’’میں نے ذاتی اشتہاروں والی ایک ’کریگ لسٹ‘ میں میری بولنگر کا ایک اشتہار دیکھا جس میں وہ۔ ۔ ۔ ‘‘ 19 سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں گرفتار شخص کا عدالت میں ایسا انکشاف کہ جج صاحب بھی حیران پریشان رہ گئے

’’میں نے ذاتی اشتہاروں والی ایک ’کریگ لسٹ‘ میں میری بولنگر کا ایک اشتہار ...
’’میں نے ذاتی اشتہاروں والی ایک ’کریگ لسٹ‘ میں میری بولنگر کا ایک اشتہار دیکھا جس میں وہ۔ ۔ ۔ ‘‘ 19 سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں گرفتار شخص کا عدالت میں ایسا انکشاف کہ جج صاحب بھی حیران پریشان رہ گئے

  

بولڈر سٹی(ویب ڈیسک)  ایک امریکی شخص کو 19 سالہ لڑکی کے قتل کے بعد جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے انکشاف کیا کہ لڑکی نے کرائے کے قاتل کا اشتہار دیا تھا اور وہ کسی اور کو نہیں خود کو قتل کروانا چاہتی تھی۔

لڑکی کے قاتل 22 سالہ مائیکل لوپیز نے عدالت میں بتایا کہ اس نے امریکا میں ذاتی اشتہاروں والی ایک ’کریگ لسٹ‘ میں 19 سالہ لڑکی میری بولنگر کا ایک اشتہار دیکھا جس میں وہ کسی ایسے اجرتی قاتل کی تلاش میں تھی جو اسے قتل کردے کیونکہ وہ کئی بار خودکشی کے بارے میں سوچ چکی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق  قاتل مائیکل لوپیز نے بتایا کہ پہلے اس نے لڑکی سے بات کرنے کی کوشش کی کہ وہ موت کا خیال ترک کردے لیکن بارہا کوشش کے باوجود وہ اپنی جان لینے پر اصرار کرتی رہی۔ اس کےبعد وہ لڑکی کو ایک سنسان سڑک پر لے گیا اور روڈ کے ساتھ کچھ دور چلنے کے بعد دونوں نے ایک جگہ رک کر دعا مانگی۔

مائیکل لوپیز نے بتایا کہ اس کے بعد میری بولنگر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور اس کے بعد میں نے اس کے سر کی پشت پر رکھ کر گولی چلادی جس سے اس کی فوری موت واقع ہوگئی۔

لوپیز نے اعتراف کیا کہ اس نے نائن ایم ایم پستول سے فائر کرکے لڑکی کو قتل کیا لڑکی نے اسے کوئی رقم نہیں دی بلکہ اسے کہا کہ وہ قتل کے بعد یہ قیمتی پستول بطور معاوضہ رکھ سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -