مغل بادشاہوں کی زندگی میں ویلنٹائنز ڈے کی کیا اہمیت تھی؟ جانئے وہ انتہائی حیرت انگیز بات جو کسی کو بھی معلوم نہیں

مغل بادشاہوں کی زندگی میں ویلنٹائنز ڈے کی کیا اہمیت تھی؟ جانئے وہ انتہائی ...
مغل بادشاہوں کی زندگی میں ویلنٹائنز ڈے کی کیا اہمیت تھی؟ جانئے وہ انتہائی حیرت انگیز بات جو کسی کو بھی معلوم نہیں

  

نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) 14 فروری کو دنیا بھر میں محبت کے عالمی دن ’ ویلنٹائنز ڈے‘ کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس دن (14 فروری) کی مغل بادشاہوں کی زندگی میں بھی بڑی اہمیت رہی ہے۔

انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھنے والے ظہر الدین بابر 14 فروری 1483 کو ازبکستان کے علاقے اندیجان میں پیدا ہوئے تھے۔ ظہیر الدین بابر منگول حکمران تیمور کی نسل میں سے تھے جن کی فرگانہ کے گورنر عمر شیخ مرزا کے گھر ولادت ہوئی۔ ظہیرالدین کو 1494 میں فرگانہ کا حکمران منتخب کیا گیا ، انہوں نے 1496 میں ثمرقند فتح کیا لیکن جلد ہی بغاوت کے باعث اس سے محروم ہونا پڑا ۔ شکست کے بعد ظہیرالدین بابر نے 1504 میں کابل کو فتح کیا اور اس کے بعد ابراہیم لودھی کو 1526 میں پانی پت کے میدان میں شکست دے کر بھارت میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔

انڈیا پر سب سے طویل حکمرانی کرنے والے اور تیسرے مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کی زندگی میں بھی 14 فروری کی بہت اہمیت ہے کیونکہ انہیں صرف 13 سال کی عمر میں 1556 کو اسی روز تخت نشین کیا گیا تھا، انہوں نے اسی سال پانی پت کے میدان میں ہیمو کو شکست دے کر اپنی سلطنت کو مضبوط کیا۔

جلال الدین اکبر کے پوتے اور مغل سلطنت کے پانچویں حکمران شہاب الدین محمد خرم (شاہ جہاں) کو بھی 14 فروری 1628 کو تخت نشین کیا گیا، ان کا زمانہ کافی امن و سکون والا رہا جس کی وجہ سے انہوں نے تعمیرات کی طرف زیادہ توجہ دی۔ شاہ جہاں نے بہت سی مشہور تاریخی عمارتیں تعمیر کرائیں جن میں سے دلی کا لال قلعہ اور آگرہ کا تاج محل آج بھی ان کے ذوق کی داد دیتے نظر آتے ہیں۔

شاہ جہاں کے انتقال کے بعد 4 شہزادوں میں بادشاہت کیلئے جنگیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ 14 فروری کو شاہ جہاں کے سب سے بڑے بیٹے داراشکوہ نے اپنے بھائی شجاع کو بہادر پور کے میدان میں شکست دی بعد ازاں داراشکوہ کو اورنگزیب اور مراد نے 30 مئی 1658 کو سموگڑھ کے مقام پر ہونے والی جنگ میں شکست دی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -