ملک کو بحران سے نکلانے کیلئے عمران خان کو ہٹا کر کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں: شوکت یوسف زئی

ملک کو بحران سے نکلانے کیلئے عمران خان کو ہٹا کر کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں: ...

  



لاہور(انٹرویو،نعیم مصطفی)وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ہٹا کر ہمارے پاس کوئی دوسری آپشن موجود نہیں جو ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکے اور پاکستان پر سے کرپشن کا دھبہ ختم کرا کے اس کا شمار صف اول کے ممالک میں کروا سکے،ہماری حکومت نے ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز سمیت اعلیٰ سرکاری دفاتر کے اخراجات کم کئے کیونکہ جب تک ہم مقروض ہیں عیاشی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔صوبائی سیکرٹری انفارمیشن سید امتیاز حسین شاہ،نظامت تعلقات عامہ کے سربراہ بہرا مند خان درانی اور ڈی جی پی آر امداد اللہ خان کے ہمراہ لاہور کے تین روزہ دورے پر آئے صوبائی وزیر اطلاعات کے پی کے شوکت یوسف زئی نے ”پاکستان“ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں جتنے ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے یا زیر تکمیل ہیں وہ کسی دوسرے صوبے کے حصے میں نہیں آئے۔ ہم پر میٹرو منصوبے(بی آر ٹی) کے حوالے سے بے جا تنقید کی جا رہی ہے۔بی آرٹی کا ذکر تو ہر کوئی کر رہا ہے لیکن حقائق سے شائد کوئی بھی آگاہ نہیں۔لوگوں کو کنفیوژ کیا جا رہا ہے کیونکہ اپوزیشن کے کچھ لوگ کرپشن کی وجہ سے گرفتار ہوتے ہیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی کے دو تین بھی گرفتار ہو جائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم نے میٹرو جیسا جو بڑا منصوبہ بنایا وہ کوئی اور کر کے نہیں دے سکتا۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ بی آر ٹی انشاء اللہ اپریل 2020ء تک آپریشنل کر دیں گے۔میاں شہباز شریف نے جو یہ کہا کہ پشاور بی آر ٹی پر لاہور،ملتان اور اسلام آباد کی مجموعی لاگت سے بھی زیادہ اخراجات ہوئے اگر وہ یہ ثابت کر دیں تو میں مستعفی ہو جاؤں گا۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، اے این پی کے جو لوگ باہر ٹاک شو میں بیٹھ کر حکومت چلاتے ہیں، بتا رہے ہوتے ہیں کرپشن ہو رہی ہے، کوئی آ کر تصدیق نہیں کرتا۔ بریکنگ نیوز آتی ہے، ہمارا موقف لیا جاتا ہے لیکن اسے مناسب شائع یا نشر نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹورازم کے حوالے سے بڑی سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے، کچھ عرصے بعد آپ کو نظر بھی آ جائے گا۔ برطانوی میگزین میں بھی آیا ہے کہ پاکستان ٹورسٹ کے لئے بہتر اور نمبر ون ملک ہے۔ پہلی دفعہ معیشت کو بہتر کرنے کے لیے کام شروع ہوا ہے اور کسی حکومت نے غیر مقبول فیصلے لئے ہیں۔تین چار مہینے بعد آپ ریلیف محسوس کریں گے،میں تسلیم کرتا ہوں کہ مہنگائی بھی ہے، بے روز گاری بھی،لیکن اس مہنگائی کی وجوہات بھی ہیں، حل نکالنے سے پہلے لوگوں کو اس کی وجوہات بتانی چاہئیں۔ڈالر ڈی ویلیو ہوگیا، قیمتیں خود بخود بڑھ گئیں،لیکن ایسا ہوا کیوں؟قرضے تو آپ لیتے گئے، لیکن قرضوں کی ادائیگی کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ جب ہم آئے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 19 بلین پر پہنچ چکا تھا۔پہلے سال میں وہ 19بلین سے لاکر 6بلین پر کر دیا۔ اس کے اثرات کیسے نکلیں گے، بالکل مختلف ہوں گے،کوشش ہو رہی ہے اس سال اس کو زیرو پر لے آئیں۔جو ذمہ دار تھے وہ لوگ چلے گئے ہمیں یہ سب چیزیں وراثت میں ملیں۔اس کو ٹھیک کرنا تھا، ہم بھاگے نہیں، عمران خان بھاگا نہیں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ آتے ہی 5ارب ڈالر ہم نے واپس کرنے تھے یہ کہاں سے آتے، زر مبادلہ کے ذخائر نیچے آ گئے تھے۔اس کے باوجود وزیراعظم نے دوست ممالک، اِدھر اُدھر سے کر کے قسط پوری کی یوں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔آسان حل یہ تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔ ابھی ہم رو رہے ہیں کہ ڈالر 155پر ہے،اگر ملک ڈیفالٹ کر جاتا پاکستان کا کیا حشر ہوتا۔ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹکتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوات موٹروے اپنے پیسوں سے ریکارڈ ٹائم کے اندر بنائی ہے۔ کوئی ہمیں چھ مہینوں کے اندر حیات آباد جیسا چار رویہ پل بنا کر دکھائے۔ ہم اپنے صوبے میں جو بجلی بناتے ہیں سب سے سستی ہے دو یا اڑھائی روپے یونٹ بنتا ہے، لیکن اس قوم اور ملک کی خاطر ہم نیشنل گرڈ میں ڈال دیتے ہیں اور وفاق سے یہی بجلی واپس 13سے 14روپے میں لیتے ہیں۔ اب مولانا فضل الرحمن یا جماعت اسلامی کے لوگ جو پاکستان کے قیام کے بھی مخالف تھے وہ اب ہمارے لوگوں کو اکساتے تھے۔ ہمارے صوبے کی ساکھ خراب کرنے کے لئے دانستہ میڈیا پر پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ ہیلتھ کارڈ سسٹم، پناہ گاہیں، غریب لوگوں کے لیے دیگر پیکیجز متعارف کرانا وزیراعظم کا خواب تھا جو اب پورا ہو رہا ہے۔

شوکت یوسف زئی

مزید : صفحہ اول