ترکی کا مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ کہنا دنیا کیلئے ٹھوس پیغام: شاہ محمود

  ترکی کا مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ کہنا دنیا کیلئے ٹھوس پیغام: شاہ محمود

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ترک صدر کا مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ کہنا دنیا کیلئے بڑا ٹھوس پیغام ہے، ترک صدر کے مسئلہ کشمیر پر موقف کی ماضی میں مثال نہیں ملتی،ترکی کے ساتھ اقتصادی پارٹنر شپ پر بات چیت جاری ہے،اقتصادی صورتحال کی بہتری کے لیے ترک صدر کا دورہ اہمیت کا حامل ہے، بھارت نے ایف اے ٹی ایف میں ہمارے خلاف لابی کھڑی کی ہے،ترکی کا ایف اے ٹی ایف پر ہمارے موقف کے ساتھ کھڑا ہونا دورے کا اہم مقصد تھا، ملائیشیا اور ترکی سے تعلقات میں خلل ڈالنے والوں کو آج منہ کی کھانی پڑی۔تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ترک صدر نے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے،ترک صدر کے یکجہتی کے پیغام پر کشمیریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ترکی ٹھوس انداز میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترک صدر نے کہا ہمارا ایک تاریخی تعلق ہے، خلافت اور علامہ اقبال کے دور سے لے کر اب تک کا تاریخی تعلق ہے، ترک صدر نے کہا کہ تاریخی تعلقات کو اقتصادی پارٹنر شپ میں بدلنا ہے۔ ترکی کے ساتھ اقتصادی پارٹنر شپ پر بات چیت جاری ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی اور پاکستان میں تعاون کے لیے شعبوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے،ترک صدر کے دورے کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔علاوہ ازیں ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے مخدوم شاہ محمود قریشی سے خصوصی ملاقات کی جس میں پاک ترکی دو طرفہ تعلقات، اہم علاقائی و عالمی امور،ایچ ایل ایس سی سی میکنزم اور باہمی دلچسپی کے متعدد پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ترکی کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکی کی حمایت، نہتے کشمیریوں کیلئے حوصلہ افزائی کا موجب ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ افغان امن عمل اور وسطی ایشیا میں کشیدگی کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا،دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشیدگی کسی بھی فریق کیلیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی -دونوں وزرائے خارجہ نے معاملات کے پرامن حل کیلئے سفارتی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔مزید برآں پاکستان میں اقوام متحدہ کے حال ہی میں تعینات ہونے والے ریزیڈنٹ کووآرڈینییٹر جولیین ہارنیس نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان دنیا کے کسی بھی ملک میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم تلے انسانی ہمدردی اور امداد کی کارروائیوں میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان خطے میں امن و استحقام،سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز کے فروغ سمیت اقوام متحدہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کا خواہش مند ہے۔

شاہ محمود قریشی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں کا نہیں ترکی کا بھی اتنا ہی مسئلہ ہے جتنا پاکستان کا ہے، ترکی جس طرح مسئلہ کشمیر سے اب جڑا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ایف اے ٹی ایف پر ترکی نے پاکستانی مؤقف کی حمایت کی ہے،اگر پاکستان کو ئی ڈاؤن گریڈ کرے گا تو ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان کے ہمرا ہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سٹریٹجک اکنامک فریم ورک پر دستخط ہونا بہت اہم ہے،ترک صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بے بنیاد خبریں دم توڑ گئیں،ترک صدر نے ظاہر کردیا کہ ترکی کے پاکستان کیساتھ تعلقات تاریخی تھے اور آج یہ تعلقات پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہیں،ترک قیادت کو پاکستان سے کوئی شکوہ نہیں، ترکی پاکستان کا بہترین دوست ہے۔انہوں نے کہا کہ ترک صدر کے دورہ پاکستان کے دوران سات اہم نشستیں ہوئیں اور13ایم او یوز پر دستخط ہوئے، دو نئے ورکنگ گروپس ڈیفنس انڈسٹری کارپوریشن اور واٹر اینڈ ایگری کلچر ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون صحیح سمت میں جارہا ہے، ورکنگ گروپس کی تشکیل کے بعد اس تعاون میں مزید تیزی کا امکان ہے، ترک صدر اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان جوائنٹ ڈکلیئریشن پر دستخط کئے گئے ہیں جو بہت اہم ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترک صدر کے دو روزہ دورہ نے ظاہر کردیا کہ ترکی کے پاکستان کے ساتھ تعلقات تاریخی تھے اور آج یہ تعلقات پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہیں، کے ایل سمٹ میں وزیراعظم عمران خان کی شرکت نہ کرنے پر یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ پاکستان کے ترکی اور ملائشیا سے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے ہیں، ہم نے پہلے بھی اس کی وضاحت کی، اس معاملے پر ترک اور ملائشین قیادت کو اعتماد میں لیا ہوا تھا اس وجہ سے انہیں پاکستان سے کوئی شکوہ نہیں، ترک صدر نے واضح کردیا کہ ترکی پاکستان کا بہترین دوست ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امید ہے جن ایم او یوز پر دستخط ہوئے ہیں ان کو عملی شکل دی جائے گی، اس سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔

وزیر خارجہ

مزید : صفحہ اول