاشق گوپانگ نے کہا4سال پہلے ہی یہ فیصلہ ہوا تھا لیکن افسران نے تسلیم نہیں کیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا پی اے سی کو بتایا گیا ہے کرپشن کرنے والے مرچکے ہیں۔

اے پی سی اجلاس

مزید :

صفحہ اول -