’’ مولوی صاحب مر جاوں گا مگر افیون نہیں کھاوں گا‘‘ توبہ کی نیت سے ایک معروف عالم دین کی خدمت میں حاضر ہونے والے کو جب مولانا نے بھی افیون کھانے کے لئے دی تو اس نے یہ بات کیوں کہی،آپ کو سن کر جھٹکا لگ جائے گا

’’ مولوی صاحب مر جاوں گا مگر افیون نہیں کھاوں گا‘‘ توبہ کی نیت سے ایک معروف ...
’’ مولوی صاحب مر جاوں گا مگر افیون نہیں کھاوں گا‘‘ توبہ کی نیت سے ایک معروف عالم دین کی خدمت میں حاضر ہونے والے کو جب مولانا نے بھی افیون کھانے کے لئے دی تو اس نے یہ بات کیوں کہی،آپ کو سن کر جھٹکا لگ جائے گا

  

کسی گمراہ کو راہ راست میں لانے کے لئے بزرگان دین اور فقہا نے ہمیشہ مصلحت و حکمت سے کام لیا ہے۔ وہ جانتے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی برائی میں غرق ہے تو یکایک چھوڑنے میں اسکو مشکل اور تکلیف ہوگی ،خاص طور پر نشہ جیسی عادت ۔لہذا وہ تدبر اور حکمت سے اسکو بدلتے ہیں ۔ایک بار حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ کی خدمت میں ایک ایسا گنوار شخص آیا اور کہا ’’ مولوی صاحب مجھے مرید کرلو‘‘

حضرت نے فرمایا’’ اچھا بھائی آؤمرید کرلیتے ہیں‘‘آپ نے اس سے جو جو باتیں کہلوائیں مثلاًنماز پڑھو۔۔۔روزہ رکھو سب کچھ کہلوالیا اوراپنی باتیں پوری کرچکے تو اس نے کہا کہ

’’مولوی جی !تم نے افیون سے تو توبہ کرائی نہیں ‘‘

حضرت نے فرمایا ’’بھائی!مجھے کیا خبر کہ تو افیون بھی کھاتا ہے ‘‘

حضرت گنگوہی چونکہ طبیب تھے اور جانتے تھے کہ ایک دم افیون کا چھوڑنا مشکل ہے اور طالب کی حالت کی رعایت ضروری ہے اس لئے آپ نے فرمایا ’’تم جتنی افیون کھایا کرتے ہو میرے ہاتھ پر رکھ دو‘‘

اس نے گولی بنا کر حضرت کے ہاتھ پر رکھ دی۔۔۔حضرت نے اس میں سے کچھ کم کرکے باقی اس کو دے دی اور فرمایا ’’ لو اب اتنی کھالیا کرو۔۔۔بعد میں پھر مشورہ کرلینا۔۔۔‘‘ اس شخص کو جھٹکا لگا،حیران تھا کہ وہ مرید بن کر سدھرنا چاہتا ہے مگر پیر اسے افیقن کھلا رہا ہے۔کچھ دیر خاموش بیٹھ کر کہنے لگا ۔’’اجی مولوی صاحب ! جب توبہ ہی کرلی تو پھر اتنی اور اتنی کیا ‘‘

یہ کہہ کر افیون کی ڈبیہ نکال کر دیوار پر ماری اور یہ کہا ’’،تھوڑی کیا زیادہ کیا۔مولوی جی اب مرجاوں گا ،افیون نہیں کھاوں گا،‘‘

بس یہ کہہ کر چلا گیا۔ شغل افیون کے چھوڑنے سے دست آنے لگے ۔اس نے کہلا کر بھیجا کہ’’مولوی جی دعا کر دیجیو کہ میں اچھا ہوجاؤں مگر افیون نہ کھاؤنگا‘‘

غرض کہ بری حالت تک نوبت پہنچی مرتے مرتے بچا مگر اچھا ہوگیا تندرست ہو کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت سے پوچھا ’’کون ‘‘اس نے بتایا ’’میں افیون والا ہوں‘‘ اور سارا قصہ بیان کیا۔ اس کے بعد دوروپے پیش کیے ۔مولانا نے کسی قدر عذر کے بعد دل جوئی کی غرض سے قبول فرمالئے۔۔۔اس نے کہا

’’ مولوی جی میں تو اس پر خوش ہوں کہ اب دو روپے ماہوار بچاکریں گے۔ پھر میں نے سوچا کہ دین میں دنیا مل گئی ہے۔بس میں نے نفس سے کہا کہ یہ یاد رکھ کر یہ روپیہ تیرے پاس نہ چھوڑوں گا۔۔۔یہ مت سمجھ کہ تجھے دوں گا بلکہ اسی وقت نیت کرلی کہ جتنے روپے کی افیون کھایا کرتا تھا وہ مولوی جی کو دیا کروں گا پس یہ دوروپیہ ماہوار آپ کے پاس آیا کریں گے ‘‘

مزید :

روشن کرنیں -