سینیٹ، قومی اسمبلی وزیراعظم کے فضل الرحمن پر آرٹیکل 6سے متعلق بیان پر اپوزیشن کا شدید احتجاج

        سینیٹ، قومی اسمبلی وزیراعظم کے فضل الرحمن پر آرٹیکل 6سے متعلق بیان پر ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے مولانا فضل الرحمن پر آرٹیکل 6کامقدمہ بنانے کے بیان پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا،اپوزیشن رہنماؤں بلاول بھٹو زرداری، خواجہ آصف اور مولانااسعد محمود نے وزیر اعظم کے بیان کو ہدف تنقیدبناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمن اور خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے کی خبروں پر وضاحت کرے،احسان اللہ احسان کو بھاگنے دیا جاتا ہے راؤ انوار آزاد ہے،سیاسی قیادت اور رہنماؤں کے خلاف غداری کا مقدمہ بنانے کا بہانہ ڈھونڈا جا رہا ہے،سیاسی مخالفین پر غداری کے مقدمہ بنانا چھوٹا پن ہو گا،اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف اقدامات اورغیر جمہوری ہتھکنڈے ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گے، لٹیرے حکومت کی صفوں میں بیٹھے ہیں،حکومت سے اپیل ہے کہ یہ راستہ مت اپنائے، یہ راستے تباہی کے راستے ہیں، جمہوریت کیلئے ہر حد تک جائیں گے، جتنی قربانیاں جمہوریت مانگے گی اس سے بڑھ کر قربانیاں دیں گے،یہ احتساب کے چمچے بنے ہیں، وزیرامور کشمیر پر قتل کا مقدمہ ہے اس کو کیسے ایوان اور حکومت میں بٹھایا گیا ہے، بیرونی ایجنٹوں کو فارغ کرانا ہمارے لئے ملک کے ساتھ وفاداری ہے،آرٹیکل 6وزیراعظم کے ایران میں ریاست کے اداروں کے خلاف بیان پر لگنا چاہیے تھا، حکومت کو مانتے ہیں نہ اسمبلی کو مانتے ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاکہ ریاست کسی کے خلاف بے بنیاد کیس نہیں بنائے گی، وزیراعظم نے دھرنے پر کوئی بیان نہیں دیا، دھرنا جمعیت علمائے اسلام (ف) کا حق تھا، وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمن کے بیان پر بات کی ہے، مولانا فضل الرحمن کو اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے جس میں کہا تھا کہ دھرنا ختم کریں، حکومت ختم ہو جائے گی، آپ کے ساتھ کس نے وعدہ کیا، آمر کو وردی میں صدر ہم نے منتخب نہیں کیا تھا، اس طرح کے بیانات سے جمہوری نظام کو نقصان ہو تا ہے۔بعد ازاں وزرا ء کی عدم موجودگی کے باعث ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اجلاس سوموار کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)جے یوآئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر آرٹیکل 6 لگانے سے متعلق وزیر اعظم اور فواد چودھری کے بیانات پر سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے، سینیٹر عبدالغفور حیدری کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیاجبکہ چیئرمین سینیٹ نے عبدالغفور حیدری کے بعض الفاظ ایوان کی کارروائی سے حذف کرا دیئے، اپوزیشن ارکان سینیٹر عبدالغفور حیدری، مشاہد اللہ خان اور عثمان خان کاکڑ نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا آئین کے آرٹیکل 62 کی ذیلی شق میں لکھا ہے الیکشن وہ شخص لڑ سکتا ہے جو صوم وصلوٰۃ کا پابند ہو اور گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو، کم از کم وزیر اعظم عمران خان اس بات کے اہل نہیں کہ وہ الیکشن لڑ سکے، وزیر اعظم آئین کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کی شرمناک داستانیں ہیں، آئین کے تحت وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتا، اپنے آپ کو چھوڑ کر ہمیں وہ آرٹیکل دکھاتے ہیں،جنہوں نے سول نافرمانی کی تحریکیں چلانے کی باتیں کی یہ ملک سے غداری ہوتی ہے، جنہوں نے اوور سیز پاکستانیوں کو کہا کہ حوالہ سے پیسے بھیجیں بینکوں کے ذریعے نہ بھجیں یہ غداری ہے، جنہوں نے بجلی گیس کے بل پھاڑے یہ غداری ہے، ہم نے تو آپ کیخلاف کوئی غداری کا مقدمہ درج نہیں کرایا،جو آئین کی پامالی کر رہے ہیں ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ رہا،ماضی میں بھی اس قسم کے حکمرانوں نے بغاوت کے مقدمے قائم کئے،مشرف نے ہم پربغاوت کے مقدمے بنائے آج وہ کہاں ہے،مولانا فضل الرحمن کو گرفتار کر کے دیکھیں تو سہی۔جس پر حکومتی ارکان نے اپنی نشستو ں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا، جبکہ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا آپ اس بات کو ہوا دے رہے ہیں کہ یہاں پر غیر جمہوری طریقہ سے بھی حکومتیں بدلتیں ہیں کن بنیادوں پر انہوں نے یہ بات کی اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، وضاحت توضرور بنتی ہے۔ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہا ناقابل برداشت مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے حکومت نے گندم اور چینی کمی کے حوالے سے انکوا ئری کرائی تھی وہ رپورٹ ایف آئی اے نے حکومت کو دیدی ہے، اسے ایوان میں پیش کیا جائے۔اس موقع پر چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت سے گندم اور چینی کے بحر ان سے متعلق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی۔دریں اثنا سینیٹ نے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل 2020ء،جغرافیائی علامات (رجسٹریشن اور تحفظ) بل 2019ء سمیت 6 بلوں کی منظوری دیدی جبکہ انسانی اعضاء اور ٹشوز کی پیوند کاری (ترمیمی) بل 2018ء پر سمیت متعدد قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کر دی گئیں۔ جمعہ کو اجلاس کے دور ان سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے جغرافیائی علامات کی رجسٹر یشن اور تحفظ کا بل جغرافیائی علامات (رجسٹریشن اور تحفظ) بل 2019ء پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے لیگل ایڈ اور جسٹس اتھارٹی کے قیام کا بل لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل 2020ء پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل مجموعہ ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل 2019ء ایوان میں پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے صدارتی حکم نمبر 15 بابت 1980ء کی تنسیخ کا بل اعلیٰ عدالتوں (عدالتی لباس اور خطاب کا طریقہ کار) حکم (تنسیخی) بل 2020ء ایوان میں پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے جائیداد میں خواتین کی ملکیت کے حقوق کو تحفظ دینے اور محفوظ کرنے کا بل خواتین جائیداد حقوق کے نفاذ بل 2020ء ایوان میں پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے بنکوں کو قومیانے ایکٹ 1974ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل بنکوں کو قومیانے (ترمیمی) بل 2020ء ایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔قبل ازیں سینٹ نے وقفہ سوالات کی کارروائی سے متعلق صرف نظر کی تحریک منظور کرلی۔ اس سلسلے میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے قواعد و ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ 2012ء کے قاعدہ 263 کے تحت مذکورہ قواعد کے قاعدہ 41کے متقضیات سے جو 14 فروری کو وقفہ سوالات سے متعلق ہیں‘ صرف نظر کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

سینیٹ

مزید : صفحہ اول