آسٹریلیا میں پاکستان کی خاتون سفیر کے گھر میں قید غلام بھاگ گیا، اسے کس حال میں رکھا گیا تھا؟ بھاگتے ہی خوفناک تفصیل بتادی، ہر پاکستانی کو پوری دنیا کے سامنے شرم سے پانی پانی کردیا

آسٹریلیا میں پاکستان کی خاتون سفیر کے گھر میں قید غلام بھاگ گیا، اسے کس حال ...
آسٹریلیا میں پاکستان کی خاتون سفیر کے گھر میں قید غلام بھاگ گیا، اسے کس حال میں رکھا گیا تھا؟ بھاگتے ہی خوفناک تفصیل بتادی، ہر پاکستانی کو پوری دنیا کے سامنے شرم سے پانی پانی کردیا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) یہاں پاکستان میں گھریلو ملازمین کو مقید رکھنے اور ان پر تشدد ہونے کی کہانیاں گاہے سامنے آتی رہتی ہیں۔ اب ایسی ہی ایک کہانی آسٹریلیا میں تعینات پاکستانی خاتون سفیر کے گھر سے آ گئی ہے جس نے آسٹریلوی دارالحکومت کنبرا میں واقع اپنے گھر میں ایک ملازم کو غلام بنا کر گھر میں قید کر رکھا تھا اور جب وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا تو ایسی تفصیل دنیا کو بتا دی کہ ہر پاکستانی کو شرم سے پانی پانی کر دیا۔ اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ ’غلام‘ 32سالہ پاکستانی شہری شاہد محمود ہے، جسے پاکستانی سفیر نائیلہ چوہان نے 19ماہ تک اپنے گھر کے تہہ خانے میں قید کیے رکھا۔

شاہد فرار ہو کر کسی طرح وکیل ڈیوڈ ہیلرڈ کے پاس پہنچ گیا جس نے اس کا مقدمہ عدالت میں دائر کر رکھا ہے۔ شاہد نے عدالت میں مترجم کی مدد سے بتایا کہ ”نائیلہ چوہان نے مجھے تہہ خانے میں قید کر رکھا تھا اور دھمکی دے رکھی تھی کہ اگر میں نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو وہ میری ٹانگیں توڑ دے گی۔ اس تہہ خانے کی حالت انتہائی خستہ تھی، صفائی بھی بالکل نہیں تھی اور اے سی تو درکنار کوئی پنکھا تک نہیں لگا ہوا تھا۔ انہوں نے میرے ساتھ نوکری کا جو معاہدہ کیا وہ جعلی تھا۔ اس سارے عرصے میں مجھے ایک بار عید پر صرف 5ڈالر دیئے گئے۔ وہاں مجھ سے 14سے18گھنٹے تک کام لیا جاتا۔ میں نے جتنے دن وہاں گزارے ہیں وہ ایسے ہیں جیسے میں کسی جیل میں رہا ہوں۔پھر میں نے وہاں موجود پاکستانی سکیورٹی گارڈ کو اپنی حالت بتائی۔ اس نے مجھے وہاں سے بھاگنے میں مدد دی اور مجھے بتایا کہ وہاں سے نکلنے کے بعد مجھے کیا کرنا ہے۔“ شاہد کے وکیل مسٹرڈیوڈ نے عدالت کو بتایا کہ ”جب یہ ہمارے پاس آیا تو اس کی جسمانی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ یہ بہت دبلا پتلا اور کمزور تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اسے مناسب خوراک بھی نہیں دی جاتی رہی۔“

مزید :

بین الاقوامی -