اکادمی ادبیات کا خواتین کے قومی دن پر مذاکرہ کا انعقاد

اکادمی ادبیات کا خواتین کے قومی دن پر مذاکرہ کا انعقاد

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیر اہتمام خواتین کا قومی دن کے حوالے سے پاکستانی ادب میں خواتین کا کردار مذاکرہ و مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر انوار احمد زئی نے کی جب کے معروف دانشور کھتری عصمت پٹیل، ڈاکٹر لبنا عکس، طاہرہ سلیم سوز، مہمان خاص تھے م اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر انوار احمد زئی نے کہا کہ عورت کی اپنی ایک دنیا بھی ہے معاشرے کی سطح پر خاتون قلمکار وں کی تخلیقی اہمیت کا پیمانہ اس میں جاری و ساری ایک مشترکہ احساساتی تجربہ جو تمام نسائی دنیا کو ہمدم بناتا ہے اور ناقابل شکست رشتے میں پروتا ہے یوں ادب ہے ہی یگانگت کا فورم اس میں تزکیر و تانیث کی تقسیم محض ایک مفروضہ ہے دیکھا جائے تو مرد بھی وہ ہی اعلی ادب تخلیق کرتا ہے جو خواتین بھی کرتی ہیں، جن میں کچھ نسائی حسن ظہور کرتی ہے جو اپنے(اینی ما) کو قبول کرتے ہیں مسئلا تحریر کی قدر و قیمت کا ہے اور یہ کہانیاں مضامین اور شاعری آگاہی متحرک ذہن اور اعلی تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہیں، ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ عورت کے خون کارنگ مرد سے مختلف نہیں، نہ ہی اس کی ایک پسلی کم مگر اس کا زندگی کے بارے میں وژن ضرور الگ ہے اور ممتاز ہے اس ویژن کو کس طرح فنی تقاضے نبھاتے ہوئے اظہار کا رویہ دیتی ہے،اس سلسلے میں اسے رعایتی نمبر دینے کی بھی ضرورت نہیں ،بس اتنا دیکھئے کہ اگر عورت کا لکھا نکال دیا جائے تو دنیاء ادب کتنی مفلس اور قدر قلاش رہ جاتی ہے، ۔ اس موقع پر جن شعراء نے کلام سنایا ان میں ،محمد اقبال ڈاکٹر عبدالجبار،خالد نور، اقبال رضوی،اقبال افسر غوری،صدیق راز ایڈوکیٹ،محمد یامین عراقی،غلام مصطفی، سید صغیر احمد جعفری، صبیحہ صبا، فرح دیبا، عشرت حبیب، زارا صنم، زیب النساء زیبی، قمر جہان قمر، عرفان عابدی،دلشاد احمد دہلوی،محمد علی زیدی،تاج علی رعنا، سیدہ شاکرہ شاہ، سیدہ تاج علی ترمزی،سلیم حامد خان، طاہر سلیم سوز،تنویر سخن، سید علی اوسط جعفری، حنا علی،گل افشاں، نثار قریشی،عظیم حیدر سید، سلمیٰ خانم، زاہد حسین، سید گلزار حسین رضوی، سہیل احمد صدیقی شامل تھے، آخر میں ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کی جانب سے سب کا شکر یہ ادا کیا،

مزید :

پشاورصفحہ آخر -راولپنڈی صفحہ آخر -