وہ میاں بیوی جنہوں نے ایک چھوٹا سا کام کرکے گوگل کا 300 ارب روپے کا نقصان کروادیا

وہ میاں بیوی جنہوں نے ایک چھوٹا سا کام کرکے گوگل کا 300 ارب روپے کا نقصان ...
وہ میاں بیوی جنہوں نے ایک چھوٹا سا کام کرکے گوگل کا 300 ارب روپے کا نقصان کروادیا

  

برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ کی دنیا پر ’گوگل‘ بلا شرکت غیرے حکمرانی کر رہی ہے، وہ جس ویب سائٹ کو چاہے انٹرنیٹ رینکنگ میں سب سے اوپر کر دے اور جسے چاہے ڈی گریڈ کر دے۔ تاہم اب اسے ان من مانیوں کی ایسی سخت سزا مل گئی ہے کہ آئندہ سرچ انجن میں کسی ویب سائٹ کی رینکنگ کی راہ میں رکاوٹ بننے سے پہلے سوچے گی ضرور۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برطانوی میاں بیوی 51سالہ ایڈم ریف اور 49سالہ شیوآن ریف نے 2005ءمیں نوکریاں چھوڑ کر قیمتوں کا موازنہ کرنے والی ایک ویب سائٹ Foundemبنائی تھی۔ تاہم کچھ عرصے بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ گوگل جان بوجھ کر ان کی ویب سائٹ کو ڈی گریڈ کر رہا ہے اور اس کی بجائے اسی نوعیت کی اپنی ویب سائٹ ’فروگل‘ (جس کا نام بعدازاں تبدیل کرکے ’گوگل پراڈکٹ سرچ‘رکھ دیا گیا تھا)کو سرفہرست رکھے ہوئے ہے۔

ایڈم اور شیوآن نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کئی بار گوگل سے رابطہ کیا لیکن وہاں سے کوئی مثبت جواب نہ آیا۔ تاہم Foundemاس کے باوجود برطانیہ میں اتنی مقبول ہوئی کہ 2008ءمیں چینل 5نے اسے برطانیہ کی قیمتوں کا موازنہ کرنے والی سب سے بڑی ویب سائٹ قرار دے دیا۔ اس کے دو سال بعد سالوں کی جدوجہد کے بعد گوگل نے بھی ان کی ویب سائٹ کو ’وائٹ لسٹ‘ کر دیا جس سے ان کی ٹریفک میں یک دم 10ہزار فیصد اضافہ ہو گیا۔ اس سے انہیں احساس ہوا کہ گزشتہ کئی سالوں میں گوگل جان بوجھ کر ان کا کتنا نقصان کر چکی ہے۔ اس پر وہ برسلز میں قائم یورپی کمیشن برائے مسابقت میں چلے گئے اور گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ ان کے مقدمہ دائر کرنے کی دیر تھی کہ دیگر کئی بڑی ویب سائٹس ،بشمول ییلپ (Yelp)، ٹرپ ایڈوائزر، ایکسپیڈیا اور ڈوشے ٹیلی کام، بھی گوگل کے خلاف اس مقدمے میں فریق بن گئیں۔ اب عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے گوگل کو 2.1ارب پاﺅنڈ (تقریباً 3کھرب26ارب 31کروڑ روپے) جرمانہ کر دیا ہے۔یہ آج تک کسی بھی واحد کمپنی کو ہونے والا سب سے بھاری جرمانہ ہے۔یہ فیصلہ آنے پر شیوآن ریف کا کہنا تھا کہ ”ہمیں یقین تھا کہ ہم یہ مقدمہ جیتیں گے۔ گوگل نے ہمارا بہت زیادہ نقصان کیا تھا۔ اب ثابت ہو گیا کہ ہم نے اس کے خلاف مقدمے کا بالکل درست قدم اٹھایا تھا۔ ہمیں یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -