طالبان نے امریکی عوام کے نام کھلا خط لکھ دیا، سب سے بڑی پیشکش کردی

طالبان نے امریکی عوام کے نام کھلا خط لکھ دیا، سب سے بڑی پیشکش کردی
طالبان نے امریکی عوام کے نام کھلا خط لکھ دیا، سب سے بڑی پیشکش کردی

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان طالبان نے امن عمل کی طرف اہم پیشرفت کرتے ہوئے امریکی عوام کے نام کھلا خط لکھ دیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں افغان جنگ کے حقائق بیان کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ افغان جنگ امریکہ کی تاریخ کی سب سے نقصان دہ جنگ ہے جس میں امریکی عوام کے بچے مر رہے ہیں اور ٹیکسوں کے پیسے ضائع ہو رہے ہیں۔ خط میں امریکی عوام کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں پر زور ڈالیں کہ وہ افغانستان میں جنگ رکوائیں کیونکہ ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کرنا افغان عوام کا حق ہے اور آئندہ 100 سال تک بھی افغان عوام غیر ملکی قبضے کے خلاف لڑیں گے۔ اس خط میں افغان حکومت کو کرپٹ اور انسانی جرائم میں ملوث قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ اپنے اہداف کے حصول میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ اس خط میں مزید کیا کہا گیا ہے کہ امریکہ نے حملے کے وقت تین نعروں کا استعمال کیا تھا۔

افغانستان میں امن و امان مستحکم کرنے کی خاطر دہشت گردی ختم کرنا

ایک قانونی حکومت قائم کر کے قانون نافذ کرنا

منشیات کا خاتمہ کرنا

افغان طالبان کے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے تینوں اہداف کے حصول میں ناکام ہوچکا ہے، جس وقت جارج بش نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت صرف طالبان اور القاعدہ کی موجودگی کا الزام لگایا گیا جبکہ آج افغانستان میں امریکی حکمران افغانستان میں متعدد جنگی گروہوں کی موجودگی تسلیم کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا دعوی ثابت ہوتا ہے کہ امریکا نے افغانستان پر جارحیت کو دوام دینے اور انتشار پھیلانے کے لیے داعش جیسے گروہوں کو خود پیدا کیا ہے۔

اس خط میں افغان حکومت کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ دیگر ممالک میں قوانین کی بات اور ان کے لیے نظاموں کا قیام امریکا کی ذمہ داری نہیں ہے، مگر جارج ڈبلیو بش کے لیے افغانستان پر جارحیت کا دوسرا بہانہ یہاں ایک قانونی حکومت قائم کرنا تھا۔ امریکا نے اس حوالے سے اپنے ہزاروں فوجی قتل کرا کر بھی ایک ایسی حکومت قائم کی، جس نے کرپشن اور لاقانونیت میں عالم ریکارڈ قائم کیا ہے۔ افغان حکومت انتظامی اور مالی بدعنوانی میں عالمی سطح پر پہلا مقام حاصل کر چکی ہے۔ وہ انسانی حقوق کی پامالی میں عالمی سطح پر انتہائی بدنام ہے۔ عوامی املاک پر قبضے اور عالمی امداد میں غبن کی مد میں عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ عورتوں کے خلاف تشدد کے متعلق انتہا درجے کی ظالم ہے۔ امریکی جارحیت کے نتیجے میں قائم ہونے والی بدعنوان انتظامیہ کی تازہ ترین مثال افغانستان کا وہ نظام ہے، جس کے غیرمثالی طور پر دو سربراہ ہیں۔

افغان طالبان کے خط میں امریکہ کے تیسرے ہدف کو بھی ناکام قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب امریکہ نے حملہ کیا تو افغانستان میں 185 ایکڑ رقبے پر پوست کاشت ہوتی تھی لیکن آج یہ رقبہ بڑھ کر 328 ایکڑ ہوگیا ہے جبکہ منشیات کے عادی افراد کی تعداد 30 لاکھ ہوچکی ہے۔

طالبان کی جانب سے امریکی عوام کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے ” آپ دنیا میں خود کے حوالے سے ترقی یافتہ اور مہذب عوام کا دعوی کرتے ہیں، افغانستان میں جنگ کی آگ آپ ہی کی رضامندی سے لگائی گئی ہے، ہم اس حوالے سے فیصلہ بھی آپ حوالے کرتے ہیں۔ کیا آپ زندہ ضمیر کی ر±و سے افغانستان میں قائم کیے گئے نظام اور اس سے منسلک تغیرات، بدامنی، لاقانونیت اور منشیات کی پیداوار میں 87 فیصد اضافے کو اصلاحات سمجھتے ہیں یا انسانیت کے خلاف جرائم؟ آپ کا دیا ہوا ٹیکس افغانستان کے ڈاکوو¿ں اور قاتلوں کی جیبوں میں چلا گیاہے۔ کیا آپ اس پر راضی ہیں کہ آپ کی محنت و مشقت کی رقم افغانستان میں ایک ایسے بدعنوان نظام پر خرچ کی جائے، جسے چلانے والوں کے خلاف عدالت میں کابل بینک سے 900 ملین ڈالر چوری کرنے پر مقدمہ چل رہا ہو؟! کیا آپ کی ثقافت میں قانون لاگو کرنا اِسے کہاجاتا ہے کہ نائب صدر ایسا شخص ہو، جو درجنوں دیگر جرائم کے ساتھ سترسالہ شخص پر جنسی تشدد کے جرم میں ملوث ہو؟ ‘۔

ہم  اس خط میں اپنا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آج افغان باشندے آپ کی فوج اور ہر جابر و ظالم کے خلاف لڑ رہے ہیں، یہ ان کا شرعی، نظریاتی اور ملک و ملت کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔اگر اس مزاحمت میں آپ کی فوج جتنی بھی طاقت ور اور جدید اسلحے سے لیس ہو جائے، ہم اپنے اس دینی، شرعی اور ملی ذمہ داری کو انجام دیتے رہیں گے۔ اگر امریکی حکومت مزید خودساختہ بہانے تراشتے ہوئے افغانستان میں جنگ کو طویل دینے پر اصرار کرتی ہے تو اس سے امریکا کی عالمی ساکھ کومزید نقصان پہنچے گا۔

امریکی حکام کو منتخب کرنے کا اختیار عوام کے پاس ہے اس لیے افغانستان کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈونلڈٹرمپ انتظامیہ کو دباو¿ میں لے کر افغانستان سے قبضہ ختم کیا جائے۔ افغان طالبان نے ابتداءسے امریکا کو بتایا تھا کہ اپنے مسائل کو گفتگو کے ذریعے حل کیا جائے۔ طاقت آزمائی کے نتائج ب±رے ہوتے ہیں۔ آپ نے افغانستان پر امریکی تجاوز کے ب±رے نتائج کو دیکھ لیا ہوگا۔ اگر مزید سو سال تک قوت آزمائی کا تجربہ جاری رہا تو بھی نتیجہ یہی رہے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -