2020ء انتخابات کا سال ہے؟

2020ء انتخابات کا سال ہے؟
 2020ء انتخابات کا سال ہے؟

  



لوگوں سے پوچھیں کہ کیا 2020ء انتخابات کا سال ہے تو ان کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ البتہ جب یہ پوچھا جائے کہ آیا 2020ء میں ان ہاؤس تبدیلی آجائے گی تو وہ ضرور ایک مرتبہ رک کر سوچتے ہیں اور آدھی ہاں اور آدھی ناں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نئے انتخابات کے مطالبے کو اپوزیشن، خاص طور پر نون لیگ، عوام میں رجسٹر نہیں کرواسکی ہے! یہ الگ بات کہ نون لیگ ایک ایسی صورت حال میں مڈٹرم انتخابات کے نعرے کے ساتھ میدان میں آئی ہے جب آرمی چیف کی توسیع کے قانون کی حمایت میں ووٹ دینا پارٹی کے لئے ایک داغ بن چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ لوگوں کی کمزور یادداشت کتنی جلدی اس بات کو بھولتی ہے۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ اگر آج نئے انتخابات ہوں تو نون لیگ جیتے گی۔

اسی لئے نون لیگ موجودہ خراب معاشی صورت حال کا حل نئے انتخابات تجویز کرتی ہے۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا اور اب پارٹی کے دوسرے رہنما یکے بعد دیگرے دہرا رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک نواز شریف یا شہباز شریف کے منہ سے ایسی بات نہیں سنی گئی ہے۔ دسمبر میں جب نون لیگ کی قیادت لندن میں ملی تو خواجہ آصف نے میڈیا سے کہا تھا کہ اگر نئے انتخابات ہوتے ہیں تو اس سے قبل ان ہاؤس تبدیلی آنی چاہیئے جو نئے انتخابات کی راہ ہموار کرے۔اس سے قبل نومبر کے مہینے میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ آزادی مارچ کے دوران مذاکرات میں چودھری پرویز الٰہی بھی سمجھتے تھے کہ موجودہ صورت حال کا حل نئے انتخابات ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ مارچ میں انتخابات کی یقین دہانی اور اس سے قبل ان ہاؤس تبدیلی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ اس یقین دہانی پر ختم کیا گیا تھا کہ عمران خان مستعفی ہو جائیں گے اور تین ماہ کے اندر انتخابات کروادیئے جائیں گے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق انہیں تین استعفوں اور فوری انتخابات کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔

بعض تجزیہ نگاروں کے قریب نئے انتخابات کی بجائے ان ہاؤس تبدیلی زیادہ بہتر آپشن ہے جس کے لئے حکومتی اتحادی بھی ممدو معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کی صورت میں شاہد خاقان عباسی بہترین متبادل ہوں گے لیکن شریفوں کا خیال ہے کہ نئے انتخابات کے بغیر وسط مدتی تبدیلی ان کے ووٹ بینک میں نہ صرف ایک بڑا کھپا ڈال دے گی بلکہ اس عمل کا کوئی اخلاقی جواز بھی نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو علم ہے کہ نواز شریف اپنے دوست ممالک کو استعمال کرتے ہوئے اپنا اثرورسوخ بڑھا سکتے ہیں اس لئے وہ جلدی سے ایک ایسی ڈیل کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کی لات اوپر رہے۔ جبکہ شریف فیملی نہ صرف فوری انتخابات بلکہ مریم نواز کے لئے کلین چٹ بھی چاہتی ہے۔ رانا ثنااللہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نون لیگ عبوری سیٹ اپ کی بجائے نئے انتخابات چاہتی ہے۔

ادھر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بھی نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے لئے عرصہء حیات تنگ ہوگیا ہے، ڈیڑھ برس میں آٹا، چینی، گھی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، 20لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے، 11 کھرب کے قرضے لے لئے گئے،اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں۔ٍاسی طرح جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق بھی ان ہاؤس تبدیلی کی بجائے نئے انتخابات کے حامی ہیں۔ ان کے بقول ان ہاؤس تبدیلی سے چھانگا مانگا سیاست کا آغاز ہو جائے گا۔ البتہ پیپلز پارٹی سندھ میں برسر اقتدار ہونے کے باعث نئے انتخابات میں جانے سے کترارہی ہے اور ان ہاؤس تبدیلی پر ہی قانع نظر آتی ہے۔ اسی طرح وہ ایم کیو ایم کو سنٹر میں اپنا ساتھ دینے کے عوض سندھ میں شیئر دینے کو تیار ہے۔ اگرچہ 27 دسمبر2019ء کو راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر بلاول نے کہا تھا کہ 2020ء نئے انتخابات کا سال ہوگا لیکن تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ محض زبان کا غوطہ تھا کیونکہ پی پی پی پنجاب میں انتخابات لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ 2008ء کے انتخابات میں است پنجاب میں 81، 2013 میں 8 اور 2018ء میں 7 نشستیں ملی ہیں۔ اس سے قبل نومبر میں مولانا کے آزادی مارچ میں بلاول نئے انتخابات کے انعقاد کے لئے مولانا کے ہمنوا تھے اور اب کہتے ہیں کہ وہ مارچ کے مہینے میں پی ٹی آئی ایم ایف خلاف نکلنا چاہتے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کب نئے انتخابات کے حوالے سے ایک پیج پر آتی ہے، جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کو یقین نہیں آئے گا کہ 2020ء انتخابات کا سال ہے!

مزید : رائے /کالم