سال رفتہ میں دہشتگردی کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا : ڈی پی او مردان

سال رفتہ میں دہشتگردی کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا : ڈی پی او مردان

  

مردان (بیورورپورٹ)ڈسٹرکٹ پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہاہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور عوام کے تعاون سے مردان میں گزشتہ ایک سال میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا جو کہ پولیس کی کارکردگی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔مردان میں امن و امان کے قیام میں عوام کے تعاون سے بہتری آئی ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اغواء برائے تاوان کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔جرائم کی بیخ کنی کے لئے پولیس نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے ہیں۔و ہ ریڈیو پختونخوا مردان کے پروگرام کھلی کچہری میں اظہار خیال کررہے تھے۔ پروگرام کے میزبانی کے فرائض جنید یوسفزئی نے سر انجام دیے۔اس موقع پر عوام نے ٹیلی فون اور سوشل میڈیا ذرائع سے اپنے مسائل سے ڈی پی او کو آگاہ کیا جن میں ٹریفک پولیس کے علاوہ مختلف تھانوں اور دیگر اُمور کے بارے میں شکایات شامل تھیں جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائیگا۔پولیس کے تفتیشی نظام کو بہتر بنانے کے لئے صوبے کے مختلف اضلاع میں مخصوص سکولز قائم کر دےئے گئے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار سے لیکر افسر تک کو تربیتی کورسز کرائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لئے ہمارے دروازے ہر وقت کھلے ہیں ۔شرفاء کو مردان میں عزت دی جائے گی جبکہ بدمعاش اور جرائم پیشہ افراد کو مردان سے بھاگنے پر مجبور کر دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ صوبے میں جرائم میں سب سے زیادہ کمی مردان میں آئی ہے۔پولیس میں کرپشن اور رشوت خوری کے لئے زیر و ٹالرینس ہے اور عوام کسی بھی وقت موبائل نمبر0346-1117678پر شکایت کر سکتے ہیں اور شکایت کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائیگا۔آسماء قتل کیس کے حوالے سے ڈی پی او نے کہاکہ گرفتار ملزم نے پولیس اور عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور پولیس کی انتھک محنت کے نتیجے میں 25روز میں ملزم تک رسائی حاصل کر لی ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ڈی پی او نے پولیس میں کئے گئے اصلاحات کے حوالے سے کہاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچانے کے لئے پولیس میں اصلاحات کئے گئے ہیں لیکن عوام کو بھی ان اصلاحات سے فائدہ اٹھانا اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کر نا چاہیئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -