واسا کی گنجان آبادیوں میں فضلا ملے پانی کی فراہمی، شہری یرقان میں مبتلا

واسا کی گنجان آبادیوں میں فضلا ملے پانی کی فراہمی، شہری یرقان میں مبتلا

  

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارلحکومت میں واسا نے شہریوں کو سیوریج ملے بدبودار پانی کے حوالے کر دیا ایسا پانی پینے سے لاکھوں لوگ ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہو رہے ہیں اور پانی کے استعمال سے یرقان میں مبتلا ہونے والے درجنوں شہری جان کی بازی ہار رہے ہیں۔باغ منشی لدھا کا جواں سالہ قدیر چوہدری بھی یرقان میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار گیاجس کے باعث چار بچے یتیم ہو گئے۔بتایا گیا ہے کہ شہر کی پانچ بڑی آبادیوں ساندہ،راوی روڈ سے ملحقہ آبادی سمادھی گنگا رام،باغ منشی لدھا راوی روڈ،مدینہ کالونی،والٹن روڈ اس وقت مکمل طور پر سیوریج سے ملے جلے پانی کے رحم و کرم پر ہیں۔جہاں کئی ماہ سے لوگوں کو آلودہ پانی پینے کو مل رہا ہے اور زیادہ تر ان آبادیوں کے لوگ پیٹ کی بیماریوں اور خصوصاً ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہو رہے ہیں مگر واسا ان آبادیوں کے لوگوں کو آلودہ پانی سے نجات دلوانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔واسا حکام کی عدم توجہ کے باعث اکثرفلٹریشن پلانٹس سے بھی بدبو دار پانی آنا شروع ہوگیا ہے۔ساندہ لاہور کی ایک پسماندہ اور قدیم آبادی ہے جو صداقت پارک، جوائے شاہ روڈ،مسلم پورہ،محلہ نصیر آباد،احاطہ مزار چپ شاہ،دھوپ سڑی،عثمان گنج،سمیت دیگر آبادیوں پر مشتمل ہے۔یہ گنجان آباد ی ہے جہاں کم و بیش 10 لاکھ کے قریب افراد رہائش پذیر ہیں۔ساندہ کی آبادیاں جوائے شاہ روڈ، احاطہ مزار چپ شاہ،مسلم پورہ،دھوپ سڑی کے علاقوں میں سرکاری نلکوں سے پانی دستیاب نہیں ہے۔اکثر ٹیوب ویل بند یا پھر خراب ہیں۔جوائے شاہ روڈ پر تین سال قبل ٹرنک سیوریج لائن بچھائی گئی جس کی ایک بار بھی صفائی نہیں ہوئی جس کے باعث یہ سیوریج لائن گندگی سے بھر چکی ہے اور جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔اکثر گلیاں اور محلے سیوریج کے گندے پانی سے بھرے رہتے ہیں جس کے باعث سرکاری نلکوں سے سیوریج ملا بد بو دار اور غلیظ پانی آتا ہے۔علاقہ کے ایکسیئن،ایس ڈی او سمیت ایم ڈی واسا کو بھی اہل محلہ کی طرف سے متعدد بار شکایات کی گئیں لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔لال سکول، چاندنی چوک اور مزار احاطہ چپ شاہ میں لگے فلٹریشن پلانٹ سے بدبودار پانی آتا ہے جس سے علاقہ کے ہزاروں طلباء و طالبات سمیت افراد سیوریج ملاپانی پینے پر مجبور ہیں۔ مکینوں جمیل اشرف،عثمان چودھری،رانا جاوید،قاری عبدالستار،چوہدری محمد صادق،طاہر ممتاز،کاشف افضل،محمد بوٹا،مصطفی زیدی،محمد کمال،عبدالمنان،چوہدری عمران فاروقاور دیگر نے وزیر اعلیٰ پنجاب،گورنر پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ساندہ مکینوں کو سیوریج ملے پانی سے نجات دلانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور لال سکول چاندنی چوک اور احاطہ مزار چپ شاہ میں لگے فلٹریشن پلانٹس سے مکینوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔دریں اثناء مدینہ کالونی کے رہائشی حاجی غلام حسین نے بتایا کہ ہمیں بدبودار پانی پینے کو مل رہا ہے لوگ اس پانی سے غسل بھی نہیں کر سکتے۔سمادھی گنگا رام راوی روڈ کے گھروں میں پانی میں کیڑے مکوڑے بھی آتے ہیں۔اس حوالے سے ڈی ایم ڈی واسا اسلم نیازی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ جہاں آلودہ پانی کی شکایات ملتی ہیں فوری ایکشن لیا جاتا ہے ان آبادیوں سے ایسے پانی کی شکایات ملی تو فوری کاروائی کریں گے۔

آلودہ پانی

مزید :

صفحہ اول -