’یہ بدترین رات تھی، میرا ریپ ہوگیا لیکن پولیس کے پاس نہیں جاسکتی کیونکہ۔۔۔‘ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کا موبائل فون عدالت میں پیش، اس نے اپنی سہیلی کو کیا پیغام بھیجا تھا؟ جان کر ہر شخص افسردہ ہوجائے

’یہ بدترین رات تھی، میرا ریپ ہوگیا لیکن پولیس کے پاس نہیں جاسکتی کیونکہ۔۔۔‘ ...
’یہ بدترین رات تھی، میرا ریپ ہوگیا لیکن پولیس کے پاس نہیں جاسکتی کیونکہ۔۔۔‘ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کا موبائل فون عدالت میں پیش، اس نے اپنی سہیلی کو کیا پیغام بھیجا تھا؟ جان کر ہر شخص افسردہ ہوجائے

  

بیلفاسٹ(مانیٹرنگ ڈیسک) 2016ءمیں ناردرن آئرلینڈ کے رگبی کے دو عالمی کھلاڑیوں پیڈی جیکسن اور سٹورٹ اولڈنگ نے ایک لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا تھا جس کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ گزشتہ روزہونے والی سماعت میں متاثرہ لڑکی کا موبائل فون عدالت میں پیش کیا گیا جس میں واقعے کے بعد اس کی اپنی سہیلی کے ساتھ ہونے والی چیٹنگ موجود تھی۔ اس گفتگو میں لڑکی نے ایسی باتیں اپنی سہیلی سے کہیں کہ سن کر ہر کوئی افسردہ ہو جائے۔ دی مرر کی رپورٹ کے مطابق لڑکی نے اپنی سہیلی کو لکھا کہ ”یہ بدترین رات تھی، میرے ساتھ جنسی زیادتی کر ڈالی گئی اور میں پولیس کے پاس بھی نہیں جا سکتی کیونکہ مجھے زیادتی کا نشانہ بنانے والے دونوں بین الاقوامی کھلاڑی ہیں اور پولیس ان کے خلاف کچھ نہیں کرے گی۔“

رپورٹ کے مطابق یہ دونوں لڑکیاں اس رات بیلفاسٹ کے وی آئی پی علاقے کے نائٹ کلب ’اولیز‘ میں ایک پارٹی میں شریک تھیں۔ متاثرہ لڑکی کی سہیلی نے عدالت میں بتایا کہ ”اس رات ہم اڑھائی بجے تک کلب میں رہیں اور پھر وہاں سے نکل کر گھر جانے کے لیے الگ ہو گئیں۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے میری سہیلی کا پیغام ملا کہ میں واپس آ گئی ہوں اور پیڈی جیکسن کے ساتھ اس کے گھر میں پارٹی میں شریک ہوں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے مجھے اگلی صبح ساڑھے 9بجے جواب دیا اور وہ بہت تشویشناک تھا، اس نے اس پیغام میں بتایا کہ رات کو اس کے ساتھ جنسی زیادتی ہو گئی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ میرے جانے کے بعد پیڈی جیکسن اور کلب میں موجود دیگر اس کے دوستوں کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی۔ وہاں پہلے سے تین لڑکیاں بھی موجود تھیں۔ جب وہ وہاں سے صبح 5بجے کے قریب نکلنے لگی اور بالائی منزل سے اپنا بیگ اٹھانے گئی تو پیڈی اس کے پیچھے چلا گیا اور وہیں اس بیڈ پر گرا لیا۔ اس کے پیچھے سٹورٹ اولڈنگ بھی آ گیا اور دونوں نے میری سہیلی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ ایک تیسرے شخص نے بھی اس سے زیادتی کی کوشش کی لیکن اس وقت اس کی حالت غیر ہو چکی تھی چنانچہ وہ ایسا نہ کر سکا۔ میں نے جب اسے پولیس کے پاس جانے کو کہا تو اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ پولیس ان کے خلاف کچھ نہیں کرے گی۔ تاہم میں اس کے گھر گئی اور اپنے ساتھ لے کر اسے بروک سیکسوئل کلینک بیلفاسٹ لے گئی اور اس کا طبی معائنہ کرایا اور رپورٹ درج کرائی۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -