وزیر اعلٰی پنجاب کی لیپ ٹاپ سکیم اور دیہی علاقے

وزیر اعلٰی پنجاب کی لیپ ٹاپ سکیم اور دیہی علاقے
وزیر اعلٰی پنجاب کی لیپ ٹاپ سکیم اور دیہی علاقے

  

ہم نے پنجاب کو تعلیمی میدان ایک ایسی مثال بنانا ہے جہاں پر طالب علم بلا رکاوٹ علم کے روشن دریچوں تک رسائی رکھتا ہو، درس گاہیں علم و تحقیق کی آماجگاہیں ہوں اور اساتذہ حقیقی معنوں میں ایک رہنما کا کردار اداکرنے کے قابل ہوں ۔اسی عزم کے ساتھ وزیر اعلٰی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے صوبہ پنجاب کے سکول ، کالجز ، یونیورسٹی لیول کے ذہین طلبہ و طالبات کو مفت لیپ ٹاپ فراہم کرنے کی ، وزیر اعلٰی پنجاب لیپ ٹاپ سکیم، کا آغاز کیا جس کے پہلے تین مرحلوں میں چند سالوں کے دوران بیس ارب روپے کی لاگت سے تین لاکھ دس ہزار لیپ ٹاپ فراہم کیئے جا چکے ہیں۔

چوتھے مرحلے کا لاہور سے آغا ز ہو چکا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں سات ارب روپے کی لاگت سے مزید ایک لاکھ پندرہ ہزار لیپ ٹاپ ہونہارطلبہ و طالبات کو فراہم کیئے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں طلبہ و طالبات میں مفت لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریبات جاری ہیں ۔اسی طرح کی ایک تقریب گزشتہ دنوں اٹک شہر میں بھی منعقد ہوئی جس میں ایسے طلبہ و طالبات جنہوں نے 2017 کے امتحانات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کیں یا پھر 91 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کیئے ، میں171 لیپ ٹاپ تقسیم کیئے گئے۔ اس پروقار تقریب کا اہتمام ڈپٹی کمشنر اٹک رانا اکبر حیات کی زیر نگرانی ہوا جس میں ماہرین تعلیم، سیاسی و سماجی و شخصیات، طلبہ و طالبات کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ مہمان خصوصی صوبائی وزیر پاپولیشن ویلفیئر پنجاب مختیار احمد بھرت نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلٰی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے ویژن کو سراہا۔ تقریب میں طلبہ و طالبات کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا جس سے ان کی بھرپورحوصلہ افزائی ہوئی ۔

یقیناً یہ سکیم صوبائی حکومت اور وزیر اعلٰی پنجاب کی طرف سے ایک قابل تحسین اقدام ہے مگر اس سکیم میں مزید وسعت اور بہتری لانے کی بھی ضرورت ہے۔ اور ایسی پالیسی بنانے ، طریقہ کار اختیار کرنے کی بھی ضرورت ہے جس سے غریب اور کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات بھی مستفید ہو سکیں ۔ اگر تعلیمی سہولیات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو شہروں کی نسبت پنجاب کے دیہاتوں میں یہ سہولیات انتہائی کم ہیں ۔دیہاتوں میں سرکاری سکولوں کی عمارتوں ، اساتذہ کی کمی جبکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی ناپید ہیں ۔ والدین میں ناخواندگی ، غربت اور افلاس بچوں کی تعلیم پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے جس سے ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ جبکہ شہری علاقوں کے طلبہ و طالبات کے والدین کی اکثریت پڑھی لکھی اور وسائل کی حامل ہوتی ہے اور ان طلبہ و طالبات کو اچھے سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں ، ٹیوشن اکیڈمیوں ، ہوم ٹیوشن کی سہولیات بھی میسر ہوتی ہیں، بہتر خوراک ، اچھے تعلیمی اداروں ، ٹیوشن کی بدولت یہ طلبہ وطالبات امتحانا ت میں کافی اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتے ہیں جبکہ دیہی علاقوں کے طلبہ و طالبات کی تعلیمی حالت قدرے مختلف ہے۔ لہذا دیہی علاقوں کے طلبہ و طالبات کے لیے لیپ ٹاپ سکیم کا معیار الگ متعین کیا جائے اور ان کے لیے علیحدہ پالیسی مرتب کی جائے ۔

دوسرا مسئلہ پنجاب کے رہائشی ایسے طلبہ و طالبات کا ہے جو پنجاب میں قائم وفاق کے زیر سایہ تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔یہ طلبہ و طالبات اکثر اوقات پنجاب کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات سے زیادہ نمبر حاصل کرجاتے ہیں اور امتحانات میں بہتر پوزیشنز حاصل کرتے ہیں مگر صوبے کے رہائشی ہونے کے باوجود اس سکیم میں شمولیت سے محروم رہ جاتے ہیں ۔وزیر اعلٰی پنجاب اس لیپ ٹاپ سکیم میں ایسے طلبہ و طالبات کو بھی حصہ دار بنا کر ان کی دعائیں سمیٹ سکتے ہیں جبکہ نہم کلاس سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم شروع کرنے والے طلبہ و طالبات کو بلا امتیاز لیپ ٹاپ فراہم کر دیئے جائیں اور ان کے مستقبل میں بہتری آسکتی ہے کیونکہ ان کا مستقبل کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے ہی وابستہ ہو تا ہے ۔حکومت پنجاب اور وزیر اعلٰی کو چاہیے کہ اس لیپ ٹاپ سکیم کو مزید وسعت دیں اور جو طلبہ و طالبات مقررہ میرٹ پر پور ا نہیں اترتے ان کے والدین کی وساطت سے آسان اقساط پر بلا سود لیپ ٹاپ فراہم کیئے جائیں ۔اس طرح کم آمدنی والے والدین ، چھوٹے سرکاری ملازمین اور پنجاب کے دیہاتوں کے تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات بھی اس سکیم میں شامل ہو سکیں گے۔ بڑے شہروں کی طرح چھوٹے شہروں اور قصبوں میں وائی فائی سروس مفت مہیا کی جائے تاکہ طلبہ و طالبات انٹر نیٹ سہولیات سے استفادہ کر سکیں ۔ اور ان کے تعلیمی عمل میں آسانیاں پیدا ہوں ، وہ آنے والے دور کے چیلنجز کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکیں کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کریں گی جن اقوام کو انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مہارت حاصل ہو گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -