12شعبوں میں تعاون کے لئے پاک ترک معاہدے، تجارتی حجم 5ارب ڈالر تک لیجانے کااعلان، ترکی کیلئے کشمیر کی وہی حیثیت ،جو پاکستان کیلئے ہے: طیب اردوان

          12شعبوں میں تعاون کے لئے پاک ترک معاہدے، تجارتی حجم 5ارب ڈالر تک ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوزایجنسیاں) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر بھی ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے، کشمیری بھائیوں کو حالیہ بھارتی اقدامت سے بہت نقصان ہوا، ترکی مسئلہ کشمیر کو امن اور انصاف کے ذریعے حل کرنے کے فیصلے پر قائم ہے،ایف اے ٹی ایف میں دبا ؤکے باوجود پاکستان کو بھرپور تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہوں،پاکستانیوں نے اپنے پیٹ کاٹ کرکے ہماری مدد کی جسے کبھی نہیں بھول سکتے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے، پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور اس کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، پاکستان میں کبھی بھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کیا، مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، کوئی بھی فاصلہ یا سرحد مسلمانوں کے درمیان دیوار حائل نہیں کر سکتی،فلسطین، قبرص اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے دعا گو ہیں، شام میں ہماری موجودگی کا مقصد مظلوم مسلمانوں کو جابرانہ حملوں سے بچانا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے۔وہ جمعہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کی پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر شان دار استقبال کیا گیا، ارکان پارلیمنٹ اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے، اور ترک صدر کا ڈیسک بجا کر استقبال کیا گیا، مشترکہ اجلاس میں پاکستان اور ترکی کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔۔اپنے خطاب میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہپرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر پاکستان کا شکرگزار ہوں، پاکستان اور ترکی کے تعلقات مذہب اور ثقافت پر مشتمل ہیں، دونوں ملکوں کی قیادت کو یک جا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، ترک قوم کی جدوجہد کے وقت لاہور میں حمایتی جلسوں کو ہم نہیں بھول سکتے، لاہور جلسے میں علامہ اقبال نے بھی خطاب کیا، پاکستان کے شاعر علامہ اقبال ترک عوام کے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر بھی ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے رکھتا ہے، ہمارے کشمیری بھائیوں کو حالیہ بھارتی اقدامت سے بہت نقصان ہوا ہے، ترکی مسئلہ کشمیر کو امن اور انصاف کے ذریعے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کے فیصلے پر قائم ہے، پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)میں دبا ؤکے باوجود پاکستان کو بھرپور تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کی خطے میں دہشتگردی کو ختم کرنے کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ترکی کے سرمایہ کاروں کے بڑے گروپ کے ساتھ یہاں آیا ہوں،میں اپنے تجارتی وفد کے ہم راہ پاکستان آیا ہوں، تجارت سے لے کر بنیادی ڈھانچے اور سیاحت کے لیے ایک روڈ میپ بنائیں گے، پاکستان میں کبھی اجنبی محسوس نہیں کرتا، پاکستان اور ترکی کے تعلقات قابل رشک ہیں، انہوں نے اپنے پیٹ کاٹ کرکے ہماری مدد کی جسے کبھی نہیں بھول سکتے، ہم ترکی کیلئے سجدے میں دعائیں کرنے والوں کیسے فراموش کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے، ہم آپ سے محبت نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے، پاکستان کی کامیابی ترکی کی کامیابی ہے۔ خلافت عثمانیہ کے لیے برصغیر کے مسلمانوں کا کردار فراموش نہیں کر سکتے، خواتین نے اپنے زیور اور جمع پونجی عطا کی، مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں۔ترک صدر نے کہا کہ پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور اس کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، پاکستان میرے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے، پاکستانی عوام کو عزت و احترام سے سلام پیش کرتا ہوں، ان کے خلوص اور مہمان نوازی پر شکرگزار ہوں، آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات سب کیلئے قابل رشک ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان سے تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا پاکستان کی ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہیں، ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے اور یہاں آنے پر بے حد خوشی ہوئی ہے،بہترین مہمان داری پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں،۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کا باہمی تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے، ہمیں پہلے مرحلے میں دوطرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر پھر 5ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں اور ترکی نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے جبکہ ترکی کو بھی مشکل معاشی حالات کا سامنا تھا، ترکی پر سرکاری قرضہ 72فیصد تھا جسے کم کر32فیصد لائے،ترک حکومت اور عوام نے عزم و ہمت سے اپنی مشکلات پر قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے، دونوں ملکوں میں ٹرانسپورٹیشن، صحت، تعلیم توانائی کے شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں، ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، ہیلتھ کیئر کے دنیا کے لوگ ترکی کا رخ کرتے ہیں، ترکی نے جدید ہسپتال تعمیر کئے ہیں، ہیلتھ کیئر کیلئے پاکستانی عوام ترکی آسکتے ہیں، ترک صدر نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ترکی میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور پاکستان کے ساتھ ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری اور سیاحت پر مشترکہ منصوبے بنانے کا عزم کا اظہار کیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ترک ڈرامہ سیریلز پاکستان میں بے حد مقبول ہیں ہمیں مسلم امہ کیلئے مشترکہ میڈیا پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر، ایف اے ٹی ایف اور دہشتگردی سمیت دیگر تمام معاملات میں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ترکی نے صرف مسئلہ کشمیر پر ہی نہیں بلکہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج پھر سے میں ترک صدر طیب اردوان کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ پاکستانی عوام نے ان کی تقریر کو بہت پسند کیا۔ میں نے ترک صدر سے کہا کہ اگر وہ پاکستان میں الیکشن لڑیں تو کلین سوئپ کر جائیں گے۔ جس طرح کشمیریوں پر ظلم کے خلاف ترک صدر نے آواز بلند کی، میں پاکستانی قوم کی طرف سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا علاقہ نہیں ہے۔ کشمیر کے لوگوں کے 6 مہینے سے زیادہ قید میں رکھا گیا ہے، ان کے حقوق سلب کیے ہوئے ہیں۔ بھارت نے کشمیری لیڈرز اور نوجوانوں کو جیل میں ڈالا ہوا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان ا?ج کے ایم او یوز پر دستخظ نئے دور کا ا?غاز ہے۔ دونوں ملکوں کے تجارتی معاملات میں نیا دور آ رہا ہے۔ ان چیزوں سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ اسلاموفوبیا کے خلاف ہم نے تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم دہشتگردی کیخلاف ترک موقف کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرتپاک استقبال پر میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرکے دلی مسرت ہوئی۔ میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ ترکی پاکستان کیساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ترک صدر نے کہا کہ 13 معاہدے پاک ترک تعلقات کی مضبوطی کا مظہر ہیں۔ سٹریٹجک تعاون کونسل دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بہت اہم ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردودوں کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں عمران خان نے کہا کہ طیب اردوان بہت مشہورہیں، پاکستان میں الیکشن لڑیں تو جیت جائیں گے، پہلی بارہے پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے بھی طیب اردوان کو بھرپور داد دی۔۔ترک وزیر تجارت نے کہا کہ دونوں ملکوں میں سٹریٹیجک اکنامک فریم ورک پر اتفاق بڑی کامیابی ہے، پاکستان کے ساتھ مختلف مشترکہ شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بھی اتفاق کیا ہے، دوطرفہ تجارتی حجم 85کروڑ ڈالر ہے، اس میں اضافے کی بہت گنجائش ہے اور ترکی کی کوشش ہے کہ دوطرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر لے جایا جائے۔ پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی پاکستان میں تجارت کے فروغ اور بیرون ممالک کے سرمایہ کاروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتاہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ معشی میدان میں درپیش چیلنجز کا مل کر مقابلہ کریں گے، ترکی پاکستان میں سرمایہ کاری کے علاوہ پاکستانیوں کو ترکی میں کام کرنے کے بھی مواقع فراہم کر رہا ہے اور سعودی عرب کے بعد زیادہ پاکستانی ترکی میں روزگار حاصل کئے ہوئے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور لازوال دوستی پر مبنی ہے جو معاشی، معاشرتی اور محبت میں پیروئے ہوئے ہیں۔ ترک وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان مین سرمایہ کاری کی بحالی کے ترک کمپنیاں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور سیاحت ہیلتھ کئیر سمیت تعلیم و دیگر کئی شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا۔پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمت کی 12 یادداشتوں پر دستخط ہوگئے، یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر رجب طیب اردوان بھی موجود تھے۔ جمعہ کو یہاں تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان کلچر، سیاحت، ٹرانسپورٹ، دفاعی تربیت اور خوراک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔اس موقع پر ریلوے، انفرااسٹرکچر، دونوں ممالک کے سرکاری ٹیلی ویژن سمیت دیگر اہم شعبہ جات میں باہمی تعاون کے ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔پاکستان اور ترکی کے د رمیان تجارت کا حجم بڑھانے کے ایم او یو پر رجب طیب اردوان اور عمران خان نے دستخط کیے۔

طیب اردوان

اسلام آباد (آئی این پی) ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔جمعہ کواعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک کی لازوال دوستی کے اعادہ کے ساتھ ساتھ چیلنجز میں مدد اور حمایت کے جذبے کی یاد دہانی کی گئی جب کہ شاندار تعلقات کو باہمی شراکت داری اور توسیع دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے لازوال تعلقات کے تحفظ پر زور دیاگیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ ڈیکلیئریشن آف اسٹریٹیجک اکنامک فریم ورک اور ایکشن پلان کاخیرمقدم کیا گیا اور پاک ترک ہائی لیول اسٹریٹیجک تعاون کونسل میکانزم پر زور دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑائی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیاگیا، دہشت گردی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ دہشتگردی کو کسی مذہب، قومیت اور تہذیب سے نہیں جوڑا جاسکتا۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی سینکشنز رجیم کا اسکوپ بڑھانے پراتفاق کیاگیا اور اسلاموفوبیا کی بڑھتی لہر اور مسلمانوں کیخلاف حملوں پرتشویش کااظہار کیا گیا، اسی طرح ہائی لیول اسٹریٹیجک کوآپریشن کونسل ورکنگ گروپوں کے نتائج کی توثیق اور دوطرفہ ادارہ جاتی میکانزم پربھی اتفاق کیاگیا۔

اعلامیہ

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ ایوان صدر کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ ایوان صدر کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ دونوں صدور نے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز اور ان سے نبرآزما ہونے کے لئے بھی خصوصی دعا کی۔ دورے پر آئے ترک مہمانوں اور ترک سفارتخانہ کے حکام نے بھی دونوں ممالک کے صدور کے ہمراہ نماز جمعہ میں شرکت کی۔ 

میں نماز جمعہ ادا 

مزید : صفحہ اول