مواخذہ سے بری ہونے پر صدر ٹرمپ مزید متکبر و بد لحاظ ہو گئے

          مواخذہ سے بری ہونے پر صدر ٹرمپ مزید متکبر و بد لحاظ ہو گئے

  



واشنگٹن(اظہر زمان،تجزیاتی رپورٹ) سینیٹ میں اپنے خلاف مواخذے کے مقدمے سے بری ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کے رویے میں تکبرو بدلحاظی کا عنصر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ غیر جانبدار مبصر، دانشور اور پبلک کا ایک اچھا خاصہ حصہ سمجھتا تھا امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان نے جن دو الزامات کا استغاثہ مواخذے کا مقد مہ چلانے کیلئے سینیٹ بھیجا تھا وہ درست اور حقائق پر مبنی تھا۔ اسے منظور کرانے کیلئے قانونی طور پر دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی لیکن ڈیمو کریٹک پارٹی کے پاس سادہ اکثریت بھی نہیں تھی اور معمولی اکثریت کی حامل ریپبلکن پارٹی نے سرکاری موقف اور پارٹی لائن کے مطابق ووٹ ڈال کر صدر ٹرمپ کو بری کرا دیا۔ صرف ایک سینیٹر میٹ رومنے نے دو میں سے ایک بل میں صدر کیخلاف ووٹ ڈالا۔ پہلے بل میں الزام تھا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرائن میں اپنے ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ امریکہ کے آ ئند ہ صدارتی انتخاب میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی ٹکٹ کے ایک اہم امیدوار اور سابق نائب صدر جوبیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر کیخلاف یوکرائن میں چلنے والے ایک مقدمے کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں کرپشن کے الزامات میں پھنسانے میں مدد دیں۔ جوبیڈن اور ان کے بیٹے نے یوکر ا ئن میں گیس کمپنیوں میں کچھ سرمایہ کاری کر رکھی ہے، صدر ٹرمپ کا مقصد یہ تھا ان کے انتخابات میں اہم حریف کو نقصان پہنچا تو اس کا بالواسطہ انہیں فائدہ پہنچے گا،اس کے بدلے میں صدر ٹرمپ نے یوکرائن کی فوجی امداد بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ صدر ٹر مپ میں دوسرا الزام یہ تھا کہ جب ٹیلی فون کال کو خفیہ طور پر سننے والے دو انٹیلی جنس افسروں نے انسپکٹر جنرل کے پاس شکایت رجسٹر کروائی تو اس کے بعد جب کانگریس تفتیش شرو ع کی تو صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس تفتیش میں ر کاوٹ ڈالی گئی۔سینیٹ سے بری ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کا رویہ خراب ہوتا جا رہا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ متکبر ہو رہے ہیں جس کی دو تازہ مثالیں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے جمعرات کی شام ایک ریڈیو انٹرویو میں خیال ظاہر کیا ہے کہ وہ انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں کی طرف سے صدر کی ٹیلی فون گفتگو کو سننے کی روایت ختم کر سکتے ہیں۔ اس پریکٹس کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی یوکرائن کیساتھ ٹیلی فون گفتگو سنی گئی اور معاملہ مواخذے تک جا پہنچا، صدر ٹرمپ نے ریڈیو انٹرویو میں مزید بتایا ان کے مواخذے سے ان سیاہ دنوں کی یاد تازہ ہو گئی ہے جب سابق صدر نکسن نے واٹر گیٹ سکینڈل کی بناء پر مواخذے کے مقدمے سے قبل ہی استعفیٰ دیدیا تھا، ان پر الزام لگا تھا کہ انہو ں نے اپنے مخالفین کی خفیہ ریکارڈنگ کرائی تھی۔ صدر ٹرمپ کے اکڑ پن کا ایک تازہ مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب اٹارنی جنرل بل بار نے ا عتر ا ض اٹھایا کہ صد ر ٹرمپ کریمنل مقدمات میں ٹویٹ کے ذریعے تبصرے کر کے ان کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں،صدر ٹرمپ کہاں ایسے ریمارکس برداشت کر سکتے تھے فوری جوا ب دیا کہ ”وہ اٹارنی جنرل کے باس ہیں اور انہیں ان کی ہدایات جاری کرنے کا قانونی حق حاصل ہے“ یاد رہے راجر سٹون ریپبلکن پارٹی کی ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے صدارتی انتخا بی مہم کا حصہ تھے وہ اگست 2015ء میں اس سے الگ ہو گئے تھے لیکن صدر کیخلاف خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر کے زیر انتظام گرینڈ جیوری نے ان پر متعدد جرائم کی فرد گذشتہ برس جنوری میں عائد کی تھی جن میں جھوٹی گواہی دینا اور تفتیشی کام میں رکاوٹ ڈالنا شامل تھے، جنوری میں ہی انہیں گرفتار بھی کر لیاگیا تھا اب واشنگٹن ڈی سی کی ایک وفاقی عدالت میں ان کیخلا ف مقدمہ چل رہا ہے،اٹارنی جنرل بل بارکی ہدایت پر پراسیکیوٹرز نے عدالت سے سزا کم سنانے کی درخواست کی تھی اس اقدام کی صدر ٹرمپ نے تعریف کی تھی کیو نکہ ان کے قر یبی اقدام کی صدر ٹرمپ نے تعریف کی تھی کیونکہ ان کے قریبی ساتھی راجر سٹون نے دراصل گذشتہ صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے پر ٹرمپ کو بچا نے کی کوشش کی تھی، صدر ٹرمپ نے یہ تعریف ایک ٹویٹ پیغام کے ذریعے کی تھی، اٹارنی جنرل نے ہر معاملے میں ٹویٹ کرنے کے صدر کے انداز کو عمومی طور پر ناپسند کیا اور خاص طور پر کریمنل معاملات کے بارے میں بتایا کہ ان پر تبصروں سے ان کیلئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں،صدر ٹرمپ اس پربڑھک اٹھے اور فوراً اس اٹارنی جنرل کو رگڑا لگا دیا جو ان کی خوا ہش پر راجر سٹون کیلئے عدالت سے نرمی مانگ رہے تھے۔

اظہر زمان تجزیہ

مزید : صفحہ اول