’تمہیں کیسا لگے گا اگر 17 سالہ کنواری لڑکی۔۔۔‘ برطانیہ میں پاکستانی شہری نے انجانے میں پولیس والے سے ایسا شرمناک ترین سوال پوچھ لیا کہ جان کر ہی انسان کا رنگ لال ہوجائے

’تمہیں کیسا لگے گا اگر 17 سالہ کنواری لڑکی۔۔۔‘ برطانیہ میں پاکستانی شہری نے ...
’تمہیں کیسا لگے گا اگر 17 سالہ کنواری لڑکی۔۔۔‘ برطانیہ میں پاکستانی شہری نے انجانے میں پولیس والے سے ایسا شرمناک ترین سوال پوچھ لیا کہ جان کر ہی انسان کا رنگ لال ہوجائے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارے یہاں بچیوں سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے پے درپے واقعات سامنے آنے پر پوری قوم دل گرفتہ ہے۔ اب ایسی ہی ایک خبر برطانیہ سے سامنے آ گئی ہے اور یہ جان کر ہر پاکستانی کا سرشرم سے جھک جائے گا کہ وہاں یہ درندگی کرنے والا بھی پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 33سالہ مجاہد ارشد نامی اس درندے نے دو کم عمر لڑکیوں کو اغواءکیا اورانہیں منشیات دے کر جنسی زیادتی کانشانہ بنانے کے بعد ان کے گلے کاٹ ڈالے۔ان دو لڑکیوں میں ایک اس درندے کی سگی بھتیجی تھی، جس کی عمر 20سال تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس حیوان نے ان دونوں لڑکیوں کو کنگسٹن میں واقع ایک زیرتعمیر گھر میں لیجا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس نے اپنی بھتیجی سیلین ڈوخران کا گلہ کاٹ کر اس کی لاش فریزر میں ڈال دی جو اس نے خاص اسی مقصد کے لیے خریدا تھا۔ اس کے بعد جب اس نے دوسری 17سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کا گلہ کاٹنا چاہا تو لڑکی نے کہا کہ ”مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے اور میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، مجھے مت مارو۔“ یہ بات سن کر مجرم نے اسے چھوڑ دیا تاہم اس کے گلے پر بھی کافی گہرا زخم آ گیا تھا۔ بعد ازاں یہ لڑکی اس کے چنگل سے نکل کر پولیس کے پاس چلی گئی اور یوں ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں سے اسے عمر قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا ہے اور اسے کم از کم 40سال قید کاٹنی ہو گی۔

عدالت میں برطانوی پولیس کی غفلت بھی سامنے آئی اور معلوم ہوا کہ پولیس اس مجرم کے ارادوں سے آگاہ تھی، اس کے باوجود وہ لڑکیوں کو نہیں بچا سکی۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو پکڑنے کے لیے ایک آپریشن شروع کر رکھا تھا اور اس آپریشن کے تحت ایک پولیس آفیسر نے شناخت بدل کر اس مجرم سے بھی انٹرنیٹ پر رابطہ کیا تھا اور مجرم نے اسے اس 17سالہ لڑکی کی تصاویر بھیجی تھیں اور کہا تھا کہ ”تمہیں کیسا لگے گا اگر 17سالہ کنواری لڑکی تمہیں دے دی جائے اور تم اسے منشیات دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناﺅ؟میرے پاس یہ لڑکی ہے، کیا تم اس کے ساتھ زیادتی کرنا چاہو گے؟“اس کے باوجود پولیس اسے گرفتار کرنے سے قاصر رہی۔واضح رہے کہ عدالت میں سیلین کے قتل کا ذمہ دار دوسری متاثرہ لڑکی کو قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دونوں مجھ سے محبت کرتی تھیں اور حسد میں آ کر اس لڑکی نے سیلین کو قتل کیا۔تاہم وہ یہ الزام ثابت نہ کر سکا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -برطانیہ -